تصوّف (Mysticism) روحانیت کی اصطلاح ہے۔ दिल्ली

تصوّف (Mysticism) روحانیت کی اصطلاح ہے۔ فرد کے روحانی تجربے کو ’’تصوّف‘‘ کہتے ہیں۔

ڈاکٹر سراج احمد مصباحی


تصوّف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صاحبِ حال کے تجربے میں آتا ہے۔ شریعت وہ عمرانی قوانین ہوتے ہیں جن کے تجربے میں تمام انسان شامل ہیں لیکن صوفی کے حال میں دوسرا شخص شامل نہیں۔ یہ فرد کی مکمل تنہائی کا تجربہ ہے، جو ناقابلِ بیان ہے، یعنی اس تجربے کا ابلاغ (Communication) نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ ’’ابلاغ‘‘ عمرانی عمل ہے۔

پیغمبر بھی صوفی ہوتا ہے لیکن وہ تنہائی کے روحانی تجربے کے بعد واپس عمرانیات (معاشرہ) میں آتا ہے۔ جب کہ صوفی روحانی تنہائی میں ہی رُک جاتا ہے۔

مسیحی تصوف میں ’’فلاطینوس‘‘ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جب کہ مشرقی تصوف میں علامہ ابنِ عربی نے ’’وحدت الوجود‘‘ اور اس کے بعد مجدد الف ثانی نے ’’وحدت الشہود‘‘ کا نظریہ پیش کیا۔

تصوّف کا لفظ ’’صوف‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ’’اُون کا کھردرا لباس۔‘‘ یہ لباس عیسائی راہب پہنتے تھے۔ ان کی تقلید میں مسلمان زُہاد بھی یہی لباس پہننے لگے۔

مشرقی تصوف کی پرورش خراسان میں ہوئی جو بدھ مت کا بڑا مرکز تھا۔ تصوف خراسان سے عراق اور مصر میں پھیلا۔ بارہویں صدی عیسوی میں صوفیا کے فرقے قادریہ، سہروردیہ، چشتیہ، شاذلیہ اور نقش بندیہ مشہور ہوئے۔ زیادہ تر صوفیا نے جذب و مستی، وجد و حال اور زاویہ نشینی کو صوفی کے لیے لازمی قرار دیا۔ کشف، اشراق، حلول، سریان، تجلی، وصل، جذب، وجد، حال، قال، حسنِ ازل، عشقِ حقیقی، عشقِ مجازی اور حبس دم، تصوف ہی کی اصطلاحیں ہیں۔ (پروفیسر انور جمال کی تصنیف “ادبی اصطلاحات” مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، صفحہ نمبر 75 سے انتخاب)

گذشتہ ماہ مارچ 2016ء میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کی خصوصی دعوت پر عالمی صوفی کانفرنس میں خصوصی شرکت اور کلیدی خطاب کے لئے بھارت تشریف لے گئے۔ آپ نے کانفرنس میں دہشت گردی و انتہاء پسندی کے اسباب، اس ناسور کا حل اور صوفیاء کی تعلیمات کے حوالے سے علمی و فکری خطاب ارشاد فرمایا۔ اس خطاب کا پہلا حصہ مئی 2016ء کے شمارہ میں شائع ہوچکا ہے جس میں آپ نے دہشت گردی کے عوامل، ان کے تدارک اور لفظ ’’تصوف‘‘ اور ’’صوفی‘‘ کے مادہ ہائے اشتقاق اور معنوی تشبہ و صفاتی تتبع پر تفصیلی اظہار خیال فرمایا۔ اس علمی و فکری خطاب کا آخری حصہ نذرِ قارئین ہے:

________________________________________

لفظ ’’تصوف‘‘ اور ’’صوفی‘‘ قرآن مجید کی روشنی میں

لفظ ’’تصوف‘‘ اور ’’صوفی‘‘ کے مادہ ہائے اشتقاق اور معنوی تشبہ و صفاتی تتبع جاننے کے بعد آیئے اب قرآن مجید سے لفظِ تصوف کی اصل تلاش کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو کم علمی اور کتب کا عمیق مطالعہ نہ کرنے کے باعث سمجھتے ہیں کہ تصوف دین میں نہیں ہے یا صوفیاء کا طرز، اسلام میں نہیں ہے، وہ توجہ کریں اور جان لیں کہ تصوف کا مکمل مشرب اور اسوہ قرآن، سنتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سنت انبیاء اور سنتِ اصحاب صفہ سے ہے۔

لفظ ’’صوفی‘‘ اور ’’تصوف‘‘ کی اصل قرآن مجید میں بھی ہے۔ لفظِ ’’تصوف‘‘ کا ایک مادہ اشتقاق الصَّف سے ہے جو صَفَا، صَفْوًا سے ہے۔ الصَّفْ قطار میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کو کہتے ہیں۔ کسی کے لیے خالص ہوجانے کو صفوًا کہتے ہیں۔ منیٰ میں جانوروں کی قربانی کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰـهَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اﷲِ لَکُمْ فِيْهَا خَيْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اﷲِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ.

’’اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لیے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے پس تم (انہیں) قطار میں کھڑا کرکے (نیزہ مار کر نحر کے وقت) ان پر اﷲ کا نام لو‘‘

(الحج، 22: 36)

اس آیت مبارکہ کے مطابق نذر ہونے سے پہلے اللہ کے حضور ایک صف میں کھڑے ہو جانے والوں کو صَوَآفَّ کہتے ہیں۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمۃ اللہ علیہ، امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اور زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن کے اس لفظ صَوَآفَّ کو دوسری قرات میں صَوَافِيَ پڑھا جو صَافِيَہ کی جمع ہے۔ اسی سے ’’صوفی‘‘ مشتق ہے کہ صوفیاء وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی اللہ کے حضور نذر کر دیتے ہیں اور ان کے دل ایک صف میں جڑ کر مولا کے رُخ اور چہرے کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ دن ہو یا رات، تھکن ہو یا راحت، کاروبار ہو یا ریاضت و مجاہدہ اُن کے دلوں پر کبھی غفلت نہیں آتی۔ جنہیں یہ حضوری مل جائے اور صفِ اول کی حاضری نصیب ہو جائے، ایسا دل رکھنے والوں کو صوفی اور ایسے طرزِ زندگی کو تصوف کہتے ہیں۔

• لغت میں صَفَا کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ جنگ میں فتح کی صورت میں ملنے والا وہ مال غنیمت جو بادشاہ تقسیم سے پہلے اپنے لیے چن لیتا ہے، اُس کو الصَّفِی کہتے ہیں، یہ صَفَا سے ہے۔ بادشاہ دوسروں کا حصہ نہیں مارتا، چونکہ بادشاہ ہونے کی حیثیت سے اس کا بھی حصہ ہوتا ہے لہذا وہ اپنا حصہ لیتا ہے، لیکن دوسروں سے پہلے لے لیتا ہے۔

ٍ پس اس معنی کی رو سے جو مال بادشاہ چن لے وہ الصَّفِی کہلاتا ہے اور دلوں کا جو حصہ کائنات کا بادشاہ اپنے لیے چن لے اُس کو صوفی کہتے ہیں۔ گویا جنہیں اللہ چُن لے وہ صوفی کہلاتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر صوفی چُنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جو صوفیاء کو نہیں مانتے وہ دھتکارے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ اللہ جسے چن لیتا ہے ان کے نام کے چرچے چہار دانگِ عالم میں ہوجاتے ہیں اور دنیا اُن میں سے کسی کو خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، کسی کو محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ، کسی کو غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ، کسی کو شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ، کسی کو شیخ احمد الرفاعی رحمۃ اللہ علیہ اور کسی کو ابو الحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی اور پکارتی ہے۔ بات چُننے اور رد ہو جانے کی ہے۔ جو چُنے جاتے ہیں وہ صوفی ہو جاتے ہیں اور جو رد کر دیے جاتے ہیں وہ صوفیوں کے منکر کہلاتے ہیں۔

لفظ ’’تصوف‘‘ اور ’’صوفی‘‘ حدیث مبارکہ کی روشنی میں

قرآن مجید سے صوفی اور تصوف کی اصل اور اس کا مفہوم جاننے کے بعد آیئے اب حدیث مبارکہ سے اس کی اصل تلاش کرتے ہیں:

• کسی غزوہ میں دو صحابی اکٹھے شہید ہوگئے۔ ایک صحابی کا نام عبد اﷲ بن عمرو بن حرام رحمۃ اللہ علیہ تھا اور دوسرے صحابی کا نام حضرت عمرو بن جموح رحمۃ اللہ علیہ تھا۔آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں دونوں کے جسد لائے گئے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

ادفنوهما فی قبر واحد، فإنهما کانا متصافيين فی الدنيا.

