کی تمام اشاعتیں۔ Faizan Khan . کراچی ، Pākistān

Publications


استاد، محبی، محترم اویس اقبال صاحب کی امتِ مسلمہ میں قرآنِ مجید کی مسلمہ حیثیت پر معترض تحریر اور اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں گزارشات۔

قبلِ از گزارشات پہلے برادر اویس اقبال صاحب کی

مکمل تحریر مندرجہ ذیل ملاحظہ کرلیجیئے۔


_______________________________________

مسلمانوں کے لیے کچھ سوچنے کی باتیں اور کچھ سوالات۔۔۔


یہ کائنات 5۔13 ارب سال پرانی ھے جب کہ زمین 5۔4 ارب سال پرانی ھے۔ کائنات میں 100 ارب کہکشائیں ھیں ان میں 1 ارب ٹریلین ستارے ھیں۔ 10 لاکھ سے ایک ارب بلیک ہولز ھیں ۔10,000,000,000,000,000,000,000,000 سیارے ھیں ۔یہ کائنات 93 ارب نوری سال پر محیط ھے اور یہ صرف وہ کائنات کا حصہ ہے جس کا ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں، اس کے باہر کی کائنات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ وہ روشنی کی رفتار سے بھی تیز پھیل رہی ہے۔ ان سب کو آپ ایک لمحے کے لیے اپنے دماع میں تصور کیجیے اور اس کائنات کی وسعت کا اندازہ لگائیے ۔ ان سب کا بنانے والا 4000 سال پہلے ایک کتاب تورات بھیجتا ھے لیکن وہ خراب ھو جاتی ھے, پھر 2000 ھزار سال پہلے خدا دوبارہ ایک اور نبی اور ایک اور کتاب بھیجتا ھے لیکن پھر وہ کتاب بھی خراب ھو جاتی ھے۔ آخری بار خدا 1400 سال پہلے دوبارہ ایک اور کتاب بھیجتا ھے اور وعدہ کرتا ھے اس کتاب کو محفوظ کرنے کا لیکن اس بار بھی وھی ھوتا ھے۔ قرآن نبی کی زندگی میں کتاب کی شکل میں نہیی مرتب ھو پاتا، اس کی ترتیب پر اختلاف پیدا ھوتے ھیں، کچھ آیات بکری کھا جاتی ھے، اتنے ورثن بن جاتے ھیں کہ ایک خلیفہ جو کے انسان ھے وہ خدا کے اس کلام کو جلا کر ایک قرآن کا انتحاب کرتا ھے۔ 1400 سال کے دوران علماء کے درمیان اختلاف چلتا رھتا ھے لیکن عام مسلمانوں کو اس راز سے دور رکھا جاتا ھے ۔ 1924 میں مصر میں حفص قرآن کو معیار بنایا جاتا ھے ۔صنعاء قرآن کو جب جانچا جاتا ھے تو پتہ چلتا ھے کے پہلے اور نئے قرآن میں فرق ھے ۔اس کے علاوہ اور بھی تاریخی شواہد ھیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ھیں ۔ ان سب سے کچھ سوال جنم لیتے ھیں: کیا کتاب ایک بہتر ذریعہ ھے خدا کا پیغام پہنچانے کا ؟ اگر اسے ہر انسان کے دماغ میں آٹومیٹک طور پر ڈال دیا جاتا تو بہتر نہ ھوتا؟ کیا ایک کتاب کا صدیوں تک نہ بدلنا، اگر مان بھی لیا جائے، اس کے سچے ھونے کی نشانی ہے؟ بہت ساری کتابیں ھیں جو زمانے سے نہیں بدلیں۔ اگر قرآن واقعی اللہ کا کلام ھے تو وہ صرف عربی میں ھی کیوں ھے؟ باقی دنیا کا کیا قصور ھے؟ آج کے انسانوں کو جب کہ کتابوں کو محفوظ رکھنا بہت آسان ھے ان کو خدا ایک بار قرآن کو صحیح طرح لکھ کے کیوں نہیں دے دیتا؟ جبکہ عرب کے سات قبیلوں کے لیے سات حروف (pronunciations) میں قرآن دیا گیا۔ اس وقت پوری دنیا کی آبادی صرف 208 ملین تھی جبکہ آج کے سات ارب انسانوں کا کیا قصور ھے؟ قرآن اگر مشعل راہ ھے تو اس کو علماء اور تفسیروں کی کیا ضرورت تھی؟


ذرا سوچئے!

_______________________________________


جوابی تحریر لکھنے میں مجھے امید سے زیادہ وقت لگ گیا، اس میں چار روز سے زیادہ وقت لگا ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ انتہائی رچ ٹیکسٹ تحریر ہے؛ اگر آپ لمبی تحریریں پڑھنے میں دکت محسوس کرتے ہیں اور آپکے لئے مشکل تحریر ہوسکتی ہے لیکن اگر آپکی منشاء حقائق کی تلاش ہے خواہ طویل ہی کیوں نہ ہو تو اسکو ضرور پڑھئیے۔


اس تحریر کا اسٹرکچر میں نے مندرجہ ذیل طریقے سے وضع کیا ہے۔

اول- ابتداء میں استاد اویس اقبال صاحب کی تحریر میں کائنات اور انسان کے تقابل کا جائزہ۔ دوم- استاد اویس اقبال صاحب کے اعتراضات پر جواب۔

سوم۔ اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب۔

چہارم- اختتامیہ۔


تو شروع کرتے ہیں دی گئی ترتیب سے، آپ سے گزارش ہے کہ خالص طالبعلمانہ ذہنیت کے ساتھ اسلام مخالف و مفاہمتی زہن سے بالاتر ہوکر گزارشات پر غور کیجیئے گا۔


١- کائنات اور انسان کے تقابل کا جائزہ۔

میرے بھائی، استاد و مرشد اویس اقبال کی تحریر میں کائنات کی وسعت اور خدا کی انسان کیساتھ مخاطبت کے ایک خاموش موازنے کے ساتھ ابتدا کی گئی ہے کہ اتنی بڑی کائنات میں رائی کی دانے کی حیثیت رکھنے والی زمین اور اس زمین پر ذرے کی حیثیت رکھنے والا انسان، انسان جو زمین کے حجم کے مقابلے میں ذرہ ہے تو کائنات کے مقابل میں نہ ہونے جیسی حیثیت رکھنے والے انسان سے خدا جیسی ہستی کی مخاطبت اپنے آپ میں ایک ایسا مظہر ہے جو بظاہر (ملحدانہ تصور میں: اگر خدا ہے تو) خدا کے شایانِ شان نہیں اور مان بھی لیں اگر خدا ہے تو اس خدا سے مخاطبت کے دوران کون کون سے غیر مستقل امور کا اظہار ہوا اس کی داستان سرائی اُس تحریر میں کی گئی تھی جس پر یقیناً میں اپنی تحریر میں بات کرونگا؛ تاہم کیونکہ قرآن کی اپنی پوزیشن ہی زیرِ سوال ہے اس لئے کائنات کی تخلیق اور اس کی وسعت پر قرآن کیا کہتا ہے اسکا یہاں ذکر کرنا بے معنی ہے۔ منطقی استدلال کا جو طریقہ استعمال کیا گیا ہے اسی پر رہتے ہوئے گفتگو کرنا بہتر ہے جو میں کرونگا؛ جہاں قرآن سے استدلال ضروری ہوگا محض وہیں قرآن کے موضوعات کا ذکر کرونگا۔


