ویڈیو پاکستان کی نہیں ہے. یہ ویڈیو بنگل پشاور

ویڈیو پاکستان کی نہیں ہے.

یہ ویڈیو بنگلہ دیش کی ہے. جو اپریل/مئی 2020 کو سامنے آئی تھی. تب بنگلہ دیش کے علاقے فرید پور، دادپور بولمری میں ایک واقعہ سامنے آیا تھا جہاں دو فریقوں کے مابین لڑائی ہوئی اور اُس میں ایک شخص کو علاج کے دوران مار دیا گیا تھا. اِس ویڈیو کو غلط طریقے سے اُس کیس سے جوڑا گیا لیکن اِس ویڈیو کا اُس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا.


حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو کسی کرونا وارڈ یا کرونا مریض کی نہیں ہے. اور نہ ہی اِس ویڈیو میں مریض کو مارا جا رہا ہے. بلکہ یہ ایک فرد(شاید بیٹا) کسی مریض کو زبردستی دوائی دینے کی کوشش کر رہا ہے. اگر ویڈیو کو بغور دیکھا جائے تو آپ کو علم ہوگا کہ کسی بھی پوائنٹ پر اِس شخص نے مریض کے گلے کو ہاتھ نہیں لگایا بلکہ ایک جگہ صاف واضح ہے کہ وہ مریض کو دوائی دینے کی کوشش کر رہا ہے.


نوٹ: یہ ویڈیو بنگلہ دیش سے نکل کر انڈیا میں وائرل ہوئی اور اب پاکستان میں گردش کر رہی ہے.

0
18
There are no advertisements in the Peshawar yet
Other News PK-122185
https://avalanches.com/pk/peshawar__mtj1_1490360_02_04_2021

#MTJ1

سوشل میڈیا پر ایک قیمتی گاڑی کو محض نمبر پلیٹ کی وجہ سے مولانا طارق جمیل کے ساتھ منسوب کر کے جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا.

مولانا طارق جمیل نے تردید کر دی:

ٹویٹ کا لنک:


https://twitter.com/TariqJamilOFCL/status/1377582938481647620?s=19

0
21
Other News Peshawar
https://avalanches.com/pk/peshawar_1937286_29_04_2022

سیاسی شعور

مدثرعباس


اس وطن عزیز میں جمہوریت کو ایک اعلی مقام حاصل ہیں، جو لوگ اس وطن عزیز کے ہمدرد ہے وہی لوگ اس وطن عزیز میں رہتے ہوئے غریب لوگوں کو انکے حقوق دلانے میں سیاسی طریقہ کار کو اپنا کر ایک حاص فلور پر غریبوں کے حقوق کیلئے لڑتے ہیں، اب یہاں پر دو قسم سیاسی لوگ سیاست کرتے ہیں جو ایک دوسرے میں ضم ہونے جارہی ہیں، ایک اعلی تعلیم یافتہ اور دوسرے اَن پڑھ لوگ، کہنے کا مطلب ہے کہ سیاست میں ایک قسم گروہ ضم ہورہی ہیں، جو کہ نا تو سیاست کا طریقہ کار جانتے ہے اور نا ہی تنظیم سازی، وہی گروہوں میں سیاسی شعور کی عدم موجودگی کے باعث یہ سیاست سے فرقہ واریت کا راستہ اختیار کرلیتی ہیں _ جو کہ اس سے بدامنی کو پورا موقع مل جاتی ہیں اور وہ اس ریاست کی ساکھ کو مٹی میں ملا کر خاک کردیتی ہیں، تو سیاست میں فرقہ واریت سے بچنے کیلئے سیاسی لیڈروں کو سب سے پہلے تعلیم و تربیت پر کام کرنا ہوگا اور اس کے بعد سیاسی شعور کو لوگوں میں ایک مہذب انداز سے پیدا کرنے ہوگا جو کہ لوگوں میں دوسرے سیاسی پارٹیوں اور اُن کے کارکنوں کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہوں، پر اس وطن عزیز میں سیاسی لیڈروں کا منشور، گالی گلوچ، چور ڈاکوں، پٹواری، یوتھیا، اسکے علاوہ سیاسی لیڈروں کو کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نا تو اس ملک عزیز میں بلوچ قوم پر ظلم ہورہاہیں نا تو یہ ملک عزیز ترقی میں کسی کے پیچھے ہیں جو کہ سیاسی لیڈر اس پر کام کریں اور اس ملک عزیز کو دنیا کی نظروں میں اہمیت دیں ..........

