There are no advertisements in the Rawalpindi yet

PM Imran welcomes Canadian counterpart Trudeau's appointment of special rep to tackle Islamophobia

Prime Minister Imran Khan on Sunday commended his Canadian counterpart Justin Trudeau for his "unequivocal condemnation" of Islamophobia — a term describing unfounded dislike and denigration of Muslims — and emphasized a concerted approach to "put an end to this menace".

The premier's remarks come a day after Trudeau called out Islamophobia in a message on Twitter and announced the appointment of a special representative to combat it.

"Islamophobia is unacceptable. Full stop. We need to put an end to this hate and make our communities safer for Muslim Canadians," Trudeau wrote in a tweet.

PM Imran today welcomed Trudeau's plan to tackle the "contemporary scourge".

The prime minister recalled that a timely call for action from Trudeau resonated with what he had been long arguing. "Let us join hands to put an end to this menace," he added.

Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi said that PM Imran had consistently drawn the world's attention to the "harms of Islamophobia".

"Pakistan appreciates and welcomes PM Trudeau's firm stance against Islamophobia and the tangible action Canada is taking against it," he said.

According to the Canadian government, the details on the role and mandate of the special representative will be confirmed at a later date.

In an official statement posted on its website, the Canadian government said that Islamophobia and hate, in any form, had no place in the country.

"Islamophobia is a concrete and daily reality for Muslim communities across Canada and around the world. As we honor the victims, we must remember that we have a responsibility to combat discrimination and continue to build a more inclusive Canada," the government said.

The Trudeau-led government said a whole-of-government approach to tackling systemic racism with dedicated knowledge and expertise was needed to combat different forms of racism, including Islamophobia, and to advance digital and civic literacy initiatives that address online disinformation and hate speech.

PM Imran had in his address to the United Nations General Assembly in New York in 2019 condemned Islamophobia and expressed concern that it had grown at an alarming pace.

"Islamophobia is creating divisions, hijab is becoming a weapon; a woman can take off clothes but she can't put on more clothes," he had said.

Last year, the prime minister had called upon the world leaders to crack down on online hate speech and Islamophobia following the deadly truck attack in Ontario, Canada.

The prime minister had said the recent pattern of domestic terror in Western countries demanded a heightened focus on online radicalization.

Show more

Sourcing content doesn't have to be difficult

Finding the right content for your website may seem difficult, expensive, or both. But it doesn't have to be. I offer quality content writing services at affordable prices and with no fuss.

Looking for Custom Content?

Don't see what you need? We offer custom content writing services as well. Submit your content request to me, and I’ll deliver exactly what you need.

Hi! I am a full-time freelancer, writer and currently running my own work for content writing.

Here is what you will get from my service:

· Easy to understand and engaging content from 500 to 2000


· Well researched and high-quality article

· Grammar and spellings are checked using Grammarly

· Manually Proofread

· Proper structure of H1, H2, and H3 titles

· Fast Delivery

· 100% satisfaction guaranteed

· You own 100% rights

· No plagiarism – 100% unique

· Starting at just $10, I will write a well-researched article for your blog or website.

· Turnaround in under 24 - 72 hours.

Please do not hesitate to reach out to me if you have any queries. You can find some of my writing samples by scrolling through the images in this gig.

Let’s get started.

Show more

۔۔۔ عالم اسلام کے لئے انتہائی خبر غم۔۔۔۔۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔۔پاکستان غم میں ڈوب گیا۔

ایٹمی پاکستان کے روح رواں

محسن پاکستان ، محافظ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان علی الصبح 6:20 دنیا فانی کو چھوڑ گے نماز جنازہ آج 10 اکتوبر 2021 دن 3:30 بجے شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی جائے گی-محسن پاکستان ہم آپ سے شرمندہ ہیں ۔جس عزت و احترام کے آپ قابل تھے وہ ہم نہ دے سکے۔اللہ پاک آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی وفات پر گہرا دکھ اور افسوس ہوا اور ملک وقوم کے لیئے ایک ایسا سانحہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی بدولت آج ہر پاکستانی اپنا سر اٹھا اور دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جی رہا ھے محسن پاکستان کی ملک قوم کیلے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔

Journalist association social media

Show more

السلام علیکم !

لہجہ !!

لہجہ ہماری گفتگو پر بہت اثرانداز ہوتا ہے، ہماری گفتگو کا دارومدار ہی ہمارے لہجے اور ہمارے الفاظ کے چناؤ پر مبنی ہوتا ہے۔ گفتگو ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے۔ ہمیں کسی سے تعلقات رکھنے کے لیے مواصلات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے الفاظ کا استعمال کر جاتے ہیں جس سے سامنے والا شخص منفی مطلب لے لیتا ہے اور ہم بعد میں اسے یقین دلاتے رہتے ہیں کہ یار ہمارا ایسا مطلب نہیں تھا اور بعض دفعہ ہم ایک ہی لفظ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کا مطلب بدل جاتا ہے۔

ہمیں اپنی زندگی میں اچھے الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے. چاہے ہم کسی رشتہ دار سے بات کر رہے ہیں, کسی ساتھ کام کرنے والے سے بات کر رہے ہیں یا کسی ایسے شخص سے بات کر رہے ہیں جو ہمارے لئے بالکل اجنبی ہے.