محض مادی وجود سے حجم و وسعت کو بنیاد بنا کر اگر انسان کا تقابل کرہ زمین یا اس سے اوپر کائنات کیساتھ کیا جائے تو یقیناً کوئی تقابل ہی نہیں لیکن، لیکن کیا واقعی خدا کے ہاں یہ تقابل مادی وسعت کا ہے؟ دراصل فقط اس سوال کو ملحوظ خاص رکھنا لازم ہے۔ خدا نے کس بنیاد پر انسان سے خطاب کیا؟ یہ مقدمہ جاننے کی ضرورت ہے تاکہ مزید تفصیل سمجھنا آسان ہوجائے۔ آئیے جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کیا شے ہے جو زمین کو معلوم کائنات سے ممتاز اور انسان کو زمین پر سب سے ممتاز بناتی ہے؟ زمین پر حیات زمین کو کائنات سے اور حیات میں شعور کا مظہر ہے جو انسانی قالب میں مجسم ہو کر انسان کو مادے سے ممتاز بناتا ہے۔ مادے کے ڈھیر کائنات میں شعور کا حامل انسان ہی ہے جو شعور کو استعمال کرتے ہوئے زمین پر کلاسیکل فزکس کے طبعی قوانین سے آشنا ہوا تو زمین کا حلیہ ہی نہیں اس نے زندگی کا حلیہ بھی بدل کر دکھ دیا۔ چاند پر کمند ڈال دی، مریخ اگلی منزل ہے، کوانٹم مکینکس کے احوال کھوج رہا ہے، میٹر اینٹی میٹر، بلیک وائٹ ہولز اور پھر نہ جانے کیا کیا، بے تحاشہ لمبی تفصیل انسان کی کارگزاری لکھی جاسکتی ہے جسکا آپ کو مجھ سے زیادہ علم ہوگا؛ مگر سوال یہ کہ کس امر سے یہ قوانین انسان نے دریافت کرکے اتنی بڑی اور مسلسل بڑھتی ہوئی کائنات کو دریافت کرنا اپنا ٹارگٹ بنا لیا؟ شعور، شعور کی بدولت مادی قوانین انسان کے ہاتھ مسخر ہوئے تو اسکے کمالات آپکے سامنے ہیں۔ جیسے جیسے قوانین مسخر ہوتے چلے جارہے ہیں ویسے ویسے انسان تسخیرِ کائنات کی عزم میں آگے ہی آگے بڑھتا جارہا ہے؛ تو جاننے کی کوشش کریں کہ: کائنات کی بنیاد مادہ اور توانائی کے قوانین ہیں اور کائنات کی ان جزئیات اور انکے قوانین کی دسترس، مسلسل بڑھتی ہوئی اتنی بڑی کائنات کے مقابلے میں رائی کے دانے کی حیثیت بھی نہ رکھنے والے انسان کے ہاتھ میں آتی جارہی ہے، تو شعور کے تحت تسخیر ثابت کرنے والا انسان اہم ہوا یا مسخر ہوجانے والا مادہ اور توانائی کا بے پناہ ڈھیر جس کا مظہر اتنی بڑی کائنات ہے جو مرشد اویس اقبال صاحب نے بتایا ہے؟


بزرگ عموماً بے وجہ ہی نہیں بچوں سے یہ سوال پوچھا کرتے کہ "بتائو عقل بڑی یا بھینس"؛ بزرگان اس سوال سے حجم یس وسعت کی بڑائی کو بنیاد نہیں بناتے بلکہ حجم کے مقابلے شعور کی اہمیت کو بنیاد بناتے ہیں۔ کائنات اور انسان کا اصل موازنہ درحقیقت مادے اور شعور کا موازنہ ہے جو اول تو بنتا ہی نہیں اور کوئی زبردستی کرنے کی کوشش کرے اور کائنات کے حجم سے متاثر ہوجائے تو اسکا انتخاب عقل کے مقابلے میں بھینس کے بڑے ہونے کا ہوگا۔ بہرحال یہ شعور ہی ہے جس کے ذریعے انسان نے کائنات کا اتنا وسیع مشاہدہ کرلیا اور مزید کا خواہاں ہے اور اسی شعور کی بنیاد پر علم کے سفر میں اعتماد کے ساتھ خود کو چیلنج کرتا ہوا ترقی کرتا آگے بڑھ رہا ہے؛ جتنے صفر مرشد نے کائنات کے سائز کے حوالے سے ایک کے ہندسے کے بعد لگائے ییں اتنے ہی اور ڈبل کرکے لگا دیجیئے تو بھی یہ کائنات نہ تو انسان کی تسخیر کی خواہش سے بالاتر ہوسکے گی اور نہ ہی انسان کے کامیاب علمی سفر کو روک سکے گی۔ اور امرِ واقعہ یہ ہے کہ اسی تسخیر کی صلاحیت، جاننے کی جستجو اور شعور کے حامل انسان کو خدا نے مخاطب کرلیا ہے۔


انسان کا موازنہ کائنات کے ساتھ کرکے انسان کو ناچیز جاننے کا عمل حضرتِ انسان سے ناوقفیت ہی ہوسکتی ہے دوسری صورت کی قیاس آرائی میں نہیں کرتا۔ بہرحال شعور کے حامل انسان کو مخاطب کرنا ہی درست عمل ہوسکتا تھا جو خدا نے کیا۔ اس مخاطبت کی وجہ کیا ہوئی یہ پاکستان میں رہنے والے اور مذہبی پسِ منظر رکھنے والے ملحدین و غیر مسلمین بار بار یاد دہانی کرائی جانے کے بعد اچھی طرح جانتے ہیں جسے دینی تعبیر میں آزمائش کہا جاتا ہے اس وجہ سے میرا اس آزمائش کی دلالت و تفصیل کرکے اس پوسٹ کو مزید طول دینے کا ارادہ نہیں کہ یہ کیوں برپا کی گئی، اب تک مقصد اس ابتدائی خاموش تقابل کا جائزہ پیش کرنا تھا جو میرے استاد اویس اقبال صاحب نے ہیش کیا۔


اب آتے ہیں اویس بھائی کی جانب سے پیش کی گئی معلومات، اعتراضات اور اٹھائے گئے سوالات کی جانب۔ میں دِینی پسِ منظر کا شخص ہوں اور اس اصول پر یقین رکھتا ہوں کہ کسی بھی امر پر تنقید سے پہلے اس امر کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ تنقید جاندار ہو اور علم کی راہ بنے؛ اکثر الحاد سے متاثرہ دوست اس غلطی میں مبتلا ہوکر درست تنقید نہیں کر پاتے اور محض ایک عام مسلمان کے دین سے لاعلم ہونے اور اٹھنے والی تنقید کا جائزہ لینے کی صلاحیت میں کمی کے باعث ملحدین اپنی گفتگو، اعتراضات و سوالات کے درست ہونے کے فہم میں مبتلا ہوجاتے ہیں؛ استاد اویس اقبال کی اس تحریر میں یہی غلطی پنہاں ہے کیونکہ محض معلومات کی بنیاد پر قائم رائے علم نہیں ہوتی بلکہ معلومات کو تجزئیے اور تنقیح کے عمل سے گزار کر علم کشید کرنا پڑتا ہے۔


٢- نکاتِ معترضہ اور جواب۔

مرشد فرماتے ہیں کہ انسانوں سے مخاطبت کے لئے آج سے چار ہزار سال پہلے خدا نے تورات بھیجی اور کیونکہ وہ اپنا متن برقرار نہ رکھ سکی تو خدا نے انجیل سے کام لیا اور اسکے بعد حفاظت کے وعدے کیساتھ قرآن نام کی کتاب نازل کی مگر وہ بھی دیگر کتب کی طرح محفوظ نہ رہ سکی۔ اسکے مختلف متون سامنے آئے، کچھ حصص بکری کھا گئی، مصر کے جس متن کو مستقل قرار دیا گیا تو صنعا کا متن اس سے مختلف نکلا، تاریخی شواہد کا ذکر بھی کیا اور خلیفہ نے مختلف متون جلا کر ایک ورژن نافذ کردیا اور سب سے بڑی بات کہ ہیغمبر کی زندگی میں قرآن کتاب کی صورت اختیار ہی نہ کرسکا اور اس کے بعد چند سوالات (جن کو میں اس حصے کے تفصیلی جائزے کے بعد موضوع بنائونگا)۔