’’ان دونوں کو ایک ہی قبر میں اکٹھا دفن کر دو، دنیا میں یہ دونوں صوفی تھے‘‘۔

(ابن ابی شيبه، المصنف، 7: 367، رقم: 36757)

یعنی یہ دونوں اہل صفاء تھے۔ ان دونوں کا طرزِ عمل ایسا تھا کہ صوفی و صافی تھے۔ ان کے دلوں میں کدورت، رنجش اور غبار نہیں تھا۔ پس جن کے دلوں سے کدورت کا غبار نکل جائے اُس کو صوفی و صافی کہتے ہیں اور اسی طبقے کو صوفیاء کہتے ہیں۔ یہ لوگ کسی پر فتوے نہیں لگاتے۔ اُن کے دلوں میں چونکہ غبار نہیں ہے اس لیے انہیں فتوؤں کا بخار نہیں ہے۔ فتوؤں کا بخار اُنہی کو ہوتا ہے جن کے دل میں غبار ہوتا ہے۔ صوفیاء نہ غبار والے ہوتے ہیں اور نہ بخار والے ہوتے ہیں بلکہ وہ صرف پیار والے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ تصوف پیار پھیلانے کا نام ہے۔۔۔ محبت عام کرنے کا نام ہے۔۔۔ تواضع، عاجزی اور انکساری عام کرنے کا نام ہے۔۔۔ تصوف گردن میں اکڑ نہیں لاتا بلکہ گردن کو نیچے کرتا ہے۔۔۔ تصوف بچاتا ہے، لڑاتا نہیں۔۔۔ تصوف ملاتا ہے، ڈراتا نہیں۔۔۔

آقا علیہ السلام نے اس حدیث مبارکہ میں متصافیین کا لفظ استعمال فرمایا۔ گویا اس حدیث میں تصوف کا لفظ زبانِ مصطفی a سے ادا ہوا۔ کیا اب بھی تصوف پر خارج از اسلام یا خارج از تعلیماتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا اعتراض کیا جاسکتا ہے؟

• ایک اور حدیث مبارکہ تصوف اور صوفی کا معنیٰ واضح کرتی ہے کہ صوفی کون ہوتے ہیں؟ حضرت ابو مالک الاشعری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

يا أيهاالناس اسمعوا واعلقوا واعلموا أن ﷲ عبادًا ليسوا بأنبياء ولا شهداء، يغبطهم الانبياء والشهداء علی مجالسهم وقربهم من اﷲ انعتهم لنا.

’’لوگو! میری بات سنو سمجھ اور جان لو! میری امت میں کچھ اللہ کے بندے ایسے بھی ہوں گے جو نہ تو نبی ہوں گے، نہ شہید ہوں گے مگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی مجلس اور قرب میں قیامت کے دن عرش کے اردگرد اس طرح قریب کر کے بٹھائے گا کہ انبیاء اور شہداء کو بھی ان پر رشک آئے گا‘‘۔

آقا علیہ السلام کی یہ بات سن کر ایک صحابی کھڑے ہو گئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! نبی اور شہید نہ ہونے کے باوجود اللہ کے قرب و حضور میں اس طرح بٹھائے جانے والے وہ لوگ کون ہوں گے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حضور علیہ السلام نے فرمایا:

هم ناس من أفناء الناس ونوازع القبائل لم تصل بينهم أرحام متقاربة.

’’میری امت میں مختلف علاقوں، مختلف ملکوں، مختلف قبیلوں، مختلف معاشروں کے یہ لوگ وہ ہوں گے کہ ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہیں ہوگا۔‘‘ مگر

تحابوا فی اﷲ وتصافوا.

’’وہ اللہ کی مخلوق سے آپس میں اللہ کے لیے محبت کریں گے اور اُن کے دل صوفی و صافی ہوں گے۔‘‘

یعنی ان کے دلوں میں کوئی کدورت نہیں ہوگی۔ یاد رکھیں! سارا تصوف دلوں کی کدورتوں کو ختم کر دینے کا نام ہے۔۔۔ تصوف دلوں کی رنجش مٹا دینے کا نام ہے۔۔۔ تصوف دلوں کی تنگ نظری کو وسعت میں بدل دینے کا نام ہے۔۔۔ تصوف تکبر کو مٹا کر تواضع لانے کا نام ہے۔۔۔ تصوف بخیلی، کنجوسی ختم کر کے سخاوت لانے کا نام ہے۔۔۔ تصوف نفرت مٹا کر محبت لانے کا نام ہے۔۔۔ تصوف تفرقے مٹا کر وحدت کرنے کا نام ہے۔۔۔ تصوف نفرت کا بخار مٹا کر محبت و پیار لانے کا نام ہے۔۔۔

پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:

يضع الله لهم يوم القيامة منابر من نور فيجلسهم عليها فيجعل وجوه هم نورا وثيابهم نورا يفزع الناس يوم القيامة ولا يفزعون.

اللہ انہیں قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھائے گا۔ ان کے چہرے اور لباس منور ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں ڈر نہیں ہوگا۔

وهم أولياء اﷲ الذين لا خوف عليهم ولا هم يحزنون.

(نسائی، السنن، 6: 362، رقم: 11236)

’’یہی صوفیاء و اولیاء ہوں گے جنہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

گویا صافی دل رکھنے والے اولیاء اللہ اور صوفی سب کے خیرخواہ ہوتے ہیں۔ ان کے دل صاف اور کشادہ ہوتے ہیں، ان کے دلوں میں فراخی، سخاوت، شفقت، رحمت اور وسعت ہوتی ہے۔

• ایک اور حدیث میں بھی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی الفاظ استعمال فرمائے۔ ارشاد فرمایا:

متحابون بجلال اﷲ، وتصافوا فيه، وتزاوروا فيه، وتباذلوا فيه.

’’یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی خاطر محبت عام کریں گے، ان میں صفائے قلب ہوگی، ایک دوسرے کی ملاقات اور زیارت کے لیے جائیں گے اور ایک دوسرے پر خرچ کریں گے، یعنی سخی ہوں گے۔‘‘

(هندی، کنزالعمال، 9: 8، رقم: 24703)

اس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آج تک زیارت پر جانے کا سلسلہ کسی اور کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ولیوں اور صوفیوں کے لیے ہی ہے۔ آج تک کسی نے نہیں سنا کہ کوئی کسی غیرِ صوفی کی زیارت کرنے جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص غیرِ صوفی اور غیرِ ولی کی زیارت کے لیے نہیں جاتا۔ آقا علیہ السلام نے زیارت کے لئے جانے کو صوفیاء سے مختص فرمایا اور چودہ صدیوں سے آج تک یہی سلسلہ جاری و ساری ہے۔

• حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے ملک شام کے لئے فرمایا:

أتدری ما يقول اﷲ فی الشام؟ إن اﷲ يقول: يا شام! أنت صَفْوَتِيْ من بلادي.

’’جانتے ہو کہ اللہ نے شام کے بارے میں کیا کہا؟ (پھر آقا علیہ السلام نے خود جواب دیا:) بے شک اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: اے شام! تو میرے شہروں میں سے میرا منتخب شہر ہے۔‘‘

(هيثمی، مجمع الزوائد، 10: 58)

ملک شام کو آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صوفی، صافی منتخب شہر قرار دیا۔

• عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

إني أختار لک الشام، فإنه خيرة المسلمين وصَفْوَة اﷲ من بلادهِ، يجتبی إليها صَفْوَتَهُ من خلقهِ.