اگر ہم اپنے الفاظ کو چناؤ مثبت کریں تو ہمارے تعلقات بہتر ہوں گے۔ مثلًا کسی سے بات کے اختتام پر ہم اس کو Take Care کہتے ہیں تو وہ جواب میں Thank You کہہ دے گا، لیکن اگر کسی کو ہم ایسے کہتے ہیں کہ یار اپنا خیال رکھنا! تو اس لحاظ سے اس پر مثبت اثر جائے گا حالانکہ دونوں الفاظ کا مطلب ایک ہی ہے. پہلا صرف ایک رسماً لفظ ہے اور دوسرے لفظ میں جذبات بھی شامل ہیں۔

اس لئے اپنے الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کریں تاکہ سننے والا آپکی گفتگو سے مسرور ہو. اس کے دل میں آپ سے دوبارہ ملنے کی چاہ پیدا ہو اور آپکی شخصیت کا مثبت اثر پڑے.

(Shahid Habib)


Show more

دشمن کے ہتھیاروں میں اب صرف دو کارتوس ہیں

ایک کا نام فرقہ پرستی ہے

اور دوسرے کا نام قوم پرستی ہے۔

پہلے کچھ عرصے سے پاکستان میں دشمن ایک چال چل رہا ہے جو کہ فرقہ پرستی ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فرقہ وارانہ انتہا پسندی ملکی سالمیت اور قومی وحدت کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ فرقہ واریت اور مسلکی انتہا پسندی یقیناً کسی بھی ملک کی بقاء کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ3 عشروں سے فرقہ پرست عناصر کی قوم دشمن اور وطن مخالف سرگرمیوں کی جولان گاہ بنا ہوا ہے۔

پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا جس میں پاکستانیوں کو آپس میں لڑانے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کرنی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دشمن ہر وقت تاک میں رہتا ہے کب پاکستان میں ذرا سی صورتحال خراب ہو اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں

ہمیں دشمن کے ارادوں کو سمجھنا ہو گا اور ان کو منہ توڑ جواب دینا ہو ہمیں اپنی صفوں کو مظبوط رکھنا ہو گا تاکہ دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب نا ہو۔

اب کچھ بات کرتے ہیں قوم پرستی پر

حالیہ برسوں میں پاکستان میں قوم پرستی کو ایک عروج ملا جس میں دشمن نے آلہ کار پاکستان میں وجود ملک دشمن عناصر اور پاکستان کے غداروں کو بنایا

اگر ہم بات کریں پشتون، ہزارہ، بلوچستان؛ گلگت، سندھ، پنجاب، کشمیر کی تو قوم پرستی عروج پر ہے

پشتون کے نام پر ایک جماعت جیسے پشتون سے کوئی ہمدردی نہیں ہر وقت تاک میں رہتی ہے ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے۔

پشتون معصوم اور نوجوانوں کو پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف ایک منظّم طبقہ اکسا رہا ہے اور کھل کر ملک دشمنی پر اتر آیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان کشمیر گلگت سندھ اور ہزارہ کے لوگوں کو ایک مخصوص طبقے کے ذریعے اکسا جا رہا ہے۔

اگر ہم ان دو گولیوں سے بچ گے تو جیت ہماری ہو گی انشاء اللہ۔

Show more


آخری لوگ..

*1950 سے 1999 میں پیدا ہونے والے ہم خوش نصیب لوگ ہیں.

کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں

جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔

جنہوں نے لالٹین (بتی)کی روشنی میں کہانیاں بھی پڑھیں۔

جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا۔

جنہوں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا۔

جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں

جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا۔

گاؤں کے درخت سے آم اور امرود بھی توڑ کر کھائے.

پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی.

ہم وہ آخری لوگ ہیں

جنہوں نے سڑک کو موٹے موٹے پتھروں سے بند کیا جب بارات والے اپنے ساتھ نہ لے جاتے اور واپسی پر انکو خود صاف کرنا پڑتا

ہم وہ اخری لوگ ہیں

جنہوں نے رمضان شروع ہوتے ہی راتوں میں ایندھن(بدرے) چرانے کیلیئے گھروں پر چھاپے مارے

جیسے ہماری پشتو زبان میں "بدرے پٹاوان" بھی کہا جاتا ہے

اور پھر چند رات پر اس سے ایک بڑا آگ کسی مخصوص گھر میں جلایا جاتا جیسے ہماری زبان میں "شاشپیئے" کہا جاتا ہے

اور پھر گاوں کے سارے بچے اسی آگ کے گرد ساری رات پٹاخے چلاتے اور مختلف کھیل کیلتے ہوئے عید کی خوشی مناتے۔۔۔سردیوں میں تو سارے بچے گھروں سے چارپائی بھی اپنے ساتھ لاتے اور رات وہی آگ یعنی شاشپیئے کے ساتھ گزارتے۔

ہم وہ اخری رلگ ہیں ۔

جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بهیجے.

ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں کیونکہ

ہم گاؤں کی ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے.

ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے فلم دیکھنے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے

ہم وہ بہترین لوگ ہیں

جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کی۔ جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا۔

ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں

جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں۔

ہم وہ لوگ ہیں جو۔

رات کو چارپائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضاء زمینوں میں سوئے دن کو اکثر گاؤں والے گرمیوں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگاتے مگر وہ آخری ہم تھے۔

کبھی وہ بھی زمانے تھے

سب صحن میں سوتے تھے

گرم مٹی پر پانی کا

چھڑکاؤ ہوتا تھا

ایک سٹینڈ والا پنکھا

بھی ہوتا تھا

لڑنا جھگڑنا سب کا

اس بات پر ہوتا تھا

کہ پنکھے کے سامنے

کس کی منجی نے ہونا تھا

سورجُ کے نکلتے ہی

آنکھ سب کی کھلتی تھی

ڈھیٹ بن کر پھر بھی

سب ہی سوئے رہتے تھے

اور اب ﻣﻮﺑﻞ ﺁﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﮯ ﺟﺪﯾﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔

ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ ‘

ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﺴﯽ ﺍﺏ ﺭﯾﮍﮬﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔

ﺟﻦ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺭﺍﺕ ﺁﭨﮫ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺭﺍﺕ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﭘﻮﺭﯼ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮈﻧﺮﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺑﺠﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﮨﮯ۔

ﭘﻮﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﺍﭨﺮ ﮐﻮﻟﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺑﺮﻑ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔کیونکہ ﺍﺏ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﺞ ﮨﮯ ‘ ﻓﺮﯾﺰﺭ ﮨﮯ ‘

ﺍﺏ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﭘﺮ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮕﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﮍﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺗﮯ۔

ﺍﺏ ﻟﻨﮉﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﭘﯿﻨﭧ ﺳﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ


ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﻭﺍﻻ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﯿﮓ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ۔

ﺑﭽﮯ ﺍﺏ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺍﻣﯽ ﺍﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ' ﯾﺎﺭ ‘ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺑﻠﺐ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺳﯿﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺳﯿﻮﺭ ﺍﯾﻞ ﺍﯼ ﮈﯼ ﻣﯿﮟ۔

ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺳﻮﻧﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ‘ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮈﺑﻞ ﺑﯿﮉ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﭽﮭﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﮔﺪﮮ۔

ﺍﺏ ﺑﭽﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻼﺗﮯ ‘ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﺮ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔

ﺟﻦ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﺩﮬﻮﻝ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺏ ﮔﺎﮌﯾﺎﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺍﮌﺍﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﮐﯿﺎﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺲ ﺁﮔﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺳﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﻟﭩﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻞ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﯽ ﺳﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ۔

ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺎﻝ ﻣﻼﻧﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺗﻮ ﻟﯿﻨﮉ ﻻﺋﻦ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﮏ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘

ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺰﯾﺰ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮﮔﻔﭧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ خاندان کے بچوں کے لیئے کلونے ' ‘ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﯿﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﮐﮯ ﮔﻮﻟﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺟﺮﺳﯿﺎﮞ ﺑﻨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ... ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺮﺳﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ‘ ﺳﺴﺘﯽ ﺑﮭﯽ ‘ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺑﮭﯽ۔

ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﺏ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺐ ﻣﻞ ﮐﺮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ‘

ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻂ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﮈﺍﮐﺌﮯ ﺳﮯ ﺧﻂ ﭘﮍﮬﻮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮈﺍﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﭘﮍﮪ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺴﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔

ﺍﻣﺘﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺁﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ' ﻧﺼﺮ ﻣﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﻓﺘﺢ ﻗﺮﯾﺐ ‘ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮐﺮ ﺁﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ '' ﺍﻭﮐﮯ ‘‘ ﻧﮩﯿﮟ '' ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ‘ ‘ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﻣﻮﺕ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭ ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﮨﺮ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﺎﻟﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﻠﯿﭧ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﻠﯿﭧ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﻣﮑﯿﻨﮏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ‘ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭ ﻗﻤﯿﺺ ﮐﺎ ﮐﻮﻧﺎ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﺎﺋﮯ ‘ ﭘﻤﭗ ﺳﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻧﯿﺎﺯ ﺑﭩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺣﻖ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺟﺎﺗﯽ '' ﺑﭽﻮ ﺁﺅ ﭼﯿﺰ ﻟﮯ ﻟﻮ " ﺍﻭﺭ ﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻢ ﻏﻔﯿﺮ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ تھا-

ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﭘﯿﮑﭧ ﺍﻭﺭ ﺩُﮐﺎﻧﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ‘ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ' ﺑﮩﺎﻧﮯ ‘ ﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﻟﯿﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺗﮭﯽ ‘ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔

ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯿﺎﮞ ﺑﭽﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﺣﻘﮯ ﭘﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺟﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺁﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮐﮭﮯ۔

ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﻟﯿﭗ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﮭﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﺳﺨﺖ ﮔﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘

ﻟﯿﮑﻦ ... ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ۔ ﮨﻢ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﮯ ﺟﺪﯾﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔

ﻣﻨﺠﻦ ﺳﮯ ﭨﻮﺗﮫ ﭘﯿﺴﭧ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﮩﺘﺮ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﻟﯽ ﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺳﮩﻮﻟﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮈﺑﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ‘ ﺳﺮﺩﺭﺩ ‘ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ‘ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﻭﺭﻭﭨﺎﻣﻨﺰ ﮐﯽ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ

اب تو وہ صحن میں سونے کے

سب دور ہی بیت گئے

منجیاں بھی ٹوٹ گئیں

رشتے بھی چھوٹ گئے

بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے اب زمانہ پڑھ لکھ گیا تو بے مروت مفادات اور خود غرضی میں کھو گیا۔

کیا زبردست پڑھا لکھا مگر دراصل بے حس زمانہ آ گیا۔

لیکن اج کا جینیریشن جب ان باتوں کو سنتا یا دیکھتا ہے تو وہ اسے جہالت کا نام دیتا ہے۔۔۔کیونکہ ان لوگوں نے یہ دور اپنی زندگی میں محسوس ہی نہیں کی ہے ۔۔تو اس کی قدر کیسے ہوگی۔۔۔۔۔۔

یہ تو ہم ہے جو اج بھی یہ حسرت دل میں بٹھائے ہیں کہ۔۔

"کاش کے وہ جہالت پھر لوٹ آئے "


ہم نے جب اپنے معاشرے میں آنکھ کھولی تو ایک خوبصورت جہالت کا سامنا ہوا ۔ ہمارا گاوں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں سے تو محروم تھا لیکن اطمینان اس قدر تھا جیسے زندگی کی ہر سہولت ہمیں میسر ہو ۔ کائنات کی سب سے خوبصورت چیز جو میسر تھی وہ تھی محبت ۔ کوئی غیر نہیں تھا سب اپنے تھے ۔ نانیال کی طرف والے سب مامے، ماسیاں، نانے نانیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ددیال کی طرف والے سارے چاچے چاچیاں، پھوپھیاں دادے دادیاں ہوا کرتی تھیں ۔۔

