سے اہم خبریں۔ Pākistān

شمائلا رند


پنھنجن کانسواء ڀلا ڪھڙيون عيدو۔۔!!

عيد منعي! خوشي،راحت جنھن ڏينھن جي اچڻ سان ھڪ پاسي محبتن جو جنم ٿيندو آھي ته،ساڳئي ويلي غريبن کي غريب ھئڻ جو احساس به وڌي ويندو آھي! ڇاڪاڻ ڪنھن احساس مند شخص چواڻي ته،آئون عيد جھڙا ڀلارا ۽ خوشين جھڙا ڏينھن ناھيان ملھائيندو ڇو جو انھن خوشين وارن ڏينھن جي اچڻ سان غريبن کي پنھنجي غريب ھئڻ جو احساس وڌي ويندو آھي! عيد جو ڏينھن جتي انيڪ خوشيون کڻي کڻي حاضر ٿيندو آھي، اتي ھي ڏينھن انھي لاء ”خزان“ به بڻجي پوندو آھي! ڇاڪاڻ ته پنھنجن کان پري رھڻ ۽ وري خوشي جھڙن ڏھاڙن جي اچڻ سان جتي ڪنھن پل لاءِ خوشي محسوس ٿيندي آھي، اتي پنھنجائپ جو احساس سچ ۾ آڪٽوبر،نومبر ۽ ڊسمبر ئي لڳندو آھي٠٠ مطلب جيڪي پاڻ کي اڪيلو سمجھندا آھن نه چاھيندي به ھھڙن ڏينھن تي پنھنجن کان پري رھن ٿا، سفري يا وري جسماني مطلب نفرتن جي نگري ۾ ڦاٿل ماڻھو ويجھو ھوندي به ڄڻ زميني وڇوٽي تي ھوندا آھن!عيد ھڪ خوشين جو وقت آهي، پر اهو اسان مان انهن ماڻهن لاءِ به بيحد اداسي آهي، جيڪي پنهنجي خاندان جي ميمبرن سان گڏ خوشيون ونڊ نٿا ڪن ٿا يقينن سڀني رشتن سان گڏ ماءُ پيءُ جي غير موجودگي جو به ڪو احساس ٿي نٿو سگھي!جيتوڻيڪ منهنجي ماءُ کي وڇڙيل ڇھ سال ٿي ويا آهن، ۽ منهنجي بابا سائين کي چوڏهن سال ٿيا آهن،، سچ ۾ سوچيندي آھيان ڀلا امڙ ۽ بابي کان سواءِ ڀلا شمائلا جون عيدون به ڪھڙيون بس رسم نڀائڻ عيد ملھائڻ مجبوري آھي باقي اندر جي اڌمن جي ور چڙھيل خاص طور تي پنھنجائپ جو احساس ۽ جذبو رکندڙن لاءِ خوشين جي سڀئي ڏينھن ڄڻ وڌيڪ اذيت ڀريا لڳندا آھن،جڏهن ته دنيا جا ھر ڪم ھميشه رھن ٿا، پر ماءُ پيءُ ھميشه ناهي رھندا، ماءُ پيءُ کي وقت ڏيڻ گهرجي عيدون به انھن ساڻ ھونديون آھن، ۽ جن جا ماءُ پيءُ ھن دنيا ۾ نه آھن، ته انهن کي گھرجي ته قبرستان تي وڃن،

Show more
0
8

The list of all cities of the country

صبر۔ ایک ایسا لفظ جو ہم اکثر سنتے ہیں۔ غم میں، پریشانی میں، درد میں اور تکلیف میں۔ یہاں تک کہ جب ہماری کوئی دعا پوری نہ ہو رہی ہو تب بھی سب سے پہلے جو لفظ ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ صبر ہوتا ہے۔ لیکن یہ صبر ہوتا کیا ہے؟

صبر عربی زبان کا لفظ ہے جس کا روٹ ورڈ (ص۔ب.ر) ہے ۔ صبر کا مطلب خود کو باندھ لینا ہوتا ہے، باز رکھنا یا خود کو منفی ردعمل سے روکنا ہے۔ صبر آنسو نہ بہانے کا نام نہیں ہے کیونکہ اگر آنسو نہ بہانے ہوتے تو اللہ آنسو بناتے ہی نہیں۔ صبر تو ایک پوزیٹو ردعمل کا نام ہے۔