گویا شہروں میں سے صَفْوَۃ سے مراد شام اور بندوں میں سے صَفْوَۃ سے مراد صوفیاء ہیں۔ جو اس ملک میں مقیم ہوں گے۔ صفوۃ سے مراد صوفی اس لئے کہ اسی ملک شام کے حوالے سے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی ملک سے چالیس ابدال ہوں گے۔

(طبرانی، المعجم الکبير، 18: 251، رقم: 627)

صوفیاء کے رُوحانی مراحل

تصوف مرحلہ در مرحلہ سفر کرنے کا نام ہے۔ اس سفر کو سلوک اور مسافر کو سالک کہتے ہیں۔ گویا صوفی سفر کرتا رہتا ہے، جامد نہیں رہتا۔ایک سالک/ صوفی درج ذیل روحانی مراحل سے گزرتا ہے:

1. تَزْکِيَة:

پہلا مرحلہ تزکیہ ہے۔ یہ نفس کا سفر ہے۔ اس میں حیوانی خصلتیں، روحانی خصلتوں میں بدل جاتی ہیں۔ حیوانی خصلتوں کے نتیجہ میں قتل و غارت گری اور دہشت گردی جنم لیتی ہے لیکن جب تزکیہ نفس سے روحانی خصلت آجاتی ہے تو پیار، محبت اور برداشت کے رویے جنم لیتے ہیں۔ گویا سلوک و تصوف کے پہلے سفر کا آغاز بھی اَمن ہی سے ہوتا ہے۔

2. تَصْفِيَة:

دوسرا مرحلہ تصفیہ ہے۔ تصفیہ دل کا سفر ہے۔ اس سفر میں دل صاف ہوجاتا ہے اور دنیا کے تمام اَفکار اور رنج و غم کے زنگار سے آزاد ہو جاتا ہے۔

3. تَخْلِيَة:

تیسرا مرحلہ باطن کا سفر ہے، اس کو تخلیہ کہتے ہیں۔ تخلیہ میں بندہ اپنے باطن سے نہ صرف ہر غیر کو نکال دیتا ہے بلکہ ماسوی اﷲ کی خواہش سے بھی دل کو پاک کر لیتا ہے۔ یہ خلوت ہے۔ یہ مرحلہ دل کو خلوت کدہ بنا دیتا ہے اور انسان زبانِ حال سے پکار اٹھتاہے:

ہر تمنا دل سے رُخصت ہوگئی

اب تو آجا، اب تو خلوت ہوگئی

گویا دل کو محبوبِ حقیقی کا خلوت کدہ بنا دینا تخلیہ ہے۔

4. تَحْلِيَة:

سلوک و تصوف کی راہ میں چوتھا مرحلہ تحلیہ ہے۔ اس مرحلہ میں سالک/ صوفی اپنے اِنسانی اَوصاف سے نکل جاتا ہے اور ربانی اَوصاف میں داخل ہو جاتا ہے۔ سالک جو جو صفات رب کی دیکھتا ہے، اس کی اپنی وہ صفت ہٹتی جاتی ہے اور رب کی صفت کا رنگ اس پر چڑھتا جاتا ہے۔ اس کو تحلیہ کہتے ہیں۔ یہ حِلیہ سے ہے۔ حِلیہ زیور کو بھی کہتے ہیں۔ جب زیور دلہن کو پہناتے ہیں تو اُس کا دلہن ہونا چمک اٹھتا ہے۔ اسی طرح جب رب کے اوصاف کا رنگ صوفی پر چڑھتا ہے تو اس کا باطن چمک اٹھتا ہے اور جس کا قلب صاف ہو جائے، چمک جائے، وہ ولی ہوتا ہے۔

رب جس طرح ہر ایک کی پرورش کرتا ہے، اس مرحلہ میں صوفی بھی اسی وصف کا فیض لیتے ہوئے ہر ایک کو پالتا ہے۔ رب جیسے ہر ایک کو دیتا ہے، اُسی طرح صوفی بھی لینے والا نہیں ہوتا بلکہ دینے والا ہوتا ہے۔ صوفی مانگتا نہیں بلکہ بانٹتا ہے۔ صوفی عطا کرنے والا، بے نیاز اور پیار و محبت کو بانٹنے والا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ تحلیہ کے ذریعے رب کے اوصاف میں رنگا جاتا ہے۔

5. تَجْلِيَة:

ربانی اوصاف میں رنگنے کے بعد صوفی/ سالک پانچویں مرحلہ تجلیہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس مرحلہ میں بندے کے قلب و باطن پر اَنوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے۔ بندہ فرشی ہوتا ہے مگر اَنوار و تجلیات کے ورود سے من اور باطن میں عرشی بن جاتا ہے۔ یعنی فرش پر رہ کر عرش پر رہتا ہے۔

6. اَلتَّدَلِّی:

صوفی چھٹا مرحلہ اَلتَّدَلِّی میں داخل ہوتا ہے۔ یہ مقام عروج ہے۔ صوفی عروج پر جاتا ہے اور اِس مرحلے میں اسے اللہ کی قربتِ خاصہ نصیب ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر صوفی کو دَنٰی فَتَدَلّٰی کا فیض ملتا ہے۔

7. اَلتَّدَنِّی:

صوفی دَنٰی فَتَدَلّٰیکا فیض سمیٹنے کے بعد ساتویں مرحلہ اَلتَّدَنِّی میں داخل ہوتا ہے۔ بعض تَدَانِی بھی لکھتے ہیں۔ اس مقام پر اُس کی مقربیت کامل ہو جاتی ہے اور بارگاہ الٰہی میں اُس کی قربت کا سفر بھی تکمیل کو جا پہنچتا ہے۔ گویا اس مقام پر اسے قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی کافیض ملتا ہے۔

8. اَلتَّرَقِّی:

تدنی کے بعد صوفی الترقی کے مرحلہ میں داخل ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں ہر لمحہ اُس کا حال اور مقام بدلتا رہتا ہے۔ اس مرحلہ میں وہ ایک جگہ پر نہیں رہتا بلکہ قربِ الٰہی، عشقِ الٰہی، محبتِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی اور معرفتِ الٰہی میں ہر لمحہ اُس کا مقام اور حال بدلتا ہے اور ترقی پذیر رہتا ہے۔ پھر اُس کو کوئی تھام نہیں سکتا۔ ہر لمحہ اُس کے تنقلِ اَحوال (بدلتے رہنا) کی وجہ سے اس عالم کو ترقی کہتے ہیں یعنی اب وہ ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

9. اَلتَّلَقِّی:

اس روحانی سفر میں مراحل طے کرتے کرتے صوفی اپنے نویں مرحلہ اَلتَّلَقِّی میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں وہ براہِ راست رب سے سنتا ہے اور اُس کی عطا، کشف اور اِلہامات لیتا ہے۔ نتیجتاً صوفی کی زبان سے حق بولتا ہے، اُس کے دل سے حق نکلتا ہے۔ وہ تلقی یعنی براہِ راست رب سے اخذ کرتا ہے۔

10. اَلتَّوَلِّی:

اس مرحلہ سفر میں بندہ رب سے سب کچھ وصول کر کے اپنے آپ میں پلٹ آتا ہے۔ اس آخری مرحلہ کو اَلتَّوَلِّی کہتے ہیں۔ اس مرحلہ میں رب اُس کا متولی ہو جاتا ہے۔ رب اُس کے ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے۔۔۔ رب اُس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے۔۔۔ رب اُس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔۔۔ رب اُس کے کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔۔۔ رب اُس کا دل بن جاتا ہے جس سے وہ چاہتا ہے۔۔۔ الغرض وہ مکمل طور پر رب کی نگرانی میں آجاتا ہے۔

ان سارے مقامات میں کہیں ہمیں غیض و غضب نظر نہیں آیا۔ ان سارے دس اسفار میں کہیں غصہ، نفرت، سختی نہیں آئی بلکہ ہر وقت سفر سوئے جمال ہے۔ سفر بسوئے رحمت ہے، سفر بسوئے قربت ہے۔ یاد رکھ لیں جو مولیٰ کے قریب ہو جاتے ہیں اور جو اس کی قربت کا مزہ چکھ لیتے ہیں، قربت کے تالاب سے پی لیتے ہیں وہ اوروں کو بھی قریب کرتے ہیں۔ چونکہ خود قربت کا لطف لیتے ہیں سو ہر ایک کو قریب کرتے ہیں اور دوریاں مٹا دیتے ہیں۔جو لوگ خود جڑ جاتے ہیں وہ اللہ کی ساری مخلوق کو جوڑے رکھتے ہیں۔

روحانیت کے تین وسائط

اس سارے روحانی سفر میں تین وسائط tools استعمال ہوتے ہیں:

1. شریعت

2. طریقت

3. حقیقت

• شریعت: زندگی میں اِعتدال کا نام شریعت ہے۔

• طریقت: اپنے نفس سے اِنفصال کا نام طریقت ہے۔

• حقیقت: محبوب سے اِتصال کا نام حقیقت ہے۔

بالفاظِ دیگر:

• شریعت: راہِ حق پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔

• طریقت: خود سے جدا ہو جانے کا نام ہے۔

• حقیقت: واصلِ خدا ہو جانے کا نام ہے۔

صوفی جب درج بالا روحانی مراحل سے گزرتا ہے اور تین وسائطِ روحانیت کو اختیار کرتا ہے تو یہ سلوک و تصوف اَخلاق کو عمدگی دیتا ہے۔۔۔ حوصلوں کو بلندی دیتا ہے۔۔۔ ارادوں کو پختگی دیتا ہے۔۔۔ معاملات کو درستگی دیتا ہے۔۔۔ مایوسیوں کو ختم کرتا ہے۔۔۔ یقین اور اعتماد کو استحکام دیتا ہے۔۔۔ اَعمال کو طہارت دیتا ہے۔۔۔ اَحوال کو عظمت دیتا ہے۔۔۔ اور مقامات کو سکونت دیتا ہے۔

صوفیاء کا جداگانہ ’’قال، حال، عمل‘‘

تصوف جس میں بس جائے اُس کی زندگی کا حال بدل جاتا ہے۔ اُس کا مقال (بولنے کا انداز) بدل جاتا ہے۔ اُس کے برتاؤ کے طریقے بدل جاتے ہیں۔ صوفی کی بولی عام لوگوں کی بولیوں سے کتنی مختلف ہوجاتی ہے۔ آیئے تاریخ کے اوراق سے اسے سمجھتے ہیں:

جب چنگیز خان اور ہلاکو خان کی فوجیں بغداد کو تاخت و تاراج کررہی تھیں، قتل و غارت گری تھی، خون بہایا جارہا تھا، اُس وقت کی بات ہے کہ ایک خراسانی بزرگ جو سلسلہ عالیہ قادریہ سے نسبت رکھتے تھے، اشارہء غیبی کے تحت ہلاکو خان کے بیٹے تگودار خان کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے تشریف لائے۔ وہ شکار سے واپس آ رہا تھا۔ اپنے محل کے دروازے پر ایک درویش کو دیکھ کر اس نے ازراہِ تمسخر پوچھا:

’’اے درویش، تمہاری داڑھی کے بال اچھے ہیں یا میرے کتے کی دم‘‘؟

اس بیہودہ سوال پر آپ قطعاً برہم نہ ہوئے۔ بڑے تحمل سے فرمایا:

’’اگر میں جانثاری اور وفاداری سے اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کر لوں تو میر داڑھی کے بال اچھے ہیں، ورنہ کے کتے کی دم اچھی ہے جو آپ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور آپ کے لیے شکار کی خدمت انجام دیتا ہے‘‘۔

تگودار خان اس غیرمتوقع جواب سے بہت متاثر ہوا اور آپ کو مہمان کی حیثیت سے ٹھہرایا اور آپ کی تبلیغ سے درپردہ اسلام قبول کر لیا۔

تگودار خان کا سوال انتہائی سخت تھا، اگر یہ سوال کسی خشک اور انتہا پسند ملّا سے کر دیں تو وہ تو سر پھوڑ دیتا، جھگڑا ہوتا اور شہید ہو جاتا۔ مگر صوفیاء کے رنگ ڈھنگ الگ ہوتے ہیں، ان کے بات کرنے کے طریقے اور فہم و مقام بدل جاتا ہے۔ صوفی جب بات کرتا ہے تو دلوں کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ سختی سے نہیں بلکہ نگاہ سے اور محبت و پیار کی زبان سے احوال بدلتا ہے اور یہی تصوف ہے۔

صوفی کس طرح حال بدلتا ہے؟

صوفی کس طرح حال بدلتا ہے؟ صوفی کا شعار اور روش کیا ہے جس سے پتہ چلے کہ صوفی کون ہے؟ صوفیاء کے امام ابو عبد الرحمن السلمی رحمۃ اللہ علیہ (امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ، حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا شیخ) اپنی کتاب الفتوۃ میں صوفیاء کی روشِ زندگی اور لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے حوالے سے فرماتے ہیں:

ابوبکر الحلبی نے روایت کیا کہ ہم حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے بیٹھے تھے کہ اچانک وہاں سے کچھ نوجوان گزرے جو گانا بجانا کر رہے تھے، شراب پی رہے تھے، ناچ کود کر رہے تھے۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں کو غصہ آگیا اور کہنے لگے کہ ’’حضرت! ہاتھ اٹھا کر ان ظالموں کے لیے بددعا کیجئے۔ یہ نوجوان آپ کے سامنے شراب پی رہے ہیں اور ناچ گانا کر رہے ہیں۔ انہیں ادب اور حیا نہیں۔ ان کے لیے بد دعا کیجئے‘‘۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی:

إلٰهی وسيدی! أسئلک أن تفرحهم فی الآخرة کما فرحتهم فی الدنيا.

’’اے میرے مالک! ان کو آخرت میں بھی اسی طرح خوش رکھنا جس طرح دنیا میں خوش رکھا ہوا ہے‘‘۔

(السلمی، کتاب الفتوة: 60)

مریدوں نے جب یہ کلمات سنے تو ان کے دل بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا: حضور ہم نے بددعا کے لیے درخواست کی تھی کہ ان کا خاتمہ ہو جائے اور وہ برباد ہو جائیں لیکن آپ نے دعا دے دی۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ مسکرا پڑے اور فرمایا: آخرت میں یہ اُسی صورت خوش ہوں گے جب دنیا میں اپنے ان احوال سے توبہ کرلیں گے اور اس کی جانب رجوع کریں گے۔ پس اگر اُس نے انہیں آخرت میں خوش رکھنے کا فیصلہ کر لیا تو انہیں دنیا میں توبہ کی توفیق دے گا اور ان کی توبہ ہو جائے گی۔

گویا صوفی ہر ایک کی توبہ، بخشش اور مغفرت کی فکر کرتا ہے۔ صوفی فنا کرنے کی بات نہیں کرتا بلکہ صوفی بقا دینے کی بات کرتا ہے۔

• صوفی کا طرزِ عمل کیا ہوتا ہے؟ علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ سلوۃ الاحزان میں بیان کرتے ہیں کہ صوفیاء کے امام اور امام اعظم کے ساتھی اور معاصر حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ دریائے دجلہ پر غسل کے لیے گئے۔ جمعہ کا دن تھا۔ کپڑے اتار کر رکھے اور غسل لینے لگے۔ اچانک ایک چور آیا اور آپ کے کپڑے لے اڑا۔ جب غسل کے بعد آپ نکلے تو کپڑے غائب تھے۔ پریشان بیٹھے ہی تھے کہ چور کپڑے لے کر واپس آگیا۔ اُس نے آپ کو کپڑے دیے اور کہا کہ میرا دایاں ہاتھ جس سے کپڑے چرائے تھے وہ فالج زدہ ہو گیا ہے۔ آپ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: میرے مولیٰ! جس طرح تو نے میرے کپڑے واپس فرما دیے ہیں اس طرح اس چور کے ہاتھ کی صحت بھی واپس کر دے۔ آپ کی دعا سے اس کا ہاتھ صحت مند ہوگیا۔

پس صوفی چوری کو نہیں دیکھتے بلکہ اُس کی پریشانی کو دیکھتے ہیں۔ یہ وہ انداز ہے جس انداز کے ذریعے صوفیاء مخلوقِ خدا کے ساتھ معاملات کرتے ہیں۔ ان کا بولنا، کرنا اور ہر معاملہ دوسرے لوگوں سے جدا ہوتا ہے۔

صوفیاء کا منفرد فہم و ادراک

صوفیاء کا نہ صرف قال، حال اور عمل منفرد ہوتا ہے بلکہ ان کا فہم و اِدراک بھی جدا ہوتا ہے۔ وہ حقائق و واقعات سے الگ معانی اخذ کرتے ہیں۔ ایسے معانی اخذ کرتے ہیں جو دوسرے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے۔ صفائے قلب اور تطہیرِ باطن کے بعد اُن کے اَذہان و اَفہام، قلوب و اَفکار اور توجہات بدل جاتی ہیں۔ وہ ہر شے میں ذاتِ حق کو دیکھتے ہیں۔ اللہ کی بارگاہ سے جڑے رہتے ہیں، اُن کی توجہ رب کی طرف مرکوز رہتی ہے۔ وہ صرف رب کو تلاش کرتے ہیں اور ہر شے میں اُسی رب کو پاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ ہمیشہ امن اور شانتی میں رہتے ہیں۔