یہ تو جب ہمیں نیا شعور ملا تو معلوم پڑا کہ وہ تو ہمارے چاچے مامے نہ تھے بلکہ دوسری برادریوں کے لوگ تھے ۔

ہمارے بزرگ بڑے جاہل تھے کام ایک کا ہوتا تو سارے ملکر کرتے تھے ۔ جن کے پاس بیل ہوتے وہ خود آکر دوسروں کی زمین کاشت کرنا شروع کر دیتے ۔ گھاس کٹائی کے لیے گھر والوں کو دعوت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی بلکہ گھاس کاٹنے والے خود پیغام بھیجتے کہ ہم فلاں دن آ رہے ہیں ۔ پاگل تھے گھاس کٹائی پر ڈھول بجاتے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے جیسے انہیں کوئی انعام ملنے والا ہو ۔ جب کوئی گھر بناتا تو جنگل سے کئی من وزنی لکڑ دشوار راستوں سے اپنے کندھوں پر اٹھا کے لاتے پھر کئی ٹن مٹی چھت پر ڈالتے اور شام کو گھی شکر کے مزے لوٹ کر گھروں کو لوٹ جاتے ۔

جب کسی کی شادی ہو تو دولہے کو تو مہندی لگی ہی ہوتی تھی باقی گھر والے بھی جیسے مہندی لگائے ہوں کیونکہ باقی جاہل خود آکر کام کرنا شروع کر دیتے ۔ اتنے پاگل تھے کہ اگر کسی سے شادی کی دوستی کر لیں تو اسے ایسے نبھاتے جیسے سسی نے کچے گڑھے پر دریا میں چھلانگ لگا کر نبھائی ۔۔

مک کوٹائی( مکئی) ایسے ایک ایک دانہ صاف کرتے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے بال سنوارے ۔

کتنے پاگل تھے کنک (گندم) گوائی پر تپتی دھوپ میں بیلوں کے ساتھ ایسے چکر کاٹتے جیسے کوئی سزا بھگت رہے ہوں ۔

اگر کوئی ایک فوت ہو جاتا یا جاتی تو دھاڑیں مار مار کر سب ایسے روتے کہ پہچان ہی نہ ہو پاتی کہ کس کا کون مرا ۔۔

دوسرے کے بچوں کی خوشی ایسے مناتے جیسے انکی اپنی اولاد ہو ۔۔

اتنے جاہل تھے کہ جرم اور مقدموں سے بھی واقف نہ تھے ۔

لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی اب نئی جنریشن کا دور تھا کچھ پڑھی لکھی باشعور جنریشن کا دور جس نے یہ سمجھنا اور سمجھانا شروع کیا کہ ہم بیشک سارے انسان ہوں بیشک سب مسلمان بھی ہوں لیکن ہم میں کچھ فرق ہے جو باقی رہنا ضروری ہے ۔

وہ فرق برادری کا فرق ہے قبیلے کا فرق ہے رنگ نسل کا فرق ہے ۔

اب انسان کی پہچان انسان نہ تھی برداری تھی قبیلہ تھا پھر قبیلوں میں بھی ٹبر تھا ۔

اب ہر ایک ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میرا مرتبہ بلند ہے اور میری حثیت امتیازی ہے ۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ دوسرے کو کم تر کہے اور سمجھے ۔ اب ہر کوئی دست و گریباں تھا اور جو کوئی اس دوڑ میں شامل نہ ہوا تو وہ زمانے کا بزدل اور گھٹیا انسان ٹھہرا ۔

اب گھر تو کچھ پکے اور اور بڑے تھے لیکن پھر بھی تنگ ہونا شروع ہو گے ۔ وہ زمینیں جو ایک دوسرے کو قریب کرتی تھیں جن کا پیٹ چیر کر غلہ اگتا تھا جس کی خوشبو سے لطف لیا جاتا تھا اب نفرت کی بنیاد بن چکی تھیں ۔

شعور جو آیا تھا اب ہر ایک کو پٹواری تحصیلدار تک رسائی ہو چلی تھی اور پھر اوپر سے نظام وہ جس کا پیٹ بھرنے کو ایک دوسرے سے لڑنا ضروری تھا ۔

اب نفرتیں ہر دہلیز پر پہنچ چکی تھیں ہم اپنی وہ متاع جسے محبت کہتے ہیں وہ گنوا چکے تھے ۔ اب انسانیت اور مسلمانیت کا سبق تو زہر لگنے لگا تھا اب تو خدا بھی ناراض ہو چکا تھا ۔

پھر نفرتیں اپنے انجام کو بڑھیں انسان انسان کے قتل پر آمادہ ہو چلا تھا ۔ برتری کے نشے میں ہم گھروں کا سکون تباہ کر چکے تھے ہم بھول چکے تھے کہ کائنات کی سب سے بڑی برتری تو اخلاقی برتری ہوتی ہے ۔

اب اخلاق سے ہمارا تعلق صرف اتنا رہ چکا تھا کہ صرف ہمارے گاوں کے دو بندوں کا نام اخلاق تھا لیکن ہم نے ان کو بھی اخلاق کہنا گوارہ نہ کیا ایک کو خاقی اور دوسرے کو منا بنا دیا ۔۔۔

اب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے کی وجہیں ڈھونڈنے میں لگے تھے ۔ پھر قدرت نے بھی معاف نہ کیا اس نے بھی ہمیں موقع دے دیا ۔