یہاں پر ہمارے پاس سیاسی شعور کی کمی کا امدازہ اس لگایا جاسکتا ہیں کہ کوئی جرنلسٹ سوال اٹھائے تو انکو بھی گالیوں کا ہار پہنایا جاتا ہیں اور یہ چیز پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے میں حد درجے مدد دیتا ہیں جو کہ زوال کی نشانیوں میں سے ایک ہیں


Show more
0
10
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934405_28_04_2022


افلاس اور معاشرتی بھوک


مدثر عباس

14

اگست کی رات تھی وطن کی سلامتی کا رہاتھا کہ وطن کے باسیوں نے ایک دوراندیشی جیسی گہری سوچ میں گم کردیا ـ اور یہ سلسلہ معاشرے کے سمندر کی دھاڑے مارتی ہوئی ایک زوردار لہر پر جا کے رکا، جو ہے مسئلہ غربت _ غربت کبھی انسان کو وراثت میں ملتی ہیں اور کبھی وراثت ہی انسان کو افلاس کے چوکھٹ پر لاکے پھینک دیتی ہیں - آج کل انسان اسی بلا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی بھرپور جدوجہد کررہاہے- اور جب وہ کسی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے- تو وہ قدم جو اس نے نہایت تنگدستی اور غربت کی وجہ سے رکھی ہوتی ہیں وہی اسکی عزت اور مال کی اوبال اور زوال کا سبب بن کر ابھرتی ہےـ کیونکہ جہاں پر دوسرے کے حق کو اپنا حق سمجھ کر بیچا جاتا ہے ـ وہاں پر کیونکر ایک خاندان خوشحال رہ سکتا ہیں ـ دوسری طرف جب چار بچوں کو غربت کی ٹھوکری میں لئے ایک بیوہ ان کی مستقبل کی تلاش میں مدد کی رسی کا ایک سرا تھام لیتی ہیں ـ تو وہاں پر جنسی ہوس کے بھوکے درندے رسی کا دوسرا سرا پکڑے نہایت بے پرواہی اور بے دردی سے اسکی مجبوری کو پیروں تلے روند دیتی ہیں ـ اور وہ مجبوری کی حالت میں پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے اپنے نفس کا سودا کرتی ہےـ

یہ حوس کے بھوکے اور نفس کے غلام درندے اس معاشرے کیلئے ناسور بنتی جارہی ہیں ـ جس کی بیخ کنی جتنا جلد ممکن ہوں ـ کیا جانا چاہئے - مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارا وطن جو ایک اسلامی ریاست کے ماخوذ ہے ـ

جو لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے نام پر بنا ہےـ

جو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہےـ

جس میں رہ کر ایک انسان اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہیں

آج اسکا قانون اندھا ہوچکا ہے ـ اجک اسلامی ریاست کے ہوتے ہوئے ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عزت چادر اور چاردیواری تک محفوظ نہیں ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے پھررہے ہیں ـ انتہائی افسوس کا مقام ہےـ ہمیں اپنی گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ ایک اسلامی مملکت کے ہوتے ہوئے ہم عزتوں کو محفوظ نہیں کرسکتے ـ آئیں عزم کریں! ہمیں خود اٹھنا ہوگا اور ہوس کے ان پجاریوں کا سر کچلنا ہوگا ورنہ مستقبل میں یہ ہماری نسلوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے جسکے ہم خود زمہ دار ہونگے -


Show more
0
10
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934401_28_04_2022

اہلیت بدعنوانی کو شکست دیتی ہے


  • مدثرعباس

رشوت یا بدعنوانی سے مراد ناجائز زرائع آمدنی حاصل کرنا ہےـ جو کسی فرد سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو نقصان پہنچنے کا سبب ہوـ