یہ بات توجہ طلب ہے کہ غیر کا دھیان چونکہ دل میں غبار اور آلودگی لاتا ہے، لہذا وہ اس غبار کو ختم کرتے ہیں۔ اگر مولیٰ کا دھیان رہے اور غیر کا غبار نہ رہے تو اُس سے دل کو سکون اور قرار آتا ہے۔ سکون و قرار سے بندے میں سدھار آتا ہے۔ سدھار سے آسودگی آتی ہے۔ آسودگی ملے تو دل میں رب کا پیار آتا ہے۔ طبیعت میں آہنکار (تکبر و انانیت) نہیں رہتا بلکہ پیار اور اِنکسار آتا ہے۔ پھر شانتی آتی ہے۔ انسان کا وہار (behaviour) بدل جاتا ہے۔ بندے کا کردار بدل جاتا ہے اور اگر خدا سے تعلق اور پیار نہ ہو، دل خدا سے نہ جڑے تو پھر وِیوہار (سلوک، اَخلاق) اَہنکار (غرور اور تکبر) کے ذریعے بدل کر دُر وِیوہار (بد سلوک، بد اَخلاق) ہو جاتا ہے۔ اَہنکار (غرور اور تکبر) بندے کو دُر وِیوہار (بد سلوکی، بد اَخلاقی) دے دیتا ہے۔ تصوف آجائے تو بندہ نیک وِیوہار (حسنِ سلوک، خوش اَخلاقی) کا مالک ہوتا ہے۔ اگر تصوف نکل جائے تو بندہ دُر وِیوہار (بد سلوکی، بد اَخلاقی) کا مالک ہوتا ہے۔ یہ صوفی واد کا طریقہ ہے۔ صوفی واد پہ چلو گے تو پھر آتنک واد (دہشت گردی) ختم ہوگی۔ صوفی ازم اور روحانیت پر عمل پیرا ہونے سے ہی رویے بدلیں گے۔

• صوفیاء ہر شے سے اپنے یار کی بات کو نکالتے ہیں۔ ہر آواز سے اپنے مولیٰ کو دیکھتے سنتے ہیں۔ امام ابن زروق المالکی نے لکھا کہ مولیٰ علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کے ہمراہ کچھ اور صحابہ تھے۔ آپ نے ناقوس (ایک ساز) کی آواز سنی، تو فرمایا:

أتدرون ما يقول؟

’’تمہیں معلوم ہے یہ آواز کیا کہہ رہی ہے‘‘؟

انہوں نے کہا: معلوم نہیں، کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کہہ رہا ہے:

سبحان اﷲ حقًا حقا، إن المولیٰ صمد يبقٰی.

’’اللہ پاک ہے، وہ حق ہے، بے شک مولیٰ بے نیاز اور ہمیشہ رہنے والا ہے‘‘۔

ہر کوئی اُس کو ساز سمجھ رہا ہے مگر مولیٰ علی کے کان اُس کو یار کی آواز سمجھ رہے ہیں۔ گویا تصوف و روحانیت میں ذہن، آواز، سننے اور بولنے کا رنگ ڈھنگ بدل جاتا ہے۔

• حضرت شیخ ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ ایک چشمے کے پاس سے گزرے۔ وہاں ایک سقہ (پانی پلانے والا ساقی) پانی پلا رہا تھا۔ ایک بھیڑ اس کے پاس کھڑی تھی، اُس نے آواز دی کہ سارے پی چکے:

ما بقی إلا واحدٌ.

’’اب صرف ایک بچا ہے‘‘۔

وہ بات کسی اور کی کر رہا تھا کہ صرف ایک رہ گیا ہے جس نے پانی پینا ہے۔ حضرت ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہ جملہ سنا تو آپ کی چیخ نکل گئی، آپ وجد میں آگئے اور کہا:

هل کان إلّا واحد؟

’’اگر سوائے ایک کے کوئی نہیں بچا تو کیا اُس ایک کے سوا بھی کوئی تھا‘‘؟

گویا بات کہیں کی ہوتی ہے، صوفی اس بات کو اپنے یار کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ خیر کی بات سے محبت اور محبوبِ حقیقی کی بات نکالتا ہے۔

• صوفیاء آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سنت سے اپنے لئے راہِ عمل لیتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بکری ذبح کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا سارا گوشت تقسیم کر دیا؟ میں نے عرض کی: آقا! صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سارا تقسیم کر دیا صرف ایک ران/دستی اپنے لئے بچائی ہے۔ آپ نے فرمایا: جو تقسیم کردیا گیا وہ بچ گیا اور جو رہ گیا ہے وہ باقی نہیں بچا‘‘۔

ہماری سوچ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک جو دے دیا جائے وہ چلا جاتا ہے، جو بچا لیا جائے اُس کو کہتے ہیں کہ بچ گیا۔ صوفیاء کے ہاں یہ ہے کہ جو دے دیا جائے وہ بچ جاتا ہے اور جو رکھ لیا جائے وہ چلا جاتا ہے۔

پیغام

صوفی کا دل تنگ نہیں ہوتا بلکہ سمندروں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ صوفی بارش سے کہیں زیادہ سخی ہوتا ہے۔ ساری کائنات صوفی کے دل کی وسعت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ صوفی کا دل اتنا وسیع ہے کہ اس میں خدا سما جاتا ہے۔ آئیے اس طرزِ عمل کو اپنائیں۔ صوفیاء کی ان تعلیمات کو عام کریں۔ صوفیاء کی انہی تعلیمات کو عام کرنے سے ہمارے روّیے، نظریے اور برتاؤ بدلیں گے۔

صوفیاء کے اسی روّیے کو اپنانے سے peaceful coexistence آئے گی۔ ISIS کا مقابلہ ہوگا۔ داعش اس دور کے سب سے بڑے دہشت گرد اور خوارج ہیں۔ وہ مسلمانوں کی نسلوں کو امریکہ، یورپ، عرب، عجم میں متاثر کر رہے ہیں۔ آقا e نے ISIS کے بارے میں پندرہ سو سال پہلے بتا دیا تھا۔ کل کتب حدیث میں ہے اور شارحین ائمہ قسطلانی، ابن بطال، امام عسقلانی، عینی، قرطبی، قاضی عیاض ہر ایک محدث نے اسے بیان کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی میں بیٹھ کر عراق کے صحرا کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: عراق کی طرف سے ایک شیطانی گروہ اٹھے گا:

إِذَا رَاَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ، فَالْزَمُوا الْاَرْضَ فَلَا تُحَرِّکُوا اَيْدِيَکُمْ، وَلَا اَرْجُلَکُمْ. ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ ضُعَفَاءُ لَا يُؤْبَهُ لَهُمْ، قُلُوبُهُمْ کَزُبَرِ الْـحَدِيدِ، هُمْ اَصْحَابُ الدَّوْلَةِ، لَا يَفُونَ بِعَهْدٍ وَلَا مِيثَاقٍ، يَدْعُونَ إِلَی الْـحَقِّ وَلَيْسُوا مِنْ اَهْلِهِ، اَسْمَـاؤُهُمُ الْکُنٰی، وَنِسْبَتُهُمُ الْقُرٰی، وَشُعُورُهُمْ مُرْخَاةٌ کَشُعُورِ النِّسَاءِ، حَتّٰی يَخْتَلِفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، ثُمَّ يُؤْتِی اﷲُ الْـحَقَّ مَنْ يَشَاءُ.