وضاحت۔

کیونکہ گزشتہ کتب یعنی تورات اور انجیل کی یہ معلومات قرآن سے ماخوذ ہیں اس وجہ سے اب قرآن سے ہی جاننا پڑیگا کہ خدا نے کب انسان سے کلام کیا اور کتنی کتب نازل کیں۔ سب سے پہلے یہ جان لیں کہ انسان سے مخاطبت کے لئے بنیادی طور پر کتاب نہیں بلکہ حاملِ کتاب یعنی پیغمبر کو مبعوث کیا گیا، پیغمبر کے بعد خدا کی ہدایت انسان کیساتھ رہے اس لئے کتاب کا اہتمام ہوا چنانچہ کتاب ثانوی ہے جبکہ حاملِ کتاب مقدم، مزید یہ کہ نام سے محض چار کتب کا ذکر ہے مگر کتب خداوند نے مزید بھی نازل کی ہیں مگر ہمیں ان چار کے بارے میں بالخصوص بتایا گیا ہے بالکل ویسے ہی جیسے انبیاء کئی بھیجے گئے مگر نام سے قرآن میں چند کا ذکر ہے۔ دیگر انبیا و کتب کی تفصیل کیوں نہیں بھیجی گئی اس معلومات کا ہدایت کی تکمیل سے کوئی واسطہ نہیں اس لئے یہ سوال بے معنی ہوجاتا ہے، تاہم قرآن یہ بات وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ زمین پر پہلے انسان کیساتھ ہی نبوت کا سلسلہ جاری کردیا گیا تھا، چنانچہ خدا سے مخاطبت کا شرف تو انسان کو آج سے چار ہزار سال پہلے نہیں بلکہ انسانیت کی ابتداء سے ہی حاصل ہوچکا تھا۔ یہی روایت آگے منتقل ہوئی جسے انسانوں کا جمِ غفیر عالمی طور پر اپنے لئے اجنبی شے نہیں سمجھتا۔ میں خدا کو خدا پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد سے ثابت نہیں کررہا؛ خدا کے وجود کے عقلی دلائل الگ ہیں جس پر بہت دلیل آمیز بات ہوسکتی ہے، میں یہاں خدا کے تصور کی روایت سے انسانوں کی عالمی انسیت بتا رہا ہوں کہ انسان کے لئے خدا کا تصور اجنبی نہیں بلکہ ایک ایسی روایت ہے جو کبھی منقطع ہی نہیں ہوئی اور آج بھی پوری قوت سے دنیا بھرمیں موجود ہے۔ آپ سوال کریں کہ اچھا اگر خدا سے سب مانوس ہیں تو اتنے مذاہب کیوں؟ اس سوال کا اس تحریر سے واسطہ نہیں ورنہ اس پر بھی بادلیل جواب ملتی ہے تاہم اتنا جان لیں کہ روئے زمین پر جتنے بھی مذاہب ہیں سب کی بنیاد اور پیغام "خدا" ہی ہے اور اسطرح سب خدا ہی کو اپنی اسا رکھ کر بتا رہے ہیں کہ الگ الگ ہوکر بھی ہم سب کی دعوت ایک خدا ہی ہے؛ مذاہب میں منقسم ہوکر بھی انسانیت خدا کے تصور کی روایت سے علیحدہ نہیں ہوئی۔


تورات میں خرابی کی بابت خود قرآن یہ بتلاتا ہے کہ اسکی حفاظت اہلِ تورات یعنی بنی اسرائیل کو سونپی گئی تھی، وہ اسکے امین تھے جس کا حق وہ ادا نہ کرسکے اور انحرافات کے باعث اس میں تحریف کر بیٹھے اور یہ ایسی حقیقی خبر ہے جو آپکو آج بھی اہلِ تورات کے ہاں خود تورات میں مل جائیگی، تحقیق کریں تو آپ خود اس بات کا بذات مشاہدہ کر لیں گے۔ کیونکہ انسان فقط عمل ہی نہیں علم کے امتحان میں بھی ڈالا گیا ہے چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے تورات کی حفاظت کا امتحان برپا کر ان کے علم و عمل دونوں کا امتحان بیک وقت کرلیا گیا۔ انجیل جس کے معنی خوشخبری کے ہیں، حاملِ انجیل یعنی مسیح علیہ السلام کو چونکہ اُن کے لوگوں نے اُنہیں قبول ہی نہیں کیا اس لئے انجیل بنی اسرائیل کے سامنے باقاعدہ کتاب کی صورت اختیار ہی نہ کرسکی اور پیغمبر کے وعظ و نصیحتوں کو ہی ان کے تاریخی پسِ منظر میں مرتب کرکے ان کے ماننے والوں نے اناجیل کے نام سے پیش کیا جس کے چار اختلافی ورژنز بائبل میں پیش کئے جاتے ہیں (جن میں متن، تعلیمات، واقعات اور عقائد کے اختلافات ہیں) جن پر مسیحی امت کا اجماع آج تک نہیں ہوسکا کیونکہ اناجیل اور بھی ہیں اور ان میں اختلافات کا سمندر ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ جب انسان کتاب لکھ کر خدا سے منسوب کردیں تو ایسا ہی ہوتا ہے، اسی وجہ سے خدا کی نازل کردہ انجیل محض لفظی خوشخبری رہ گئی جو کتاب کی صورت اختیار ہی نہ کرسکی اور بعد ازاں جو کچھ مرتب کیا گیا اس کے دیباچے سے ہی اسکی حالت کا علم ہوجاتا ہے اس لئے قرآن نے اجمال کے ساتھ اسے بھی انجیل کی تحریف شدہ صورت تعبیر کیا۔ اب آئیے قرآن پر؛ قرآن کے محفوظ ہونے پر جو اعتراضات استاد اویس اقبال نے اٹھائے یا عموماً اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے ایک بھی قرآن کی خاؐص اور محفوظ ہونے حیثیت اور دعوے کو مجروح نہیں کرتا۔ کیسے؟