مار دھاڑ سے جب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تو بات قتل پر آ گئی ۔ اب ایک تسلسل سے یہ عمل جاری ہے ۔ اب تو ہم اخباروں اور ٹی وی کی زینت بھی بن گے ۔ اب شاید ہی کوئی ایسا دن ہو گا جس دن عدالتوں میں ہمارے گاؤں کا کوئی فرد کھڑا نہ ہو ۔

ایف آئی آر اتنی ہو چکی کہ اب ڈھونڈنا پڑتا ہیکہ کیا ہمارے گاؤں کا کوئی ایسا فرد بھی ہے جس پر کوئی کیس نہ ہو ۔

اب ان جاہل بزرگوں میں سے کم ہی زندہ ہیں جو زندہ ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ان میں سے اگر کوئی مرتا ہے تو دوسرا اس کا منہ دیکھنے کی خواہش کرتا ہے لیکن ہم باشعور لوگ اسے یہ جاہلانہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے ہماری توہین کا خدشہ درپیش ہے ۔۔

ان نفرتوں نے صرف انسان ہی نہیں پانی ، سکول اور مسجدیں بھی تقسیم کر دیں۔ اب تو اللہ کے گھر بھی اللہ کے گھر نہیں رہے ۔

ہر کوئی اندر سے ٹوٹ چکا ہے لیکن پھر بھی بضد ہے ۔ وہ نفرت کا اعلاج نفرت سے ہی کرنا چاہتا ہے ۔ اب محبت کا پیغام برادری قبیلے سے غداری سمجھا جاتا ہے ۔ اب دعا بھی صرف دعا خیر ہوتی ہے دعا خیر کا ایک عجب مفہوم نکال رکھاہے ۔ ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کر کے اس کیساتھ مکمل بائیکاٹ کا نام دعا خیر رکھ دیا گیا ہے ۔

لیکن ۔۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ؟

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم آج بھی سنبھل جائیں اپنے اندر کی ساری نفرتیں مٹا کر دوسرے کے حق میں دعا کرنے کی کڑوی گولی کھا لیں ۔ پھر ممکن ہے اللہ بھی معاف فرما دے اور ہم اس نفرت کی آگ سے نکل آئیں تاکہ کوئی بچہ یتیم نہ ہو کسی اور کا سہاگ نہ اجڑے کسی اور کی گود خالی نہ ہو ۔ تاکہ ہم زندگی جیسی قیمتی نعمت کو جی سکیں اس کائنات کے حسن سے لطف اندوز ہو سکیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکیں کہ وہ شعور ، عمل و کردار کی ان بلندیوں پر جائیں کہ وہ خوبصورت جہالت پھر لوٹ آئے جس نے انسانوں کو اعلی اخلاق کے درجے پر کھڑا کر رکھا تھا

Show more

Climate change mitigation

Climate is the average weather in given vicinity over an extended time period. A summary of a climate includes details on, e.g. the average temperature in different seasons, rain-process of evaporation and condensation, and sunshine.

Example: we can expect snow in the north east in January and southeast in July climate will be hot and humid .This is known as climate or weather.

Climate change: There are different causes for climate change they could be natural or external forcing (changes in the Earth’s natural orbit, or changes in the solar radiations, natural internal processes of climate change) or it can be human included. It consist both global warming driven by emission of green house gases and the ensuing large-scale shifts in weather patterns. Though there have been a preceding intervals of climatic change, since the mid-20th century humans have had an unprecedented impacts on climate system and caused change on worldwide scale.

Climate change mitigation: it consist of actions to limit global warming and its associated consequences. This involves reduction in human emission of green house gases as well as activities that lessen their concentration within the atmosphere.

Fossils fuel combustion accounts for 89% of all co2 emissions and 68% all green house gas emission .the most crucial challenge is to eliminate the use of coal, oil, gas and substitute with smooth strength resources. Climate change since the proof for human interference with the planets climatic balance really began to emerge the reason for this is a parts politics and part optimism until recently it’s been politically unpalatable so to suggest that will be unable to address the climate change challenges as a result adaptation or responding to the impact of climate change has been viewed by some as an admissions that was failed or fail to solve the problem of human contribution to climate change.

Green house gas emission and concentration: So just a very simple definition of mitigation based on what we know about the emission of green house gases into the atmosphere is that mitigation is either reducing our emission of green house gases into the atmosphere or enhancing the ability of earth including oceans and forests to absorb carbon. When we speak about the green house gas emission we are referring to a flow of green house gases into the atmosphere the combustion of fossil fuels and decomposition of organic matters are the primary anthropogenic or human caused source of green house gases and these result from transportation from industrial processes from residential and commercial heating and cooling from waste treatment and disposal and off course agricultural. Green house gas concentration in contrast refer to the quantity of green house gas in the atmosphere a stock and these are the results of a emission that have taken place. We often use the metric of parts per million to describe the quantity of green house gases in the atmosphere in other words out of million units of volume in the atmosphere.

Green house gas reduction:

A useful analogy for considering these terms is the bath tub. We setup our green house gas reduction targets based on how full we think the tub should be with green house gases in order to have a stable or manageable climate we also set our targets based on the amount of water flowing out of the tap this is how we are emitting green house gases and likelihood of course that we can reduce these overtime. There are two key methodologies have been used to set targets for the quantity of green house gas emission that we are injecting into the atmosphere. The first is called intensity based targets it is a normalized metric that sets a company’s emissions target relative to some sort of economic output. The product can be anything from numbers of employees or revenue, among others. This allows a business to set emission reduction targets while accounting for economic growth. The second type of green house gas reduction is absolute targets that refer to the aims to lessen green house gases emission by a set amount. For example, any company has set an emission target aiming to reduce their emissions by 25% by 2026. An absolute target is referring to the total amount of emission being emitted.