(نعيم بن حماد المروزی، کتاب الفتن، 1: 210، رقم:573)

’’جب تم سیاہ جھنڈوں کو دیکھو (کہ ایک لشکر سیاہ رنگ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہے They [ISIS Kharijites] would have black flags as their group identity) تو جہاں پر ہو وہیں ٹھہر جاؤ اور کوئی اقدام نہ کرو، اس کے بعد ایک دہشت گرد گروپ ظاہر ہوگا۔ جس کے افراد شروع میں کچھ کم ہوں گے یا کمزور نظر آئیں گے تاکہ کوئی ان پر توجہ نہ دے (یعنی اسے امن انسانیت کے لیے بڑا خطرہ نہیں سمجھیں گے، وہ اپنی پوری افرادی قوت کو شروع میں ایک دم ظاہر نہیں کریں گے۔ یہ ان کی عسکری حکمت عملی ہوگی پھر تدریجاً ان کی قوت بڑھتی جائے گی۔ لوگ آ آکر ملتے جائیں گے اور یوں ان کے لشکر کی تعداد خاصی بڑھ جائے گی)۔ ان کے دل لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑوں کی طرح سخت ہوں گے (یعنی انتہائی بے رحم اور سفاک ہوں گے)۔ وہ اصحاب الدولہ کہلوائیں گے۔ (یعنی Islamic State کے دعوے دار ہوں گے۔ They would claim to be the founders of Islamic State. داعش کا معنی کیا ہے؟ دولة الإسلامية فی العراق والشام اس سے داعش بنا ہے۔) وہ کسی قول اور عہد و پیمان کے پابند نہیں ہوں گے، ظاہراً حق کی دعوت دیں گے لیکن حقیقت میں (اَہلِ حق) میں سے نہیں ہوں گے۔ ان کے نام، ان کی کنیت اور ان کی نسبت ان کے شہروں کی طرف ہوگی اور خواتین کی طرح ان کے بال لمبے لمبے اور گھنے ہوں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی اہل حق میں سے جس کو چاہے گا ظاہر کرے گا‘‘۔

دوسری حدیث مبارکہ میں ہے کہ یہ لوگ شام میں داخل ہوں گے۔ شام پر قبضہ کریں گے۔ شام میں civil war کے ذریعے تقسیم کریں گے۔ عراق کو برباد کریں گے۔ حتیٰ کہ شام کے لوگ اپنا ملک چھوڑ کر مہاجر ہو جائیں گے۔

عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ اَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: اَوَّلُ الْـخَرَابِ بِمِصْرَ وَالْعِرَاقِ، فَإِذَا بَلَغَ الْبِنَاءُ لِسَلْعٍ فَعَلَيْکَ يَا أَبَا ذَرٍّ بِالشَّامِ. قُلْتُ: وَإِنْ أَخْرَجُونِی مِنْهَا؟ قَالَ: انْسَقْ لَهُمْ أَيْنَ سَاقُوکَ.

’’حضرت قتادہ حضرت ابوذر سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلی خرابی مصر اور عراق میں پیدا ہوگی پس جب یہ خرابی سلع (مدینہ میں موجود ایک چھوٹی پہاڑی) تک پہنچ جائے تو اے ابوذر شام چلے جانا۔ حضرت ابوذر نے عرض کیا کہ اگر انہوں نے مجھے شام سے بھی نکال دیا تو؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اُدھر چلے جانا جس طرح وہ تمہیں بھیجیں‘‘۔

(نعيم بن حماد المروزی، کتاب الفتن، 1: 248، رقم: 710)

ایک اور مقام پر فرمایا: پوری دنیا سے نوجوان، گرے ہوئے لوگ مفرور، ناسمجھ بچے عرب بھی اور غیر عرب بھی دوڑ کر اس داعش کے فتنہ میں شامل ہوں گے۔ حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں: مُرَّاقُ الْآفَاقِ۔

(نعيم بن حماد المروزی، کتاب الفتن، 1: 212، رقم: 570)

’’پوری دنیا سے بھاگ بھاگ کے نوجوان اس فتنے میں شامل ہوں گے‘‘۔ فرمایا: ’’یہ فتنہ ہر عرب غیر عرب کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ خوف و ہراس ہر سمت طاری ہو جائے گا۔ یہ فتنہ کفر کا فتنہ ہو گا‘‘۔

آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں آج ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ISIS کا فتنہ کفر ہے۔ اس کا اسلام، عالم اسلام اور امت مسلمہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے خلاف جنگ لڑنا اور اس کی جڑوں تک کو کاٹ دینا حکمِ محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور یہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ یہ عالمی فتنہ ہے۔ ریاستیں اور حکومتیں مل کر اِس عالمی فتنے کا خاتمہ کریں۔ اس پر مل جل کر ایک پالیسی اختیار کی جائے۔ تصوف کی تعلیمات کو عام کیا جائے۔ ذہن بدلنے کے لیے، دین کی اصل تعلیمات اور امن کا تصور سمجھایا اور پڑھایا جائے۔ اس فتنے کا خاتمہ پوری قوت کے ساتھ ایک ہو کر کیا جائے۔ یہ عالم انسانیت کی جنگ ہے، صرف اسلام کی نہیں۔ یہ تمام ممالک اور انسانی معاشروں کی جنگ ہے۔ اس دہشت گردی کے فتنے کو کچلنے کے لیے ہم سب طبقاتِ انسانیت کو ایک ہونا ہو گا۔

اللہ رب العزت ہمیں کامیابی و کامرانی عطا کرے اور لوگوں کے دل، روّیے، نظریے بدلنے اور صوفیاء و اولیاء کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے


0
17
There are 1 advertisements of Fair in Delhi
Other News Seraj Ahmad Misbahi
https://avalanches.com/in/delhi_6178844_23_01_2023

الدكتور سراج أحمد المصباحي

Dr Seraj Ahmad Misbahi

ڈاکٹر سراج أحمد مصباحی

Qatar University Library

مكتبة جامعة قطر

الدوحة قطر

0
3
https://avalanches.com/in/delhi_6178843_23_01_2023

الدكتور سراج أحمد المصباحي

Dr Seraj Ahmad Misbahi

ڈاکٹر سراج أحمد مصباحی

Qatar Museum of Islamic Arts

متحف الفن الإسلامي

الدوحة قطر

0
3
https://avalanches.com/in/delhi_6178842_23_01_2023

الدكتور سراج أحمد المصباحي

Dr Seraj Ahmad Misbahi

ڈاکٹر سراج أحمد مصباحی

Qatar Museum of Islamic Arts

متحف الفن الإسلامي

الدوحة قطر

0
5
Other News Delhi

Voice Introduction to Seraj Ahmad Misbahi

Dr Seraj Ahmad Misbahi is a classical Islamic scholar and English-Arabic-Urdu writer. He has graduated from a leading Islamic seminary of India Aljamiatul Ashrafia Mubarakpur, Azamgarh and acquired Diploma in Arabic and Urdu. He has graduated in Urdu, History and Islamic Studies. He has done his M. A. in Arabic (Hons) from Jamia Millia Islamia, New Delhi. He completed his M. Phil. From Delhi University and done his PhD in Humanities and Languages from Jamia Millia Islamia, New Delhi.

Seraj Ahmad Misbahi was born on 07/11/1992 in UP, India. He got primary education in his village and then at the age of nine he got admission in Madrsa for the memorization of the holy Quran, Alhamdulillah, he completed this process within four years and continued his education in Islamic studies at Darul Uloom Alima, Basti until he completed this nine years course of Fazilah in 2014 at the Arabic University of Al Jamiatul Ashrafia, Mubarakpur, Azamgarh along with his graduation in B. A. (Distance Course) from Maulana Azad National Urdu University.

In this thirteen to fourteen years period, he have completed Urdu & Arabic Diploma(NCPUL) CABA MDTP and CCC courses of computer from NIELT Chandigarh.

In order to pursue higher studies, Seraj Ahmad Misbahi applied for M. A. in Jamia Millia Islamia, New Delhi wherein he has passed out this course in 2016 along with JRF Award (Junior Research Fellowship) at the end of 2015. For further study, Seraj Ahmad Misbahi was selected for M. Phil. (Master of Philosophy) in University of Delhi. Alhamdulillah, he was conferred the award of M. Phil. in 2018. In Feb 2019, Seraj Ahmad Misbahi has been selected for Ph. D in Jamia Millia Islamia.

Seraj Ahmad Misbahi’s Books and Lectures: Who is Imam Hussain? (English) The Political Legacy of Umar The Great (Arabic and English) The Introductory of Jamia Khwaja Qutbuddin Bakhtiyar Kaki(English and Arabic) Practical Method of Arabic and English Translation (English and Arabic Lecture)

Experience: Dr Seraj Ahmad Misbahi has worked as Arabic into English and vice versa translator since February 2016 till 09/2018 in “ Data Flow Groups Services (India) Private Limited” located In Noida, India. It is a pioneer Middle East based leading company for background screening. He has joined Aegis Global known as Startek (Gurgaon) as a Senior Executive in department of operation in November 2018 till 03/2020.

You can reach now at

Mob: 8588038150

Email: [email protected]

Show more
0
4

My Thoughts on AMU

Dr Seraj Ahmad Misbahi

The atmosphere of Aligarh Muslim University campus is becoming vulnerable to the serious threat.

The word "fear" on the faces of Muslims written in capital.

Thousands of police forces are deployed in outskirts of AMU. Teachers association is being reported absconded. Sheikh ul Jamia is missing. Secular leaders of the country have been stunned. Muslim leadership has been unable to react, face the challenge and resolve the issue. Many students are joined together at Baab-e- Sayed. The university has been left alone at the time of need!