آئیے جانتے ہیں۔


سب سے پہلے اتنا جان لیں کہ قرآن کی حفاظت اور امت کو اسکی منتقلی کتاب یا نسخوں کی صورت میں ہوئی ہی نہیں، یہ امر قولی تواتر سے جاری رہا اس لئے ہم کسی نسخے کو قرآن کی حفاظت و منتقلی کا زریعہ مانتے ہی نہیں اور نہ ہی یہ زریعہ ہمارے ماضی کی تاریخ حال کے مشاہدے سے ثابت ہوتا ہے، اصول میں اتنا ہی جواب باقی تمام اعتراضات اور سوالوں کے جواب میں کافی ہے جس اعتراضات کی بنیاد مجروع ہوجاتی ہے، مگر تفصیل ملاحظہ کیجیئے: پیغمبر سے عہدِ پیغمبر کے حاضرین کو قرآن کی منتقلی کا طریقہ خدا نے اتنا انوکھا رکھا کہ امتِ مسلمہ آج بھی اس پر ناز کرتی ہے اور جو قرآن کی حقانیت کی ناقابلِ فراموش دلیل ہے۔ کلام کی منتقلی کا یہ طریقہ کلام کو اولاً کتاب کی صورت میں منتقل کرنے سے کہیں بہتر حافظے میں محفوظ کردینا تھا؛ اور یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے؛ کسی بھی علاقے میں چلے جائیے، مسلمانوں کی کسی کمیونٹی میں چلے جائیے حاملِ قرآن اپنے سینوں میں قرآن سمائے آپکو جگہ جگہ اتنے مل جائینگے جو صورت کسی اور کتاب کیساتھ آپکو نہیں ملے گی۔ اور عہدِ رسول میں قرآن ان لوگوں میں ایسے ہی منتقل ہوا اور ان سے نسلاً بعد نسل ایسے ہی سینہ با سینہ منتقل ہوتا چلا گیا جیسے آج ایک چھوٹی عمر کا عجمی بچہ قرآن اپنے حافظے میں محفوظ کرلیتا ہے تو اول مخاطبین تو پھر عربی تھے، اپنی زبان میں حاملِ کتاب، براہ راست پیغمبر کی موجودگی میں جذبہ ایمانی کے عروج پر قرآن خدا کی مائیت و نصرت میں وصول کررہے تھے، ان کے لئے حفظ کرنا عجمی بچے سے کہیں زیادہ آسان تھا۔ اس لئے قرآن تو ایسا کلام ہے جسے عہدِ رسول کے مخاطبین میں منتقلی کے لئے کتاب کی صورت میں ہونے کی ضرورت تک نہیں ہوئی؛ اور آپ حضرات عہدِ رسالت میں قرآن کے کتاب کی صورت نہ ہونے کو دلیل بنا کر قرآن پر اتنی کمزور تنقید کرتے ہیں جسکا آپ دوستوں کو خود اندازہ ہی نہیں تاہم چیزوں میں عصبیت سے لاتعلق ہوکر اتریں تو علم کا رستہ بن جائیگا۔ اور ایسا نہیں کہ سینہ با سینہ منتقلی کا یہ کوئی نیا طریقہ میں آج آپکے سامنے پیش کررہا ہوں بلکہ یہ آپکے مشاہدے میں امرِ واقعہ ہے جو مسلمانوں کے ہاں بکثرت روزانہ کی بنیاد پر ہورہا ہے۔


اب سوال یہ کہ اچھا ایسا ہے تو متفرق متن کیسے؟ اسکا تفصیلی جواب دیتا ہوں مگر ایک سوال کا آپکو امین بنا دوں کہ کیا آپ نے اس فرق کا کبھی ازخود مشاہدہ کیا ہے؟ وہ فرق جسکا بہت شور ہوتا ہے ان کے مطالعے سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح یہ نسخے انسانی تحدیدات (لمیٹیشنز) کا شکار ہوئے، (تاہم یہ بات پھر اچھی طرح جان لیں کہ مسلمانوں کے ہاں قرآن قولی تواتر سے منتقل ہوا ہے نہ کہ نسخی تواتر سے؛ اس لئے پوری امت قولی تواتر سے ہٹ کر قرآن کا کوئی ماخذ تسلیم نہیں کرتی، اور اتنی بات اصول میں کہہ کر تمام تنقید کا مختصر ترین جواب دیا جا سکتا ہے لیکن ظاہر ہے آپ حضرات کے اشکالات اصولی بات سے مطمئن نہیں ہونگے اس لئے تفصیل ملاحظہ کریں۔ جیسے کہ کہا گیا کہ یہ نسخے انسانی تحدید کا شکار ہوئے؛ تو سوال ہوسکتا ہے کہ یہ کیسے واقع ہوا؟ اس کے لئے جیسے ابتدا میں مرشد اویس اقبال صاحب نے کائنات کی تصویر کو تخیل میں لاکر سوچنے کی بات کی تھی، میں بھی وہی گزارش کرونگا کہ تخیل میں سوچئیے کہ آج جبکہ محض قلم کا نہیں بلکہ کیمرے کا دور ہے؛ فرض کریں آپ کسی محفل میں جائیں جہاں مشہور سلیبرٹی بھی موجود ہو جو گفتگو، اسالیب، اندازِ زبان و بیان میں منفرد ہو، جسکے چاہنے والے بھی اس محفل میں ہوں اور اس سلیبرٹی کو لب کشائی کا موقع ملے اور وہ دس سے پندرہ منٹ حاضرین سے گفتگو کرے اور تقریر ختم ہونے کے بعد کچھ لوگ آپس میں اس کے کلام پر تبصرہ کریں تو آپکو حیرت انگیز طور پر اس ایک شخص کے الفاظ کی رپورٹنگ میں لوگوں کے مابین فرق مل جائیگا، سیلبرٹی کا منفرد اندازِ تکلم ہر عام آدمی کے لئے سمجھنا آسان نہیں ہوگا ماسوا اس کے کہ جو وہی ذوق رکھتا ہو، اہلِ ذوق کے مابین بھی زہنی تفریق کے باعث فرق ہوسکتا ہے جسکے سبب ایک کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے یہ کہا دوسرا کہے گا کہ انہوں نے یہ بات یوں کہی تھی، یہ مسئلہ اسی وقت حل ہوتا ہے جب صاحبِ کلام اپنی بات خود سب کو آکر بتائے اور تصحیح کرے۔


آپکے مشاہدے میں روزانہ کی بنیاد پر سیاسی

رہنمائوں کی تقاریر کی ایک بات کو مختلف اخبار الگ الگ طریقے سے پیش کرتے ہیں حتیٰ کہ اختلاف کی صورت میں سیاسی جماعتوں کو پریس ریلیز میں وضاحتی بیان، اصل متن یا ٹرانسکرپٹ پبلک کرنا پڑتا ہے جسکے بعد اسکے جاری کردہ متن کو اصل کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے اور بقیہ اختلافی چیزیں بےحیثیت۔ فرض کیجیئے آپ ایک بہت معروف شخصیت ہیں اور کتاب لکھنے جارہے ہیں جسکے چند اقتباسات کا تذکرہ آپ نے تین سے چار مختلف جگہوں پر مختلف لوگوں سے کیا، ہر موقعے پر لوگ مختلف ہیں ماسوائے دو سے تین مداحوں کے جو چاروں مواقع پر آپکو براہ راست سن رہے ہوں، ہر موقعے پر موجود مختلف اور تین خاص مداح آپکی کتاب کی باتیں بیان کرنا شروع کردیں، لکھنا شروع کردیں تو کیا ایک واحد متن سب سے برآمد ہوجائیگا؟ جبکہ مختلف مواقع پر آپ (معروف شخص) کے مخالفین بھی اپکی باتوں کو سن کر اپنے مخالفانہ انداز میں بیان کررہے ہوں؟ ہرگز نہیں، کیوں کیونکہ رہورٹنگ میں انسان کی تحدیدات (لیمٹیشنز)، اپنا فہم، زبان کے اسالیب، زبان پر مہارت و عدم مہارت، خاص طرزِ تکلم سے واقفیت و ناوقفیت، دسترس، مداحوں کی حمیت اور مخالفین کا تعصب شامل ہوجائیگا اور اس لئے سب لوگوں سے اقتباسات سو فیصد ویسی نہیں بلکہ کچھ نہ کچھ کم یا زیادہ مگر مختلف رپورٹ ہونگی۔ اس معاملے میں وہ سیلبرٹی کیا کرے؟ کیا ایک ایک شخص کی رپورٹنگ پر وضاحت پیش کرے، یا سب کے لئے ایک وضاحتی بیان جاری کرے یا سادہ طور پر کسی بھی رپورٹنگ کو انٹرٹین کئے بغیر اپنی کتاب کو شائع کرے جس کے ساتھ ہی پیچھے رہ جانے والی تمام رپورٹنگز کی حیثیت ہی ختم ہوجائیگی، اور کتاب شائع ہونے کے بعد ایک عام قاری بھی ایسی کسی رہورٹنگ کے لئے فرقان بن جائیگا اور بتا دے گا کہ "یہ بات یہ کلام اس ذات کا ہے ہی نہیں جن کے ساتھ آپ اسے منسوب کر رہے ہیں" اور یہ ایک جملہ ان تمام اقتباسات کے مختلف نسخوں کے لئے کافی ہوگا جو اس سلیبرٹی کے کئی مداحوں اور مخالفین نے ذاتی حیثیت میں کسی بھی صورت میں اپنے پاس محفوظ کرلئے ہوں، سب کے سب بے وقعت اور نل اینڈ وائڈ ہوجائینگے۔