رشوت یا بدعنوانی جو اس وقت ایک لاعلاج مرض کی طرح ہو- اور دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں ـ جس کا فوری طور پر کوئی حل بھی ممکن نظر نہیں آرہا اس وجہ سے معاشرے تباہی کی لپیٹ میں ہےـ ایک عام آدمی سے لے کر بڑے آدمی تک لوگوں کی اکثریت اس برائی میں مبتلا ہیں ـ افسوس ناک پہلوں یہ ہے کہ حکومتوں کے اعلٰی عہدیدار سیاستدان سب کے سب اس بہتی کنگا میں ہاتھ دھوں رہے ہیں ـ یہ جمہورت اور انسانی حقوق کو کمزور کرتی ہیں سرکاری ونجی وسائل کو بہالے جاتی ہےـ لوگوں میں جب تعلیم ہوگی تو ان شعور ہوگی تو ان کا شعور بیدار ہوگا ـ جو وہ اپنے اور سہولتوں کے حصول کیلئے کوشش کرسکتے ہےـ لیکن تعلیم کی کمی بھی بدعنوانی کو فروغ دیتی ہےـ جو وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے طریقے سے اگاہ نہیں کرتے اور تعلیم کے فقدان کی وجہ سے بدعنوانی لوگ ایسے افراد کا استحصال کرتے ہے جو اپنے حقوق سے اگاہ نہیں ہوتےـ بدعنوانی کو شکست دینے کیلئے ہر انسان کی بہترین تربیت ہونی چاہئے ـ اچھی اور بہترین تربیت سب سے پہلے ماں کی گود سے ملتی ہیں، جب ماں باپ اپنے بچوں کو جس طرح تربیت دیتے ہیں تو وہ وہی راستہ اختیار کرلیتے ہیں قابلیت اور اعلٰی تعلیم اہلیت بدعنوانی کا بہترین انتقام ہےـ یہ انتقام جاری ہے اور جاری رہے گا ـ جس علاقے میں بہترین تربیت اعلٰی تعلیم قابلیت و اہلیت اور ایمانداری ہو تو وہاں بدعنوانی کا نام ونشان ہی نہیں رہتا ـ جہاں اہلیت و ایمانداری ہو تو وہاں بدعنوانی کو لازمی طور پر شکست ہوگی ـ ورنہ یہ ایسی بیماری ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہر ادارے میں یہ بیماری موجود ہےـ جب ادارے خراب ہوں تو پورا ملک زوال زوال پذیر ہوتا ہےـ بدعنوانی یا کرپشن کو ختم کرنے میں والدین اور ساتذہ کا کردار بہت اہم ہےـ اس لئے نئی نسل کو بہترین تربیت اور اخلاقیات فراہم کرے ـ تا کہ وہ غلط کام نہ کرے انصاف اور حقوق العباد کا استعمال کریں پھر سارا نظام میرٹ پر کام کریں گا جہاں میرٹ ہوگا وہی ترقی ہوگی ـ اہلیت و قابلیت کے ساتھ ساتھ بہترین کردار ہونا بھی لازمی ہے ـ جب اہلیت موجود نہ ہوں تو یہ بیماری اور بڑھتی جارہی ہےـ درجہ بندی فہرست میں پاکستان بھارت سمیت جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک شامل ہیں ـ اب بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں ـ لیکن بہت کم ہے جو بدعنوانی کو شکست دے سکتے ہیں ـ

Show more
0
8
Other News Pakistan
https://avalanches.com/pk/rahimyarkhan_nadeem_balloch_biography2645137_26_06_2022
https://avalanches.com/pk/rahimyarkhan_nadeem_balloch_biography2645137_26_06_2022
https://avalanches.com/pk/rahimyarkhan_nadeem_balloch_biography2645137_26_06_2022
https://avalanches.com/pk/rahimyarkhan_nadeem_balloch_biography2645137_26_06_2022
https://avalanches.com/pk/rahimyarkhan_nadeem_balloch_biography2645137_26_06_2022

NADEEM BALLOCH Biography

NADEEM BALLOCH is a Entrepreneur From Pakistan and internet Celebrity. A young actor from Rahim yar Khan. He was Born in March 5 2002 in his district Rahim Yar Khan #nadeemballoch

Show more
0
4
https://avalanches.com/pk/bahawalnagar_career_ranjhy_wala_he_started_his_music_journey_in_june_2021_with_a_s2632010_25_06_2022

Career

Ranjhy Wala he started his music journey in June 2021 with a song name Makeup. makeup Full song with lyrical video in the voice of Nasir Ranjhy Wala The music of this song is given by Mehmood J and written by Nasir Ranjhy Wala The lyrical video made by Huzaifa Sharif. In June 2021, his song Makeup was released under the label of Lahoriye.