Sadly, in 2019, Indian democracy is seeming died !!

Show more
0
3

SUFISM A SHIELD AGAINST RELIGIOUS EXTREMISM

Dr Seraj Ahmad Misbahi

Growing radicalization in Muslim societies, particularly through mosque sermons and extremist madrasa teachings, and terrorists’ recruitments on social media is a common knowledge now. Young and naive Muslims with impressionable minds are being drawn into extremism through different channels. Seductive messages, in the false grab of Islamic doctrines, have caught the imagination of the Muslim youths in US, Europe and even the in Indian Subcontinent. Inspired by the neo-Kharijite extremist ideology, jihadists in thousands travel to the Middle East, particularly in Iraq and Syria, for terrorist training that sometimes brings the cancer of extremism back home. Most regrettably, we have acute cyber threats against our peace, pluralism and multiculturalism. Given this, there is a pressing need for a categorical and collective clerical effort to counter the extremist ideology that underpins slaughtering innocent children, wantonly killing women and even Muslims offering prayers in the mosques.


To counter the dangerous radial ideology of the terror outfits, particularly ISIS (also known as Daesh in Arabic), prominent Sufi organisation in India All India Ulama & Mashaikh Board is planning to organise an international Sufi conference in Delhi, India, which will be followed by an international seminar titled: the First World Islamic Spiritual Summit. In the wake of Sufi Indian clerics’ joint fatwa against IS, declaring it un-Islamic, this world Islamic spiritual summit is aimed to counter the ideological misinterpretations of Islam by the Daesh and other extremist and radical outfits. “The Islamic State is the most un-Islamic outfit as it kills innocent people. It tarnishes the image of Islam. There is no justification for killing innocents in Islam, whatever the motive, whatever the reason or whoever the perpetrators” said Syed Muhammad Ashraf Kichchawchwi, the founder president of All India Ulama & Mashaikh Board. He added saying that “a few brainwashed Muslim boys in India had joined the IS driven by the massive recruitment in Europe and the US”. “But we will not let India fall prey to the extremist onslaught of ISIS. Peace is in the DNA of Indian Muslims”, he averred.


While the extremism has penetrated the Muslim countries in different forms, Sufi luminaries, Ulama & Mashaikh, Imams and muftis from all parts of the world need strong consensus to contain the menace of radical thoughts and religious extremism. They need to propound truly unique and immaculate spiritual theories, which can enlarge the ambit of modern approaches to peace, non-violence and conflict resolution. Interestingly, Sufis are not social scientists but their blends of ideas are highly significant for peace and conflict resolution. They have been speaking emphatically about importance of peace, reconciliation and counter extremism. Now, they should begin to explore new paradigms to respond to the imperatives of modern contexts. Given their enormous faith in the synergistic role of the diverse streams of Islamic civilization for the purpose of peace, their proactive role and support is vital to foster peace and pluralism and curb extremism, hatred, conflicts, or intolerance in the name of religion.


A number of Sufi-minded Islamic scholars, writers and activists are brainstorming effective ways to spread the Islamic message of peace and tolerance as a counterattack on the violent extremism that is on the constant rise across the world today. They are constantly on the lookout for ways to work out effective counter-narratives. So far, Sufi scholars and their organisations, not only in Indo-Pak but also in the wider Muslim world, have held back the tide of extremism among the Sufi-oriented Muslim practitioners. In a bid to counter extremism on the religious grounds, they are articulating an Islam-based approach to peace and de-radicalization.


In India, the Sufi Shaikh Syed Mohammad Ashraf Kichauchwi and the organization, All-India Ulama & Mashaikh Board is one of the most notable anti-extremism Sufi Sunni organizations. It is all set to take this gigantic task ahead. To take a glance at this recent development in India, one must consider what the Sufi cleric Syed Mohammad Ashraf Kichauchwi and his anti-extremism organization, All India Ulema & Mashaikh Board (AIUMB) is currently doing. It’s worth mentioning that All India Ulema & Mashaikh Board (AIUMB) is an apex body of Sufi-oriented Muslims in India, which was established with a clear objective of propagating peace, pluralism, tolerance, religious moderation and reconciliation among different faith traditions. As clearly stated in its draft, it particularly aims at disseminating Sufi teachings and practices to foster a composite Indian culture as an anecdote to radical ideologies in the country.


In his recent address to the First Asia & Pacific Countries Muslim Religious Leaders’ Summit organized by the Presidency of Religious Affairs of Turkey (DİB), Syed Mohammad Ashraf Kichauchawi stated: “Islam came to India through ocean and landed in Kerala, but it was widely propagated by the great Sufi luminary Hazrat Khwaja Moinuddin Chishti (R.A.) in the country’s heartland. Sufis like Khwaja Moinuddin Chishti connected with all peoples in an effort to impart spiritual wisdom of Islam, spreading its essential messages of peace, harmony, unity, co-existence and unconditional love”. There is no denying the fact that Khwaja Moinuddin Chishti was an ardent crusader of peace, which remains the defining credo of his social work spanning the entire undivided India. His entire mission symbolised peace and nonviolence.

Show more
0
1
Other News India
https://avalanches.com/in/jalna_in_shizz_b_fashion_walk_2023_official_media_partner_is_iimm_news_delh6119567_20_01_2023
https://avalanches.com/in/jalna_in_shizz_b_fashion_walk_2023_official_media_partner_is_iimm_news_delh6119567_20_01_2023

In Shizz B fashion walk 2023 Official Media Partner is IIMM NEWS Delhi.

Shizz B Cosmetic India Pvt Ltd started this company is started by Geeta Dagar and its operation on 23 March 2022. Shizz B organised around 9 events of the fashion show. One of the programs is organized on 9 jan 2023 in Golden Galaxy resort Faridabad Haryana. In this fashion show Bollywood Actress Vindhya Tiwari came as a bollywood celebrity guest. She shared the life experience of how she came into the Bollywood line from TV screen to Multiplex. Instagram Influncer khushi Shaikh came as a celebrity guest khushi shaikh given a Stage Make up by Kavita Sheoran and Khushi Shaikh also showed some dance moves in Fashion walk 2023. Ruchika Dhingra Arora came as a VIP guest and jury member. Sagar Chaudhary came as a VIP Guest Sagar Chaudhary also worked in ZERO films by SRK and Disney Hotstar IILLU Series.Amit Jain Bollywood Singer from Meerut has come to ShizzB Program and sang a song Gulabi Ankhen. Shizz B got their 1 runner up Miss Haryana 2023 named Babita Malik. Shizz B 2 runner up Mrs Haryana Neha Shizz B winner Mrs Haryana Shikha verma.


some details of Shizz B

Shizz B is a new approach towards redefining beauty in the skin & makeup industry. We started by hoping Mother Nature and design intuitive and uncomplicated natural products you can live with. Our game-changing products, 100% pure and herbal-based, are designed to get back flawless skin and beauty without using harmful chemicals.

Before the launching, our in-house team used Shizz B products for months and shared their personal experience with the research & development team. Then the R&D team worked on those feedbacks and made necessary changes in the product composition considering the specific requirements of all genders and age groups. This sample testing helps us to make a final product for you that gives the desired result and revives your inner beauty.

We, at Shizz B, oppose the thought of judging people according to the norms of society’s stereotypes. Instead, we designed Shizz B for inspiring souls like you who don’t loan themselves to the society’s benchmark of being beautiful and ideal. The one who knows his/her brain and never hesitates to introduce themselves the way they are. That’s why, Shizz B skincare essentials are developed in a way that makes you look and feel glowy, dewy best before you even think about makeup. Also, our makeup products are designed to add glow and sparkle to your real look and not cover you up or turn you into someone else.

Shizz B Vision

We, at Shizz B, are building the future beauty company where everything we make is for you. Because our vision is to give you back, ‘REAL YOU’.

Show more
0
15

Rising Need for Treated Water Augmenting Wood Vinegar Consumption


For more insides:- https://www.psmarketresearch.com/market-analysis/wood-vinegar-market


Wood vinegar or wood acid or pyroligneous acid is a dark liquid, which is derived from charcoal. It is obtained by heating biomass in a closed container. The smoke generated during charcoal production is cooled into a liquid and then separated into bio-oil, tar, and wood vinegar. The dark liquid is a combination of nearly 80–90% water and over 200 organic compounds, such as acetic acid, esters, formic acid, ketones, methanol, and phenol.