اسی طرح ہماری قومی زبان اردو ہے، لیکن اس قوم میں اردو کے ڈائلیکٹ کی کتنی ورائٹی موجود ہے یہ آپ مختلف شہروں میں بولی جانے والی اردو کا موازنہ کرکے معلوم کرسکتے ہیں، لکھنے سے لے کر بولنے تک بڑے اہلِ علم میں اختلافات مل جائینگے، نثر اور شعر کے اسالیب میں لوگوں کے مابین اختلاف اور بھی زیادہ ہونگے۔ پاکستان میں خالص اردو بولنے والے لوگوں میں کراچی شہر کی حیثیت ممتاز ہے، میں اس شہر کا رہنے والا ہوں اسی شہر میں پیدا ہوا ہوں اور آپکو بتا سکتا ہوں کہ مختلف علاقوں کے رہنے والوں کے اردو بولنے کے انداز، لہجے و اسالیب میں فرق ہے۔ متفردات، تخصیص، عامی و خواص کے درجات میں اردو زبان کا اظہار متغیر ہوکر سامنے آتا ہے۔ کراچی کی اردو سے لکھنئو کی ادبی اردو کا موازنہ کیجیئے تو سمجھنا بھی مشکل، بولنا اور لکھنا اور بھی چیلنج ہوجاتا ہے۔ اسی لئے مادری زبان میں (زبان و قلم کے ذریعے) آج (حاضر میں) رپورٹنگ کے دوران بھی غلطی کا امکان باقی رہ جاتا ہے جو نیوز چینلز کے بلیٹنز کے دوران اینکر کے بولنے اور نیچے ٹِکٙر پر لکھے ہوئے الفاظ میں تو عام طور پر نمایاں ہوجاتا ہے، یہ فرق آپکو اخبارات میں ہوئی املا کی غلطی میں نمایاں ملے گا، قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ایڈیٹنگ اور سب ایڈیٹنگ کی جاتی ہے اور اسکے بعد بھی غلطی ہوجاتی ہے۔ قومی زبان اردو ہونے کے باوجود اشتہار دے کر اچھی اردو بولنے لکھنے والے تلاش کئے جاتے ہیں اور پھر بھی غلطی ہوجاتی ہے۔


کچھ چینلز دھماکہ تو کچھ دھماکا لکھتے ہیں، کچھ نقل مکانی پڑھتے تو کچھ اینکرز نقلِ مکانی (ل کے نیچے زیر) پڑھتے ہیں، کہیں کاروائی تو کہیں کارروائی (دو "ر") لکھی اور پڑھی جاتی ہے اور بہت سی مثالیں آپ دے سکتے ہیں، میں نے لفظ "مثالیں" استعمال کیا جو کہ معروف ہے جبکہ مثال کی جمع کا درست لفظ امثال ہے تاہم "مثالیں" اتنا معروف ہوگیا کہ "امثال" بہتیروں کو اجنبی لگتا ہے۔ ایسے بہت سے نثر و گرامر کے فرق رونما ہوجاتے ہیں جو متن کے لحاظ سے مختلف مگر معنی کے اعتبار سے یکساں ہوتے ہیں۔


یہ سب کچھ اس دور کے محاصلات ہیں جب زبان سے آشنائی، تعلیم، تربیت، ٹیسٹنگ، ایڈیٹنگ، کیمرہ، میڈیا موجود ہے۔ اب تخیل کو چودہ سو سال پیچھے عرب کے بدو معاشرے میں لے جائیں جہاں لکھنا پڑھنا کچھ قلیل خواص سے تعلق رکھتا تھا، اس بدو معاشرے میں زبان و بیان کی انسانی تحدیدات (ہیومن لیمٹیشنز) آج کے مقابلے میں کیسی ہونگی، ان تحدیدات کا دیانتدارانہ اندازہ لگائیے اور سوچئیے کہ ان چند لکھنے والوں کے ساتھ حد درجہ خیال کے بعد بھی غلطی کا امکان موجود رہا اور بہت خیال کے باوجود بھی غلطیاں شامل ہوگئیں، اور جو غلطیاں ہوئیں وہ خود بتاتی ہیں کہ کس نوعیت کی اور کتنی کم ہیں اگر آپ نے ازخود مشاہدہ کیا ہو۔ جبکہ یاد رکھیئے کہ اس وقت مخالفین بھی موجود تھے۔ یہ سارا بیان ہوا کہ "متفرق متن وجود میں آئے کیسے" کے لئے۔ پھر یا رکھئیے کہ ہمیں یہ تفصیل دینے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کسی نسخے کے قائل نہیں، فقط یہ بتارہے ہیں کہ امرِ واقعہ ہوا کیا؟ اسی طرح علمِ حدیث کو قرآن سے متوازی رکھ کر دیکھئیے، یہ مسلمانوں کا جمع کیا گیا علم ہے مگر کیونکہ اسکی کسی درجے میں حفاظت کا کوئی ذمہ خدا کا نہیں تھا تو اسکا کیا معاملہ ہے کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کہ علمِ حدیث امتِ مسلمہ میں اختلاف کا حامل ہوگیا، جیسے ہی یہ علم مرتب ہونا شروع ہوا اس پر اختلافات نہ صرف سامنے آئے بلکہ بیان ہونا بھی شروع ہوگئے، مسلمان اس پر منقسم ہوئے اور ہیں اور بہت سے اسے دین کا ماخذ تک نہیں مانتے (اور بالکل درست کرتے ہیں) لیکن قرآن کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا، کس قسم کی انسانی تحدیدات کا شکار علمِ حدیث ہوا سب کے سامنے ہے گویا کہ اس میں ہیغمبر کے ایامِ مبارکہ کی تاریخ ہے مگر اس میں انسانی تحدیدات کی آمیزش ہوگئی اور حاملِ قرآن جو قرآن دے گیا وہ محفوظ ہوگیا اور اسی حاملِ قرآن کی تاریخ انسانی تحدیدات کا شکار ہوگئی، کیوں؟ کیونکہ اسکی حفاظت کا کوئی ذمہ خدا نے نہیں لیا اس لئے اسکا معاملہ وہی ہوا جو عموماً تاریخی امور کی رپورٹنگ کا ہوتا ہے لیکن جب بات قرآن کی آئے تو منظر یکسر بدل کر اسکی حفاظت میں خدا کی آسمانی مداخلت کا مشاہدہ کررہا ہے۔


اگلا سوال یہ کہ متفرق یا غلطی والے متن کا احتمال ہی کیوں، کیوں نہ غلطی والے متون روک کر یہ معجزہ بھی کردیا جاتا؟

تو ارض یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ قرآن کی حفاظت کا ہے جو روزِ اول سے آج تک جاری ہے، اللہ کا ذمہ انسان کے عمل میں مداخلت کا تو ہے ہی نہیں کہ ہابندی لگادی جائے کہ کوئی لکھ ہی نہ سکے، غلطی والے متون قرآن ہی نہیں قرار پاتے تو دسیوں لکھ دیئے جائیں کیا فرق پڑتا ہے؟ بلکہ یہ بھی ہمارے موقف اور براہ راست خدا کی مائیت کی دلیل ہے کہ جیسے ہی کسی نے ازخود لکھنے کا ارادہ کیا تو کلام غلطی کا شکار ہوکر قرآن کہلائے جانے سے محروم ہوگیا اور انسانی مداخلت پر پابندی لگائے بغیر قرآن پوری شان سے محفوظ ہے یہ آپ ایک معجزہ ہے۔ جبکہ آپ انسانی عمل پر پابندی کے ایک مزید معجزے کے متمنی ہیں تو کیا گارنٹی تھی کہ اگر وہ ہوجاتا تو آپ مان جاتے، قرآن کی حفاظت مادی زرائع سے نہ ہونا ازخود ایک معجزہ آپکے سامنے ہے وہ تو آپ نہیں مانے۔