Show more
0
3
Other world news
https://avalanches.com/in/thiruvananthapuram_bazin_known_professionally_as_bazin_bs_is_an_indian_artist_youtu2827162_05_07_2022

BAZIN , known professionally as 'BAZIN BS' is an Indian, artist, YouTuber Personality & Influencer based in KERALA ,(India). Born on 16 - April - 2004 . He was introduced to the music industry launch his first soundtrack which titled as ‘bazin, Released by SoundCloud first. After some days He release his music on different music platforms like Spotify, GoogleMusic, Apple Music, Amazon Music, Hungama, Gaana, Wynk, jaxtsta, beatport, JioSaavn and many others international platforms like Deezer, TikTok, Instagram or Facebook library also .

family His Father Mr. Baiju mk is a Busniess man and his Mother Simi baiju is a household lady. After the completion of his higher education, ‘Bazin’ enrolled in “Ghss kulathoor Kerala ” He is also works as on an Amazon Influencers he uses to promote companies through Instagram ‘bazin’ is also well known ‘Influencer’ personality on Instagram and Facebook and many more Social Media platform ! ‘Bazin’ said if you can think then you can do it as well doesn’t matter whether you thinking about to fly without wings or want to be a rich as Mammooty are. Without thinking you can’t accomplish your goals just thing about your goals then think again that how it could be possible then think again that when you are going to start that thing which will the path of your success. So just think and go for it doesn’t stop repeating again don’t stop

Show more
1
5
https://avalanches.com/ng/lagos_olabode_olajumoke_78_celebrating_extraordinary_years_of_positive_impa2739581_30_06_2022

Olabode Olajumoke @78 Celebrating Extraordinary Years of Positive Impacts ,Sterling National Standing


Raji Bomodeoku


In today's climate, leadership is examined from one of the tenets mostly denoted by the values that are appreciated within a culture as an influence that is capable of producing some valuable results that are considered from that cultural standpoint.

Indeed ,many have done far better as individuals and as members of their local and national communities. When the attendance of those who have made remarkable memories in our Nation is called. One name that will feature prominently is Olabode Olajumoke . Olajumoke's impact can be traced to his strides in the political, economic and humanitarian landscape of Nigeria.

Olajumoke has gone on to show that creating insight and taking action are winning combination for anyone coming from a humble background . Only a few people have done more impacts to others like they would to themselves. Olajumoke is a deeply good man from searchlight and one of the evidences that Nigeria was blessed with great Leaders.

Growing up as a young Man in the Precincts of Imeri in Ondo State . Olajumoke's mission from outset was how to serve his fatherland, inspiring many other similar thinkers to stimulate a national synergy for his people’s emancipation at the National front.


One of the inspiring accounts of Olajumoke’s groundbreaking success in community development was the founding of Imeri Unity Group, a socio political group with the intention of increasing the presence of his Yoruba speaking Imeri minority people at the frontline of National Politics . He was concerned that his people of Yoruba extraction should move from regional political theatre to national as the centre influences so many critical decisions in Nigeria. The focus of IUG therefore was to galvanise the Yoruba speaking people of the six Southwest states and the two states of Kogi and Kwara to play central politics.

This strategy was successful as the movement attracted followers of Governor Lateef Jakande and his deputy Rafiu Jafojo, Chief J.S Olawoyin of Offa, Chief Yomi Akintola and Chief Oluwole Awolowo both from the prominent families of late S.L.A. Akintola’s family of Ogbomoso and late Chief Obafemi Awolowo’s of Ikenne among other prominent Western flank leaders.

One of the most significant achievements of IUG was the unification of the two famous Yoruba families of Awolowo and Akintola. For almost 35 years - the rift that several Yoruba monarchs could not resolve at that time was settled. Indeed the only three instances that IUG monthly meetings were ever moved out of Imeri were when Chief Oluwole Awolowo hosted IUG meeting at Efunyela Hall, Ikenne and the following month in the Ogbomoso family home of late Chief SLA Akintola by his eldest son Chief Yomi Akintola. IUG also honoured late Chief J.S. Olawoyin by Senator Salawu of Offa hosting IUG in Offa after the Ogbomoso meeting.