Example: Kyoto protocol the Canadian target to reduce green house gases. With this target Canadian agreed to commit to reduce their emission in tons to 6 percent below 1990 levels between the period of 2008 to 2012.

Mitigate climate change the graph shows that controversy behind the intensity based emission reduction the horizontal axis represents time going out into the future along to vertical axis we see the percentage change in green house gas emissions as we can see despite decline of green house gas intensity or a reduction in the amount of green house gases produced per unit GDP. GDP is still rising quickly at such a rate as to cause overall absolute emission to still increase as a result these intensity based targets would not really be expected to contribute as much as we’d like to prevent climate change impact.

Carbon capture & storage: In addition to reduce the quantity of green house gases that we emit we can also enhance the quantity of carbon taken up by the planet in order to mitigate climate change. We still burn natural gases to heat our houses or use electricity from a coal fired power plant but instead of venting that carbon dioxide that result from combustion process into the atmosphere we capture it and store its proposals and ongoing projects have been made to inject that captured carbon dioxide into geological formations they contain empty spaces after oil or natural gas has been extracted from them the geological formations would be filled with carbon dioxide and then packed as a result green house gases would never make into the atmosphere and therefore never influence the climate. Although this process of carbon capture and storage have created some pretty fierce debates. Carbon dioxide can be captured directly from industrial sources such as cement kiln, by using a variety of technologies; including absorption, adsorption, chemical looping, membrane gas separation or gas hydrate technologies. Most carbon capturing processes are industrial; industries such as cement steel making and fertilizers production are hard to de carbonizes.

Carbon sequestration: The next module the next category of climate change mitigation strategies that will introduce is carbon sequestration. So like carbon capture and storage carbon sequestration involve taking carbon out of atmosphere after it has been produced by fossil fuels, combustion or organic matter decomposition. In contrast carbon sequestration involves the capacity of the photosynthesizing plants to absorb carbon from the air bind it into their tissues. There are two basic methods of carbon sequestration geological carbon sequestration and biological carbon sequestration. Geological sequestration is the process of storing carbon dioxide (co2) in underground geological formations. The carbon dioxide is usually suppressed until it become liquid, and then it is injected into porous rocks formation in geological basins. This process of carbon storage is also sometime a part of intensified oil recovery, otherwise known as tertiary recovery because it is typically used later in the life of producing oil well. In enhanced oil recovery, the liquid co2 is injected into oil bearing formation in order to reduce the viscosity of oil and allow it to flow more easily to oil well. Biological sequestration: refers to storage of atmospheric carbon in vegetation, soil, woody products, and aquatic environments. For example, by encouraging the growth of plants-particularly larger plants like trees-advocates of biological sequestration expect to help eliminate carbon dioxide from the atmosphere.

Geo engineering: The final category of climate change mitigation is really a controversial one that is geo engineering. Geo engineering is to intentionally attempts to directly manipulate the earth’s climate. This is typically done on a pretty grand scale in order to affect the climate as whole. Geo engineering falls into the category of mitigation because the influence the quantity of green house gases into the atmosphere. An example is feudalizing the oceans so that the algae can grow and multiply taking in more carbon dioxide from the atmosphere. The other set of geo engineering responses are lot closer to adaptation because they address the warming affects of changing climate. Example is injecting Sulphate aerosols particles into the stratosphere and these help to block out of the part of sun rays .This scheme have attracted heavy criticism for the possible side effects even these side effects are not severe to. This could contract the effect of a greater quantity of green house gases in the atmosphere without actually reducing emissions level or concentration.

Conclusion: We must to take part and attempt to cease global warming and different effects on local climate change. If earth’s temperatures continue to rise in future, living things on earth would be extinct due to high temperature. If every one of us contribute to global warming, this world would be cooler and adjusted and the excessive temperature we currently have would decrease. If everybody as one take and try to end most of climate changes that are occurring, this world would be safer area to live on. In this whole document we’ve been introduced to the basic concepts that form the foundation of climate change mitigation responses as you have been seen these include green house gas emission v s concentration the stock and the flow issues, intensity based v s absolute green house gas reduction targets and slightly less common mitigation strategies of carbon capture and storage, carbon sequestration and geo engineering. So with these tools in hand we are equipped to dig deeper into various mitigation strategies that have proposed around the world and are already taking place.

Show more

Forty Rules Of Love 💕

Review time 🐣

ABOUT : This novel is written by a Turkish writer "Elif Shafak"...(har novel parhny wali Turkey ki dewani just took me one minute to decide this book ) I though that English novel hai sar kay uper sy guzar gaye ga but It took my heart ❤️😍

•This novel is highly mystic (sufi) And it is very hard to understand a sufi like Rumi and Shams..Their every talk has a hidden meaning..!😕😬(but it was fun to use my Brain 🌚)

•You need a great patience to read such a novel because Every Mystery Opens Up At Its Time..💯

•Every time you read the novel again you gets a new thing..!This time my mind is stuck on one thing That is

•"Judgemental society": Ah !! Shams just gave a big message...All of his acts were questionable..!? He was just trying yo teach that not to judge anyone by what we see form our eyes.We just have to mind our business and shouldn't talk shit for anyone because Every Word We Speak In This Universe Comes Back To Us One Day..!🥀

•Also we just don't need to care about what people talk or think of you "Let It Be For The Day Of Judgement" you can see them there..take your time then...there will be no hurry..😇😌

Ps: The change starts from you...if you will not change the society will never change..! It is hard i have tried but keep trying It Will Worth❤️🐣


Show more

Media Celebrities Pakistani Abbas Arzoo Abbas Arzoo - Complete InformationAbbas Arzoo - Complete BiographyAbbas Arzoo