اب جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیسے کیا گیا؟ تو کسی بھی قسم کی غلطی دور کرنے کے لئے زمین پر قرآن کے مصدر کا اسوقت تک ہونا ضروری تھا جب تک مخاطبین کی بڑی تعداد کو اسکے تکلم پر بغیر غلطی، صحیح طریقے سے جمع نہ کردیا جائے؛ اور یہی ہوا کہ پیغمبر اسوقت تک لوگوں میں رہے، پیغمبر قرآن مکمل ہونے کے بعد بھی اہلِ اسلام کے ساتھ رہے اور اس دوران مختلف وجوہات کی بِنا پر سامنے آنے والی غلطیوں کی تصحیح ہوتی رہی، یہاں تک کہ مخاطبین کا جم غفیر نزولی متن اپنے حافظے میں محفوظ کرگیا اور اپنی نسل کو منتقل کرنے کے قابل ہوگیا اور پیغمبر ایک متن پر امت کو چھوڑ کر رخصت ہوگئے؛ جب تک مسلمان عرب کے معاشرے میں تھے اسوقت تک قرآن کو کتابی صورت کی ضرورت ہی نہیں تھی اس شان سے قرآن حاملین میں محفوظ تھا، لیکن جب اہلِ قرآن عرب سے باہر گئے وہاں سوال تھا کہ عجمی قرآن کیسے وصول کرینگے جن کی زبان ہی الگ ہے، پھر جیسے زمانہ رسالت میں ہیومن ایرر کی بنیاد پر (جنکا تذکرہ ہوچکا ہے) کچھ لوگوں سے کوئی غلطی ہوئی تو امکان کی حد تک بھی کسی عجمی کو کسی عربی شخص سے قرآن وصول کرتے ہوئے اس غلطی کا احتمال نہ ہوجائے اور اگر کوئی نسخہ کسی شخص نے ذاتی حیثیت میں مرتب کر کے رکھ لیا ہو جس میں اُن ہی ہیومن ایررز کی غلطیاں موجود ہوں اور اسے وہ اپنے ساتھ ہجرت کرکے لے گیا ہو تو اسکی حیثیت نل اینڈ وائڈ قرار پائے اس کا اہتمام کرنے کے لئے ریاستی سطح پر قرآن کی کتابی تدوین ہوئی (چنانچہ یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ قرآن کی کتابی تدوین اسکی حفاظت یا منتقلی کے مقصد کے لئے نہیں ہوئی کیونکہ وہ کام امت پہلے دن سے آج تک بغیر کتاب کررہی ہے؛ قرآن کی کتابی تدوین عجم کی آسانی اور ہیومن ایرر والے کسی کے ذاتی نسخے کی غلطی واضح کرکے انہیں نل اینڈ وائڈ کرنے کے لئے) ہوئی، اہلِ اسلام کے جمِ غفیر کے پاس اپنے حافظے میں قرآن محفوظ تھا، چنانچہ جن لوگوں کے پاس کوئی الگ مٹیریل موجود تھا جو امت میں قرآن کی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا ان اس کو جمع کرکے تلف کردیا گیا اور وہ نسخہ جسے مسلمین کا جم غفیر جانتا تھا اسکی تدوین ہوئی اور کتاب کی صورت دے دی گئی۔ اور جو ذاتی طور پر جمع کئے گئے ہیومن ایرر پر مشتمل غلط نسخے کسی کے پاس رہ گئے اور تلف نہ ہوسکے وہ آج مل رہے ہیں جنکی کیونکہ امت میں کوئی حیثیت ہی نہیں اس لئے امت کو ان سے غرض بھی نہیں، امت جانتی ہے وہ ہیومن ایرر والے کسی کے ذاتی نسخے ہیں قرآن نہیں اس لئے کوئی دلچسپی کوئی شور شرابہ بھی نہیں۔ تاہم محققین مسلمان علما نے اس عنوان کو موضوع بنالیا اور اس پر تحقیق کرکے مسئلہ سلجھا دیا ہے۔ ان ہی محققین علما میں دورِ حاضر کے جناب ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب بھی ہیں جو تاریخِ قرآن پر یونیورسٹی آف ویلز، یونائٹڈ کنگڈم سے تاریخِ قرآن کے موضوع پر پی ایچ ڈی ہیں، کسی پاکستانی یا مسلمانوں کی یونیورسٹی سے نہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کی دو دِہائیاں اس موضوع پر لگا کر ہسٹری آف دا قرآن کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں قرآن کی تدوین کی تاریخ، وجوہات، مختلف متن والے نسخے وغیرہ، احادیث میں موجود معاملات، گویا تقریباً تمام ہی مسائل جو غیر مسلم احباب پیش کرتے ہیں وہ حل کردئیے ہیں، دلچسپی ہو تو وہ کتاب لے کر پڑھ لیجیئے، لازماً آفاقہ ہوگا۔ ان مختلف چیزوں کو دیکھ کر آپ احباب کے ہاں خوشگوار بے چینی اس لئے اٹھتی ہے کیونکہ آپ دوستوں کی تحقیق ہوتی نہیں، آپ حضرات اسلام مخالف مواد کی تلاش میں رہتے ہیں؛ جو مل جائے بغیر جانے سمجھے بس فائرنگ کردیتے ہیں اور آپکا مسئلہ یہ ہے کہ دلیل، منطق، تحقیق سے بات سمجھائی جائے تو بھی نہیں مانتے۔ اور بس یہاں ہم مسلمین کا مقصد آپ پر واضح کرنا مکمل ہوجاتا ہے کہ آپ اہلِ دلیل و علم نہیں ہیں آپکا اسلام مخالف بیانیہ بے علم و دلیل، بونا اور بودہ ہے۔ آپ اس پر جمے رہیں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، آپکا اس پر جمے رہنا آپکے انتخاب اور علمی استعداد کی عکاسی ہے۔ افسوس کہ اسی جیسے اور کئی عنوانات ہیں جن پر استاد اویس اقبال صاحب سطحی معلومات دیکھتے ہیں اور پوسٹ کردیتے ییں جیسے کہ غلامی کے مسئلے پر اسلام کے مقابل ابراہام لنکن کو موصوف لا کھڑا کرتے ہیں اور لنکن کی ستائش میں قلابے ملا دیتے ہیں مگر اس عنوان پر بھی حضرت کی معلومات یکسر سطحی ہے۔ جب میں بار بار تکرار کرتا ہوں کہ قرآن قولی تواتر سے محفوظ ہوا نسخوں سے نہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم نسخوں سے اسکی حفاظت ثابت نہیں کرسکتے، جن غیر مسلم سائنسدانوں نے قرآن کے نسخوں ک تحقیق کی انکی آرٹیکلز اٹھائیے اور پڑھ جائیے وہ خود کہتے ہیں یہ معمولی فرق ہیں جو لہجے کے فرق، نکتہ اور حرف جنہیں آپ انگریزی میں واوِل کے فرق ہیں، جو عین انسانی تحدیدات کے عکاس ہیں، اور اگر صنعا کا نسخہ آپکو اتنا ہی پریشان کررہا ہے تو جان لیجیئے کہ سب سے قدیم قرآنی نسخہ برمنگھم کی یونیورسٹی میں موجود ہے جو کہ صنعا کے نسخے سے بھی زیادہ پرانا ہے وہ اسی قرآن کی تصدیق کررہا ہے جو آج ہمارے پاس ہے۔ مثال لیں کہ ایک شخص کا کلام دس لوگ رپورٹ کریں جن میں سے نو بالکل ملتا جلتا اور ایک معمولی اختلافات کیساتھ کلام ہیش کریں تو اس شخص کے کلام کی تصدیق نو سے ہوگی کہ ایک سے؟ بالیقین نو سے، پھر الگ دس کا بھی یہی حال ہو، پھر اگلے دس کا بھی یہی حال ہو تو آپ ہر دس میں سے نو کے کلام کو اس شخص کا کلام مانیں گے جسکی پرسنٹیج نوے فیصد بنتی ہے جبکہ قرآن کے تمام ملنے والے نسخوں میں ہم آہنگی ستانوے سے اٹھانوے فیصد ہے یعنی اب دس میں ایک نہیں سو میں اکا دکا لوگ معمولی فرق والے مختلف نسخوں کے حامل مل رہے ہیں تو پھر شک کی گنجائش باقی کیا رہی کہ قرآن محفوظ ہے؟جبکہ غور کیجیئے تو معلوم ہوگا کہ صنعا سے حاصل نسخے ہمارے موقف کی عین دلیل ہیں کہ جنہی کوئی شخص اپنی ذاتی حیثیت میں لکھ کر ساتھ لے گیا اور جب اسے قرآن کا حقیقی متن ملا جو آج پوری امت میں رائج ہے تو فوراً اس نے اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے انکو ٹھیک کیا اور انکو مٹا کر حقیقی نسخے کے الفاظ لکھ دئیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ضروری تھوڑی ہے کہ اسی نے تصحیح کی ہو جس نے اصلاً لکھے تھے؛ تو ارض ہے کہ سب سے زیادہ امکان اسی بات کا کہ اسی نے ایسا کیا ہو کیونکہ اسکے علاوہ کوئی اور کرتا تو (یقینا اس دوسرے شخص کو اتنا تو معلوم تھا کہ یہ صحیح نسخہ نہیں) تو وہ اس میں تصحیح کرنے کے بجائے اسے تلف کردیتا کیونکہ ریاستی طور پر ایسے غلط متون کی منزل تلف ہونا طے کردی گئی تھی۔ دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی اختیار کی جائے تو تصحیح کرنے والا کم از کم اتنا تو جانتا ہی تھا کہ صنعا سے برآمد اس نسخے میں غلطیاں ہیں جنہیں صحیح کیا گیا، ہم اس بات کے قائل ہیں کہ جس نے یہ نسخہ لکھا اسی نے صحیح کیا کیونکہ جو شخص خود کچھ جمع کرتا ہے اسے وہ ایک یادگار (سو وینیئر) کے طور پر محفوظ کرلیتا ہے، اسکی جگہ میں ہوتا تو غلطیوں کی تصحیح کرکے اس احساس کیساتھ محبت سے اپنے پاس یادگار کے طور پر رکھتا کہ قرآن کا یہ حصہ میں نے پیغمبر سے سن کر ازخود لکھا۔ دوسری صورت میں تصحیح کرنیوالا کوئی ریاستی عہدیدار ہوتا تو اسے صحیح نہیں کرتا بلکہ تلف کردیتا کیونکہ یہی ریاستی حکم تھا؛ تیسری صورت کا امکان بہت مشکل ہے جسے اگر نکال بھی لیں تب بھی ہمارا موقف ہی درست ثابت ہوگا کہ عامی بھی اسی قرآن کو جانتے تھے جو امت کے پاس آج بھی موجود ہے اسی لئے اس نے اس نسخے کی غلطیوں کو صحیح کردیا اور غلطیوں کو مٹا دیا۔ مزید یہ دیکھیں کہ کہیں اپنی پوری بات مِیں مٙیں نے برمنگھم کے نسخے سے استدلال کیا؟ جبکہ صنعا کے نسخے کی کاربن ڈیٹنگ اسے پیغمبر کے وسال کے انتالیس سال بعد بتاتی ہے جبکہ برمنگھم کا نسخہ جو آج کے متن کا مصدق ہے اسکی کاربن ڈیٹنگ اسے عہدِ رسول یعنی حیاتِ رسول سے وصالِ رسول کے بعد تیرہ سال کے عرصے کے دوران کا نسخہ بتاتی ہے جس کیمطابق یہ نسخہ پیدائشِ رسول سے وصال کے تیرہ سال کے عرصے یعنی پچھتر سال کے عرصے میں کسی وقت مرتب ہوا جبکہ پیغمبر کو پہلے وحی چالیس سال بعد مووصول ہوئی جسکا مطلب نزول وحی سے پینتیس سال کے عرصے میں کسی وقت مرتب ہوا، جو کہ پیغمبر کا موجودہ اور قرب کا دور ہوا، یعنی اس دور کا متن اور آج کا متن یکساں ہوئے اور نسخوں کے طریقے سے بھی ہمارا پورا کا پورا مقدمہ بعینہی من و عن ثابت ہوگیا لیکن کیا میں نے اپنی پوری تحریر میں برمنگھم میں موجود پیغمبر کے وقت کے نسخے کو بطور استدلال پیش کیا؟ جی نہیں، اور نہ اب کر رہا ہوں؛ کیوں؟ کیونکہ یہ ہماری دلیل ہے ہی نہیں، قرآن لکھت کی صورت منتقل ہوا ہوتا تب نسخوں کو دلیل بناتا؛ کیونکہ قرآن قولی تواتر سے امت میں منتقل ہوا اس لئے نسخہ دلیل نہیں، نسخے مل گئے تو بس ٹھیک ہے؛ نہ ملتے تب بھی کوئی فرق نہیں، کوئی اختلافی بھی مل جائے تب بھی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ یہ ہماری دلیل ہی نہیں ، نہ نسخے قرآن کی منتقلی کا ماخذ؛ ان تمام نسخوں کو امت قرآن سمجھتی ہی نہیں، آپ سمجھتے ہوں تو سمجھتے رہیں؛ ہم اسکے مقابل قولی تواتر کی ایک ایسی روایت پیش کرتے ہیں جو ایک دن کے بھی خلل کے بغیر اسطرح برقرار کہ آج بھی دکھائی جاسکتی ہے۔