صبر کا مطلب ہے :

درد اور تکلیف میں یہ یقین رکھ کر پر سکون رہنا کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے۔ اس بات پر یقین رکھنا کہ اگر غم اور پریشانی اللہ نے دی ہے تو اس کا حل بھی وہی نکالے گا۔

یہ یقین رکھنا کہ اگر وہ ہماری دعا ابھی نہیں سن رہا تو کبھی تو سنے گا۔

صبر اس چیز کا نام ہے کہ ہم اپنی اس ایک قبول نہ ہونے والی دعا سے نظریں ہٹا کر دوسری نعمتوں کو دیکھیں۔ اس وقت میں قبول ہونی والی باقی دعاؤں پر نظریں جمائیں اور خود کو مایوسی کے سمندر سے نکال لیں۔

پتا ہے ایک بار میں نے کہیں سنا تھا کہ ہمیں اللہ سے صبر نہیں مانگنا چاہئے کیونکہ اس کے بعد ہم اپنی زندگی کے ایسے فیز میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں آزمائشیں ہوتی ہیں، تکالیف ہوتیں ہیں تاکہ ہم صبر کرنا سیکھ سکیں۔

لیکن صبر کے معنی سمجھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اللہ سے صبر ضرور مانگنا چاہئے۔ صبح شام مانگنا چاہئے بلکہ ہر وقت مانگنا چاہئے کیونکہ جب ہم میں صبر ہو گا تو ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ ڈھلتا سورج دیکھ کر ہمارے اندر تنہائی کا جو غبار اٹھتا ہے وہ نہیں اٹھے گا۔ ہمارے اندر کا سمندر پر سکون ہو جائے گا۔

Positivity is the keyto happiness 🖤🖇️

Show more
0
13
https://avalanches.com/pk/peshawar_1937286_29_04_2022

سیاسی شعور

مدثرعباس


اس وطن عزیز میں جمہوریت کو ایک اعلی مقام حاصل ہیں، جو لوگ اس وطن عزیز کے ہمدرد ہے وہی لوگ اس وطن عزیز میں رہتے ہوئے غریب لوگوں کو انکے حقوق دلانے میں سیاسی طریقہ کار کو اپنا کر ایک حاص فلور پر غریبوں کے حقوق کیلئے لڑتے ہیں، اب یہاں پر دو قسم سیاسی لوگ سیاست کرتے ہیں جو ایک دوسرے میں ضم ہونے جارہی ہیں، ایک اعلی تعلیم یافتہ اور دوسرے اَن پڑھ لوگ، کہنے کا مطلب ہے کہ سیاست میں ایک قسم گروہ ضم ہورہی ہیں، جو کہ نا تو سیاست کا طریقہ کار جانتے ہے اور نا ہی تنظیم سازی، وہی گروہوں میں سیاسی شعور کی عدم موجودگی کے باعث یہ سیاست سے فرقہ واریت کا راستہ اختیار کرلیتی ہیں _ جو کہ اس سے بدامنی کو پورا موقع مل جاتی ہیں اور وہ اس ریاست کی ساکھ کو مٹی میں ملا کر خاک کردیتی ہیں، تو سیاست میں فرقہ واریت سے بچنے کیلئے سیاسی لیڈروں کو سب سے پہلے تعلیم و تربیت پر کام کرنا ہوگا اور اس کے بعد سیاسی شعور کو لوگوں میں ایک مہذب انداز سے پیدا کرنے ہوگا جو کہ لوگوں میں دوسرے سیاسی پارٹیوں اور اُن کے کارکنوں کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہوں، پر اس وطن عزیز میں سیاسی لیڈروں کا منشور، گالی گلوچ، چور ڈاکوں، پٹواری، یوتھیا، اسکے علاوہ سیاسی لیڈروں کو کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نا تو اس ملک عزیز میں بلوچ قوم پر ظلم ہورہاہیں نا تو یہ ملک عزیز ترقی میں کسی کے پیچھے ہیں جو کہ سیاسی لیڈر اس پر کام کریں اور اس ملک عزیز کو دنیا کی نظروں میں اہمیت دیں ..........