Name Muhammad Abbas Name (Urdu) عباس آرزو Alternate Name Abbas Arzoo Maritial Status Single Zodiac Virgo Religion Islam Famous As Tiktoker BORN & RESIDENCE Born March 30, 1995 Age 26 Country Pakistan Home Town Lahore PROFESSION & CAREERS Careers In Tiktoker Net Worth Under Review

LOOKS & BODY Height 5 ft 7 in (1.7m) Weight 55 kg Eye Color Black Hair Color Black Skin Complexion Fair LIKES & DISLIKES Hobbies Travelling SOCIAL NETWORKS Facebook Instagram Other Networks

Abbas Arzoo is one of the famous celebrities in Pakistan. He is famous as a tiktoker. He got so much praise and fame by his videos. He lives in Lahore. He is also a model. Abbas arzoo is known by his tiktok videos. Abbas arzoo has 50k followers.

If you are looking for abbas arzoo profile, wedding, family, education, photos and videos then you can find them here. You can also find the public opinions and reviews about abbas Arzoo.

Personal Details

Birth Date

March 30, 1995


Abbas Arzoo

Birth City


Current City










Eye Color


Zodiac Sign


Show more

Media Celebrities Pakistani Abbas Arzoo Abbas Arzoo - Complete InformationAbbas Arzoo - Complete BiographyAbbas Arzoo


Name Muhammad Abbas Name (Urdu) عباس آرزو Alternate Name Abbas Arzoo Maritial Status Single Zodiac Virgo Religion Islam Famous As Tiktoker BORN & RESIDENCE Born March 30, 1995 Age 26 Country Pakistan Home Town Lahore PROFESSION & CAREERS Careers In Tiktoker Net Worth Under Review

LOOKS & BODY Height 5 ft 7 in (1.7m) Weight 55 kg Eye Color Black Hair Color Black Skin Complexion Fair LIKES & DISLIKES Hobbies Travelling SOCIAL NETWORKS Facebook Instagram Other Networks

Abbas Arzoo is one of the famous celebrities in Pakistan. He is famous as a tiktoker. He got so much praise and fame by his videos. He lives in Lahore. He is also a model. Abbas arzoo is known by his tiktok videos. Abbas arzoo has 50k followers.

If you are looking for abbas arzoo profile, wedding, family, education, photos and videos then you can find them here. You can also find the public opinions and reviews about abbas Arzoo.

Show more

Happiness is the word in the world that we cannot buy with money even if we are millionaire or billionaire. It comes from inside us, now in this world where everyone is busy everytime for his survival the word happiness becomes a dream. We human are always busy to get enough for life without any caring/concern that what is happening around us. If we add some little works (noble deeds) in everyday life by consuming approx 10 to 20 minutes we can remain happy with entire satisfaction of soul. Here I want to suggest some good things to get happiness along with satisfaction of soul if you believe on humanity . If we are going from home and see an old man who wants to cross the road we can immediately get out to help him by crossing the road. If we are standing on medical store and someone along us standing to buy medicines but due to insufficient money he can't get medicines we can add some money to that person to purchase medicine for him. If we are looking that animal is struggling to get out of trouble we can help him to free up from trouble. If we pour some water and beans in any available dish or tray and put it on the roof so that birds can eat and drink water. If someone is in emergency to get money from ATM we can give chance to him. If we are seeing an old man lifted burden of household items we can take some of it. If someone is injured in front of us we can take him to nearby hospital to get medical aid. If someone is quarreling with one another we can stops them (instead of making videos) politely by listening arguments of both side. If we saw a lady riding motorbike and her clothes are touching the tyres which is very dangerous we can tell her and saved her from being injured or accident. If someone seeks help from us then we are lucky by helping. If we saw something in path or in between the highway/road that is dangerous for vahicles like broken glass/sharp cutting metal we can take that thing far away putting it in bin. If we found animal looking hungry or thirsty we can put some food or water in front him. If an ant is drowning in water we can save her by putting finger in water and left him on ground. If someone rush into hospital emergency in critical condition badly injured/chest pain we can give him chance firstly to visit doctor. If our friend sitting along with severe pain we can bring painkiller rapidly from medical store and give him to stop pain. Sometimes we insult beggers badly without thinking that Almighty Allah send him towards us so we can help him financially. We are eating each and everything but we doesn't know that our neighbors have something to eat. We will pass our life like a painkiller. Moreover if we help others by giving due respect or by helping God will please to see all this and in reward we get entire satisfaction of soul and happiness. So try to make our mind/actions fruitful for creatures of Almighty Allah rather than making difficulties for him. I believe that if everyone do all these noble acts which are not difficult/time gaining we will get true happiness and blessings of Almighty Allah also. This is very simple technique to remain happy throughout our life, and I hope/suggests that by reading this article everyone try his level best to help others directly or indirectly.