Moreover, the increasing implementation of government initiatives regarding bio-based products will also ensure the large-scale adoption of wood vinegar for wastewater treatment, food, animal husbandry, wood tar, and agriculture applications. In the recent past, the agriculture sector has emerged as the largest consumer of wood vinegar due to the enormous use of bio-based fertilizers and pesticides to increase productivity. For instance, the Ministry of New and Renewable Energy, Government of India, has launched several programs in recent times to promote the use of biomass materials and bio-based products, such as wood vinegar.


The manufacturing segment of the wood vinegar market is categorized into slow paralysis, fast and intermediate pyrolysis, and others. Under this segment, the slow pyrolysis category is expected to account for the largest market share during the forecast period as slow pyrolysis provides a better yield of wood vinegar, char, and other products than other manufacturing processes. In comparison to other processes, slow pyrolysis exhibits a longer vapor resistance time and slower heating rate.


In recent years, wood vinegar producers, such as TAGROW CO. LTD., Nakashima Trading Co. Ltd., Ace (Singapore) Pte Ltd., Canada Renewable Bioenergy Corporation, Byron Biochar, and Nettenergy BV, have engaged in technological advancements to develop better and improved pyrolysis kiln methods to produce char, biochar, and wood vinegar. Additionally, the advanced pyrolysis methods help enhance the production process of wood vinegar and reduce the total manufacturing process. Further, the producers are also focusing on involving poverty-ridden people in wood vinegar production processes as the material is majorly produced in villages by using local resources and feedstock.


Geographically, the Asia-Pacific (APAC) region held the largest share in the wood vinegar market in 2015. This was on account of the presence of a vast base of end users and the existence of a large number of local producers in the region. Moreover, the surging need for clean water, owing to the booming population, will also create a huge requirement for wood vinegar in the coming years. For instance, the World Bank states that the population of India surged from 1.353 billion in 2018 to 1.366 billion in 2019.


Thus, the escalating need for treated water and surging government focus on using bio-based products will fuel the consumption of wood vinegar globally.


Show more
0
7

Education is the most powerful weapon you can use to change the world and the most effective way to break out of the cycle of poverty. Yet, millions of children remain out-of-school in India. Before the COVID-19 crisis, 6 million children were out of school. When the pandemic struck, school closures impacted the education of 247 children enrolled in elementary and secondary schools. These children are not only deprived of their right to receive a quality education, but they lose their childhood by being pushed into child labour and early marriages.

The government, through the Right to Education Act, 2009, has been making its way in enrolling and retaining children in school, especially from the marginalized sector. However, any progress made had been hampered by the pandemic. While online education replaced regular classes, students from vulnerable communities without access to smartphones and the internet were left behind. Two years of school closures in India resulted in a huge learning gap.

The Power of NGOs

Whenever there is a major imbalance, NGOs exist to balance the see-saw in times of crises. NGOs like Oxfam India play a significant role in ensuring that every child, especially those from vulnerable communities, receive the opportunity to build a better future through education. Organisations such as Oxfam India, Save the Children, World Vision, UNICEF, Cry etc in India work at the grass-root level to strengthen the education system, spread awareness about the importance of education and enrol as many children as possible so they can thrive in life.

Oxfam India is an NGO that works in states such as Uttar Pradesh, Jharkhand and Odisha to send the most vulnerable and underprivileged children back to school and empower them to break the cycle of poverty. As well as ensure that the education of children from such communities continues in the midst of the pandemic.

NGO works through contributions and you too can support an NGO and change a child's life forever. While supporting a cause, your donation is eligible up to 50% tax benefit under Section 80G of the Income Tax Act. When you donate to an NGO like Oxfam India, you help in the following ways:

Enrolment

NGOs work towards identifying the most vulnerable children in the poorest states of India. Due to unaccessibility and poverty and in times of humanitarian crisis - children miss out on school. Oxfam India helps enrol children in school under the Right to Education Act (RTE), and ensure that children who have dropped out of school as a result of the pandemic, are re-enrolled in school. As of September 2022, 1081 children have been re-enrolled in school as schools across the country start to re-open.

Awareness and Counselling

Through workshops and various activities, awareness is generated amongst parents and local communities about the importance of education. Oxfam India also conducts regular counselling sessions to encourage parents to send their children especially girls to school and help them participate in various activities


Show more
0
10
Other world news
https://avalanches.com/pk/islamabad_call_now_03214822266_6035200_16_01_2023

Call Now: 0321-4822266

-

Best Escorts agency in Islamabad and Rawalpindi. We providing you a great opportunity for making your life some moments special and relax able.

We have top class Escorts profiles and every type of girls that you want to us for any purposes for full night.

If you want to spend your much of time with a beautiful and young girl and if you want to take a lot of fun by beautiful girls,

So, then contact us for booking.

Just in one call make your night enjoyable and comfortable and select your bed partner for full night.

We providing you a high-class Escorts service in Islamabad and Rawalpindi. We want just your pleasure and your comfort.

~VIP Escorts and Call girls~

Please don't feel nervous about talking with us. Your privacy and reputation are our responsibility so don't take the tension

about these things.

-

#CallgirlsinRawalpindi #EscortsinRawalpindi #RawalpindiEscorts #RawalpindiCallgirls #Rawalpindi

#CallgirlsinIslamabad #EscorstinIslamabad #IslamabadCallgirls #IslamabadEscorts #Islamabad

#CallgirlsinLahore #EscortsinLahore #LahoreEscorts #LahoreCallGirls #Lahore

#CallgirlsinKarachi #EscortsinKarachi #KarachiEscorts #karachiCallgirls #Karachi

Show more
0
12
https://avalanches.com/cl/santiago_quin_es_miguel_fernandez_arcos_el_influencer_que_busca_comerse_espa6016004_15_01_2023

Quién es Miguel Fernandez Arcos, el influencer que busca comerse España y el mundo con sus aventuras

El artista de 24 años, se encuentra incursionando en el mundo de la producción, cryptos y además como beat maker, todo un artista multifacético.

·

El trono de Miguel Fer, como lo conocen sus amigos está todas las redes y plataformas, con mas de 2 millones de followers en Instagram, Fernandez es todo un furor con las promociones y canjes en la plataforma de Facebook, donde constantemente sube fotos de todas sus hazañas y aventuras.


Se comenzó a hablar mucho de el el año pasado, cuando dejó la vida de experto en las Cryptos para aventurarse en todo lo que es la producción musical y los viajes, es considerado un traveler de primera calidad, siendo muy cotizado por marcas lujosas de todo el mundo.


Un cambio radical

En su vida ya que comenzó a dedicarse de lleno a la creación de contenido, lo cual le ha resultado muy rentable, no dejando de lado su vida aventurera y su espíritu de joven salvaje.

Show more
0
18
https://avalanches.com/ng/benincity_first_african_distance_learning_university_is_legit_5991353_13_01_2023
https://avalanches.com/ng/benincity_first_african_distance_learning_university_is_legit_5991353_13_01_2023
https://avalanches.com/ng/benincity_first_african_distance_learning_university_is_legit_5991353_13_01_2023
https://avalanches.com/ng/benincity_first_african_distance_learning_university_is_legit_5991353_13_01_2023
https://avalanches.com/ng/benincity_first_african_distance_learning_university_is_legit_5991353_13_01_2023

First African Distance Learning University is Legit .

Accreditation/Recognition as Follows :

(1) First African Distance Learning University (FADLU ) Accredited after scoring 100 points which is above the expected average 40 points on self assessment of his institution by CCLP World Wide Accreditation on 12/28/2020 .


___________________________________________


(2) First African Distance Learning University (FADLU ) is also a registered member of European Council For Business Education ,

Registration date: 2021-07-19 17:54:52 ,

User ID : 770 ,

Status : Active Profile Registered .


___________________________________________


(3)First African Distance Learning University (FADLU ) is Registered as a Member of Association of African Universities,

Registration Number : AAU/OMU/20210301/163 .


___________________________________________


(4) First African Distance Learning University (FADLU) is Incorporated as a private company limited by Corporate Affairs Commission in Nigeria .


(5) first African Distance Learning University (FADLU ) is Recognised by National University Commission (NUC )

------------------------------------------------------------------


6) Official Academic Signatory Awarded to FIRST AFRICAN DISTANCE LEARNING UNIVERSITY “FADLU “


Issued on Dec 28, 2020

.


First African Distance Learning University, FADLU was founded on 28Th December 2020 by Hon , Chime . I. Giland .


First African Distance Learning University, FADLU Established On December 28th 2020 - Liaison Officer In Nigeria.

Show more
0
22