یہاں پر ہمارے پاس سیاسی شعور کی کمی کا امدازہ اس لگایا جاسکتا ہیں کہ کوئی جرنلسٹ سوال اٹھائے تو انکو بھی گالیوں کا ہار پہنایا جاتا ہیں اور یہ چیز پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے میں حد درجے مدد دیتا ہیں جو کہ زوال کی نشانیوں میں سے ایک ہیں


Show more
0
4
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934405_28_04_2022


افلاس اور معاشرتی بھوک


مدثر عباس

14

اگست کی رات تھی وطن کی سلامتی کا رہاتھا کہ وطن کے باسیوں نے ایک دوراندیشی جیسی گہری سوچ میں گم کردیا ـ اور یہ سلسلہ معاشرے کے سمندر کی دھاڑے مارتی ہوئی ایک زوردار لہر پر جا کے رکا، جو ہے مسئلہ غربت _ غربت کبھی انسان کو وراثت میں ملتی ہیں اور کبھی وراثت ہی انسان کو افلاس کے چوکھٹ پر لاکے پھینک دیتی ہیں - آج کل انسان اسی بلا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی بھرپور جدوجہد کررہاہے- اور جب وہ کسی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے- تو وہ قدم جو اس نے نہایت تنگدستی اور غربت کی وجہ سے رکھی ہوتی ہیں وہی اسکی عزت اور مال کی اوبال اور زوال کا سبب بن کر ابھرتی ہےـ کیونکہ جہاں پر دوسرے کے حق کو اپنا حق سمجھ کر بیچا جاتا ہے ـ وہاں پر کیونکر ایک خاندان خوشحال رہ سکتا ہیں ـ دوسری طرف جب چار بچوں کو غربت کی ٹھوکری میں لئے ایک بیوہ ان کی مستقبل کی تلاش میں مدد کی رسی کا ایک سرا تھام لیتی ہیں ـ تو وہاں پر جنسی ہوس کے بھوکے درندے رسی کا دوسرا سرا پکڑے نہایت بے پرواہی اور بے دردی سے اسکی مجبوری کو پیروں تلے روند دیتی ہیں ـ اور وہ مجبوری کی حالت میں پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے اپنے نفس کا سودا کرتی ہےـ

یہ حوس کے بھوکے اور نفس کے غلام درندے اس معاشرے کیلئے ناسور بنتی جارہی ہیں ـ جس کی بیخ کنی جتنا جلد ممکن ہوں ـ کیا جانا چاہئے - مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارا وطن جو ایک اسلامی ریاست کے ماخوذ ہے ـ

جو لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے نام پر بنا ہےـ

جو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہےـ

جس میں رہ کر ایک انسان اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہیں

آج اسکا قانون اندھا ہوچکا ہے ـ اجک اسلامی ریاست کے ہوتے ہوئے ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عزت چادر اور چاردیواری تک محفوظ نہیں ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے پھررہے ہیں ـ انتہائی افسوس کا مقام ہےـ ہمیں اپنی گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ ایک اسلامی مملکت کے ہوتے ہوئے ہم عزتوں کو محفوظ نہیں کرسکتے ـ آئیں عزم کریں! ہمیں خود اٹھنا ہوگا اور ہوس کے ان پجاریوں کا سر کچلنا ہوگا ورنہ مستقبل میں یہ ہماری نسلوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے جسکے ہم خود زمہ دار ہونگے -


Show more
0
2
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934401_28_04_2022

اہلیت بدعنوانی کو شکست دیتی ہے


  • مدثرعباس

رشوت یا بدعنوانی سے مراد ناجائز زرائع آمدنی حاصل کرنا ہےـ جو کسی فرد سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو نقصان پہنچنے کا سبب ہوـ