Modern history will be kind with Olajumoke as his emergence to the elite group did not only open ways for a turnaround in public representation , he set some standard metrics for future seekers of public office, building a lasting legacy for his people of Ondo North and influencing a national landmark for people living with disabilities. Prior to being elected into the Nigerian Senate where he served as the Senate’s Committee Chairman on Navy. He is noted for sponsoring the disability bill which drew national consciousness to the need to make all public and private facilities accessible to people living with special needs as it is practiced in civilized world .

This remarkable bill had been tested and actualized some years earlier when Dr Bode Olajumoke was the Pro-Chancellor and Chairman of Council of Adekunle Ajasin University, Akungba-Akoko. As the Pro-Chancellor, he converted the institution from a glorified secondary school into a modern University such that within two years of his being Chairman of Council, the school was adjudged the best state university in Nigeria by the Nigerian Universities Commission. Massive road networks sprawled the university landscapes, modern lecture theatres were constructed. He insisted that all the emerging structures - roads, buildings, lecture theatres were all disabled compliant. He did not limit this campaign to Adekunle Ajasin University. As a prominent member of the national conference of Pro-Chancellors, he persuaded his colleagues to adopt the policy of making their campuses disabled friendly. Some Pro-Chancellors visited his University to duplicate the concept. Such was his passion for the disabled and less privileged that at the earliest opportunity he had as a Senator, his major bill on disability in the one term he was privileged to serve was passed by the Senate into law. The Nigerian Navy honored him with a Navy Secondary School in his home town Imeri as a recognition for effective Senate Leadership.

He had served pre-eminently as a Federal Civil Servant and played notable roles in the return of democracy in 1999. His civil service years was condoned after twenty five years of meritorious service. Professionally , Olajumoke was inspired to read Law after covering the famous treasonable felony case of the FGN vs Dr Tunji Otegbeye as an intern-reporter with the Daily times of Nigeria in 1965. He got the Soviet Union Scholarship in 1965 to study law at the famous Friendship University , Moscow where he bagged LL.M in flying colours. He Later proceeded to the University of Edinburgh in the UK where he bagged a Doctorate Degree in the International Law Department of the Prestigious University. Olajumoke has been an advocate of true federalism tackling several extra-constitutional tendencies in teaching and through court prayers as a liberal exponent with complete believe in the principles of liberty, freedom of people and Nations.

Born on the 1st of July ,1944 , in Imeri ,Olajumoke’s growing up set the foundation for his exemplary journey and disciplined life as a member of the Boys Scout where he mastered the most important leadership lessons in developing young people to become self fulfilled as individuals and play constructive roles in the society using the scout method . He has throughout his scouting journey developed special interest in people living with special needs . At the 100th year celebration of the founding of Scouting in 2007 World Scout Jamboree at Essex, London. Olajumoke sponsored several Scouts from Schools of deaf and impaired hearing to the World events raising hope for the children to dream again . He has served on the Board of The Scout Association of Nigeria as its Deputy Board Chairman. He has strong passion for charity and his many years work has created some of the notable charity organizations that are restoring hopes for people with extreme conditions. Among these is the mission to save the helpless MITOSATH. - the first Chairman was late Prof. Olikoye Ransome-Kuti and was succeeded by Dr. Bode Olajumoke. Rtd General T.Y. Danjuma is the Grandpatron.

Dr Bode Olajumoke has been a member, Board of Trustees of PDP since year 2000. He is not a shifty politician and so has been very constant in his vision when he ran for the Nation’s Presidency under APP in 1999.

Long before Dr. Bode Olajumoke contested the Senate seat, he had sponsored many budding politicians for elective and executive offices. In year 2007, he eventually ran for the Senatorial seat of his Ondo North and won one of the largest votes nationwide.

He is a Member of the Board, University of Ibadan Advancement Centre since over a decade.

At 78 , Olajumoke’s example serving leadership is still rubbing positively in the heart of Nigeria and everywhere else that he has made footprints throughout his proud history .

Our thoughts and prayers are with the Statesman on the auspicious occasion of his 78th birthday.

Show more
0
56