Show more

سالانہ امتحانات

تحریر محمد ذیشان بٹ

کچھ ماہ کچھ مخصوص سرگرمیوں کے لیے مختص ہوتے ہیں ۔ مارچ کا مہینہ آتے ہی اسکول سے جڑے بچوں کے پہلے سالانہ امتحانات اور پھر ان کے نتائج کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اسی سلسلے میں محترم والدین اور اساتذہ کرام سے کچھ گزارشات ۔ علم اللہ خالق و مالک کا فضل ہے جتنا ملا ہے اتنا ہی کم ہے ۔ برائے کرم امتحانات کے نتائج کو اتنا بھی سنجیدہ نہ لیں کہ اسے جینے مرنے کا مسئلہ بنا لیں اور پھر اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی اجیرن بنا دیں ۔ ایسے بہت سے والدین ہیں خصوصاً والد جو پورا سال بچے کی تعلیم کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے سالانہ امتحانات میں ان کو بھی بچے پہلی پوزیشن پر چاہیئں ۔ ہر والدہ کو اپنا بچہ انعام ملتا نظر آنا چاہیے ۔ میرے بھولے والدین نجی تعلیمی اداروں کے دھوکے سے نکلیں اور اور پچھلے پندرہ سال کے تجربے کی بنیاد پر یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ 90 فیصد والدین کو نتائج کا جائزہ لینا ہی نہیں آتا ہے ۔ پاس فیل کے چکر سے ہم نکل ہی نہیں پاتے ۔ ایک اہم سوال والدین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ بہت آسانی سے بغیر سوچے سمجھے ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو نالائق جیسا سخت لقب دے دیتے ہیں ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک پانچویں جماعت کے بچے نے سائنس میں 90/100 نمبر لیے ہیں اور اب ریاضی میں سے33/100 نمبر لینے سے وہ نالئق کیسے ہو گیا ۔ یا چھٹی جماعت تک پوزیشن لینے والا بچہ آٹھویں جماعت میں فیل ہو کر نالائق کا تمخہ کیسے حاصل کر لیا ۔ اساتذہ سے ایک سوال کی جسارت کرتا ہوں ۔ آپ لوگ اسکول سے بچے کو نالائق کہہ کر نکال دیتے ہیں آخر وہی بچہ ایک اچھا قاری، حافظ یا پھر ایک بہترین درزی یا مکینک کیسے بن جاتا ہے اگر وہ نالائق ہو تو زندگی کے ہر شعبے میں ہو نا ؟ اس کے علاؤہ جو بچے آج کل 1092/1100 لیتے ہیں ۔ انہوں نے کونسا سائنس دان بن کر ملک کے لیے جھنڈے گاڑ دیے ہیں

گزارشات برائے اساتذہ

آپ نے جو شعبہ ارادی/ غیر ارادی طور پر منتخب کر لیا ہے وہ پیغمبرانہ شعبہ ہے ۔ حضور آل علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنا تعارف بھی بطور مدرس کروایا ۔ آپ کا فرمان ہے کہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ہمیں یہ چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتی ہے ۔ اس لیے ہمیں اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے چاہیے ۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے بدوؤں کو دنیا کی سب سے مہذب قوم بنادیا۔ ہمارے شاگرد بھی ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہو

ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھیں

بچے کی غلطیوں کو معاف کریں تاکہ اس کو عملی طور پر معاف کرنے کی تربیت مل سکے

ہمیشہ وہ مضمون منتخب کیجیے جس میں مہارت ہو مسلسل اپنی عملی اور پیشہ ورانہ قابلیت کو بڑھانے کی کوشش کیجئے

یاد رکھیں جو بچہ آج آپ کے پاس ہے وہ لا علم ہے لیکن کل وہ لا علم نہیں رہے گا اور تب آپ کو اس کا سامنا بھی کرنا ہوگا

ہمارے استاد کہا کرتے تھے کہ شاگرد وہ نہیں ہوتا جسے استاد کہے کہ یہ میرا شاگرد ہے ، شاگرد وہ ہوتا ہے جو خود اپنا تعارف کرواے کہ میں فلاں استاد کا شاگرد ہوں

ایک اور بات بھی تجربے کی روشنی میں موجود اساتذہ کی خدمت میں رکھتا چلوں کہ ایک مرتبہ کوئی شاگرد کسی استاد سے متاثر ہوجائے پھر لاکھ درجہ بہتر قابلیت و استعداد والا استاد بھی اس کی جگہ نہیں لے سکتا

گزارشات برائے والدین

سالانہ امتحانات کے بعد نتیجے والے دن جانے والے جذبات کو سارا سال جگائے رکھیں

اپنے بچے کی تعلیمی کمی کو جانچنے کی کوشش کریں نجی تعلیمی اداروں کے جھانسوں جیسے میڈل سرٹیفیکیٹ، گفٹ کے چکر میں نہ آئے

نمبر، پوزیشن اور گفٹ، سرٹیفیکیٹ سے زیادہ استاذہ سے یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ کیا آپ کا بچہ جماعت میں جست رہتا ہے، کیا اس کے اندر سوال کرنے کی صلاحیت ہے، مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔

بچے کو والدین سے جو سب سے زیادہ بڑا تحفہ چاہیے ہوتا ہے وہ ہے حوصلہ افزائی اس لیے اپنے بچے کی جنس کے حوصلہ افزائی کیجے خصوصاً دوسروں کے سامنے ، جن مضامین میں اچھی کارکردگی دیکھائی ہے ان کا تزکرہ بار بار کیجے، اس سے بچے میں اپنی کمی کوسننے کا حوصلہ پیدا ہو گا ۔اور پھر بہتری آئے گی۔

اگر بچہ آج فرسٹ نہیں آیا تو کوئی بات نہیں اگلے سال آ جائے گا۔

بچے کی وقتی ناکامی کو دوسروں خصوصی رشتہ داروں میں تذکرہ کر کے اسے احساس کمتری کا شکار نہ بنائیں۔

سب سے اہم بات ہے ہر بچے نے ہی ڈاکٹر، انجینر نہیں بننا ہوتا ان مستقبل کے معماروں میں بہت سے کھلاڑی، صحافی، وکیل ، فن کار، مذہبی رہنما ہوتے ہیں

اپنے بچے کی بات کو سمجھیں ۔ اس کو سنیں اور اس کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

بچے جو ہوتے ہیں وہ برف کے پانی میں چینی کھولنے کے جیسے ہے وقت تو لگے گا تھوڑا نہیں مکمل سوچیں

Show more

important message

Save your life converd19 much chalnges will come world pray for every one and becarefull.

Other News Pakistan