رشوت یا بدعنوانی جو اس وقت ایک لاعلاج مرض کی طرح ہو- اور دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں ـ جس کا فوری طور پر کوئی حل بھی ممکن نظر نہیں آرہا اس وجہ سے معاشرے تباہی کی لپیٹ میں ہےـ ایک عام آدمی سے لے کر بڑے آدمی تک لوگوں کی اکثریت اس برائی میں مبتلا ہیں ـ افسوس ناک پہلوں یہ ہے کہ حکومتوں کے اعلٰی عہدیدار سیاستدان سب کے سب اس بہتی کنگا میں ہاتھ دھوں رہے ہیں ـ یہ جمہورت اور انسانی حقوق کو کمزور کرتی ہیں سرکاری ونجی وسائل کو بہالے جاتی ہےـ لوگوں میں جب تعلیم ہوگی تو ان شعور ہوگی تو ان کا شعور بیدار ہوگا ـ جو وہ اپنے اور سہولتوں کے حصول کیلئے کوشش کرسکتے ہےـ لیکن تعلیم کی کمی بھی بدعنوانی کو فروغ دیتی ہےـ جو وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے طریقے سے اگاہ نہیں کرتے اور تعلیم کے فقدان کی وجہ سے بدعنوانی لوگ ایسے افراد کا استحصال کرتے ہے جو اپنے حقوق سے اگاہ نہیں ہوتےـ بدعنوانی کو شکست دینے کیلئے ہر انسان کی بہترین تربیت ہونی چاہئے ـ اچھی اور بہترین تربیت سب سے پہلے ماں کی گود سے ملتی ہیں، جب ماں باپ اپنے بچوں کو جس طرح تربیت دیتے ہیں تو وہ وہی راستہ اختیار کرلیتے ہیں قابلیت اور اعلٰی تعلیم اہلیت بدعنوانی کا بہترین انتقام ہےـ یہ انتقام جاری ہے اور جاری رہے گا ـ جس علاقے میں بہترین تربیت اعلٰی تعلیم قابلیت و اہلیت اور ایمانداری ہو تو وہاں بدعنوانی کا نام ونشان ہی نہیں رہتا ـ جہاں اہلیت و ایمانداری ہو تو وہاں بدعنوانی کو لازمی طور پر شکست ہوگی ـ ورنہ یہ ایسی بیماری ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہر ادارے میں یہ بیماری موجود ہےـ جب ادارے خراب ہوں تو پورا ملک زوال زوال پذیر ہوتا ہےـ بدعنوانی یا کرپشن کو ختم کرنے میں والدین اور ساتذہ کا کردار بہت اہم ہےـ اس لئے نئی نسل کو بہترین تربیت اور اخلاقیات فراہم کرے ـ تا کہ وہ غلط کام نہ کرے انصاف اور حقوق العباد کا استعمال کریں پھر سارا نظام میرٹ پر کام کریں گا جہاں میرٹ ہوگا وہی ترقی ہوگی ـ اہلیت و قابلیت کے ساتھ ساتھ بہترین کردار ہونا بھی لازمی ہے ـ جب اہلیت موجود نہ ہوں تو یہ بیماری اور بڑھتی جارہی ہےـ درجہ بندی فہرست میں پاکستان بھارت سمیت جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک شامل ہیں ـ اب بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں ـ لیکن بہت کم ہے جو بدعنوانی کو شکست دے سکتے ہیں ـ

Show more
0
2
https://avalanches.com/pk/mardan_former_prime_minster_of_islamic_republic_of_pakistan_tweeted1932734_26_04_2022

Former Prime Minster of Islamic republic of Pakistan Tweeted

Strongly condemn the terrorist attack targeting Chinese teachers of Karachi University. This is yet another attack with a specific agenda of trying to undermine Pak-China strategic r'ship. We must ensure defeat of this foreign-backed agenda of our enemies.

Show more
0
14

اسلام علیکم

مجھے ڈائری لکھنے کا شوق ہے۔ لیکن اب میں ڈائری لکھ کے بور ہو جاتی ہوں تو میں نے سوچا کیوں نہ میں کچھ ایسا لکھوں جسے باقی لوگ بھی پڑھ سکیں اور اس سے کچھ سیکھ سکیں؟

So I made this account some time ago(April 21, 2022) and I hope we'll learn something from it۔

You guys can call me "dreamer. ''

You can suggest me topics to write about.

Show more
0
10