موضوع پر واپس آتے ہوئے: جس وقت قرآن کی تدوین جاری تھی اس وقت مسلمانوں کا جم غفیر حاملِ قرآن تھا، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ریاست ان کے سینوں میں موجود قرآن سے مختلف کوئی چیز نافذ کردیتی کیونکہ مذہب کے بارے میں مسلمان کتنے حساس ہیں یہ آپ بخوبی جانتے ہیں، تو پھر یہاں تو معاملہ قرآن کا ہے، مسلمانوں کے بارے میں یہ کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ مسلمان کسی اور شے کو قرآن کے نام سے جانتے ہیں اور ریاست نے کسی اور چیز کو قرآن کا نام دے کر نافذ کردیا؟ یہ تو اسی وقت ممکن تھا کہ مسلمانوں کے پاس قرآن موجود ہی نہ ہوتا، مسلمان قرآن سے یکسر اجنبی ہوتے اور چند افراد اسے بزورِ ریاستی طاقت نافذ کردیتے، کہیں کوئی احتجاج ہوتا تو خاموش کرا دیا جاتا اور کسی کو پتہ نہ لگتا اور ایسے ہمیں یہ کتاب ملی ہوتی۔ مگر کیا ایسا ہوا؟ ایسا ہونے کا ادنیٰ شائبہ تک نہیں۔ قرآن کے (جنہیں کہا جاتا ہے فرق والے) لکھے ہوئے نسخے چند لوگوں کے پاس ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن لوگوں کے درمیان موجود تھا (جن میں سے چند لکھنے والوں نے اسے ذاتی حیثیت میں لکھ لیا) اور قرآن کی ریاستی تدوین پر اہلِ اسلام میں کوئی احتجاج، کوئی معمولی عوامی چپقلش کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسی قرآن کی کتابی تدوین ہوئی جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے ورنہ آپ جانتے ہیں کہ دیگر صورت میں مسلمانوں کے لئے جان لینا اور دینا وہ بھی قرآن کے لئے تو ایک اعزاز ہوتا۔ پھر یہ بھی دیکھئیے کہ مسلمان جو زمانہ رسالت کے بعد سیاسی معاملات پر لڑ پڑے سوچئیے کہ ان کے ساتھ قرآن کے معاملے پر دھوکا ہوگیا اور ان کے سامنے ہوگیا مگر انہیں پتہ ہی نہیں چلا، مسلمانوں میں کوئی ہلچل تک نہیں ہوئی؟ شدید مذہبی حساسیت رکھنے والی امت کے سامنے قرآن ہی بدل کر الگ چیز کو نافذ کردیا گیا اور امت کو پتہ ہی نہ چلا، کیا آپکو سمجھ آتی ہے یہ کہانی؟ کوئی نایاب کلام آپکی دسترس میں آئے تو آپ اسے محفوظ کرنے کی کوشش کرینگے اس طرح اگر کوئی شخص جس نے پیغمبر سے قرآن سنا اور بڑی محبت کے ساتھ لکھا اور ذاتی حیثیت میں مرتب کرلیا جو انسانی لغزشوں سے آشنا ہوا جس میں غلطی بھی موجود تھی اور وہ شخص اپنے نسخے کے ساتھ کہیں ہجرت کرگیا تو مسلمانوں میں ہل چل کیوں نہیں ہوتی؟ کیونکہ مسلمان اسکو جانتے ہیں کہ وہ قرآن نہیں اس پر ردِعمل کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ لکھے ہوئے مٹیریل کو ہم قرآن سمجھتے ہی نہیں، جیسے کہ گزشتہ تفصیل میں واضح کیا گیا کہ اپنی بات بتانے کے لئے ایک سلیبرٹی اپنی کتاب شائع کریگا ویسے ہی حاملینِ قرآن نے کتاب کی باقاعدہ تدوین کرکے مسئلہ ہی ختم کردیا، قرآن نسل بعد نسل حافظے اور باقاعدہ کتابی تدوین کے بعد اجماعِ امت کی صورت میں موجود رہا ہے اور تو اب خواہ ایک دو یا دسیوں متفرق نسخے برآمد ہوجائیں انہیں امت قرآن تسلیم ہی نہیں کرتی اور اس پر اسی لئے آگ بگولہ بھی نہیں ہوتی، تو جو چیز قرآن ہے ہی نہیں اسکو پیش کرکے قرآن کیخلاف استدلال کی کیا حیثیت؟ اس قسم کا استدلال ہیش کرنے والے اپنے سطحی علم کا ثبوت دیتے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔


یہاں تک اثبات ہوا قرآن کے اصل حالت میں برقرار رہنے کا، اب رخ کرتے ہیں ایک ایک کر کے جنم لینے والے سوالات کی جانب۔


٣- اعتراضات کی روشنی میں پیدا ہوئے سوالات کے جوابات۔

کہا گیا کہ [ان سب سے کچھ سوالات جنم لیتے ہیں] یاد رکھئیے کہ "ان سب" جو کہ اعتراضات ہیں جنکی حقیقت بے بنیاد نکلی ہے تو ذرا یہ بھی سوچئیے کہ ان اعتراضات کی بنیاد پر قائم ان چند اور ان کے علاوہ بہت سے سوالات کی عمارت کا کیا معاملہ ہوگا، دیانتدارانہ تجزئیے کا عزم ہی کافی ہے "ان سب" کو حل کرنے کے لئے کہ جب بنیاد ہی کھوکھلی ہے تو سوال پر وقت لگانا بھی اپنے آپ میں ایک سوال ہے مگر چلیں سوالات پر چلتے ہیں ورنہ تشنگی رہ جائیگی۔


سوال 1۔

کیا کتاب ایک بہتر ذریعہ ھے خدا کا پیغام پہنچانے کا؟

جواب: جیسا کہ ابتدا میں ارض ہوچکا کہ مخاطبت اور پیغام رسانی کے لئے اولاً پیغمبر (انسان) ہی کو انسان کی رہنمائی کا زریعہ بنایا گیا نہ کہ کتاب آسمان سے ڈائریکٹ نازل کردی گئی اور پھر قرآن کی معجزانہ حفاظت ثابت کررہی ہے کہ پیغمبر کے بعد یہ کتنا بہترین ذریعہ ہے پیغام رسانی کا، تو سوال کی کیا حیثیت؟


سوال 2۔

کیا ایک کتاب کا صدیوں تک نہ بدلنا، اگر مان بھی لیا جائے، اس کے سچے ھونے کی نشانی ہے؟ بہت ساری کتابیں ھیں جو زمانے سے نہیں بدلیں؟

جواب: میرے علم میں ہے کہ اویس اقبال صاحب قدیم فلسفیوں کی کتب کو بنیاد بنا کر یہ تاثر قائم کرتے ہیں کہ انکی کتب صدیوں تک نہیں بدلیں تاہم اس سلسلے میں بھی تحقیق کا سچا دامن پکڑ کر سفر پر چل نکلیں تو آپکو حقیقت ان کے عام تاثر کے برعکس ہی ملے گی، جو شخص چاہے کچھ وقت لگا کر اس مدعے پر تحقیق کرلے۔ تاہم خدا نے قرآن کی دلیل محض متن کی قولی تواتر سے حفاظت کو ہی نہیں بنایا، قرآن اپنے جن جن کمالات کے ساتھ موجود ہے ان شاہکاروں کیساتھ کسی کتاب کو قرآن کے مدِمقابل رکھ کر تو دِکھائیے! میں بہت اختصار کیساتھ دو نکات پر بات کرونگا؛ ان نکات پر کسی بھی کتاب کا موازنہ پیش کردیجیئے۔


پہلا نکتہ: قرآن کی حفاظت کے طریقے کو دیکھئیے، آج جتنے علوم ہیں ان کے متون سب اپنی حفاظت کے لئے انسان کے بنائے مادی وسائل کی احتیاج میں مبتلا ہیں، ان وسائل میں گڑ بڑ، خرابی ہوجائے یا کسی عالمی تباہی کی نذر ہوجائیں تو وہ متون کھو جائینگے، آپ لفظ با لفظ وہ متون دوبارہ اسی حالت میں ہیش نہیں کرسکتے، اگر کر بھی دیں تو موازنہ کرنے کے لئے اصل متن موجود ہی نہیں ہوگا کہ جانچ کی جاسکے، اس کے برعکس اگر کوئی ایسا معاملہ ہوجائے کہ قرآن کے متون جو کتب، کمپیوٹر، ڈسک یا کسی بھی اسٹوریج ڈیوائس میں ہوں سب کے سب نابود ہوجائیں تو بھی قرآن کے اصل متن سے آپ دنیا خالی نہیں کرسکتے، فوراً اسکا مستند متن دوبارہ حاصل کرلیا جائیگا اور اسی طرح کتاب کی صورت میں مدون کرلیا جائیگا اور جس پر امت کا ویسا ہی اجماع بھی ہوگا، جس طرح صدیوں پیہلے خلیفہ و صحابی عثمان نے کیا، بلکی یوں کہئیے کہ ایکشن ری پلے ہوجائیگا؛ کیونکہ قرآن کی حفاظت کا مکلف انسان ہے ہی نہیں اسلئے یہ اہتمام آسمان سے ہوا یے اور ایسا شاندار ہوا ہے کہ اس نکتے پر کوئی ایسی وسیع الفظ کتاب موازنے کے لئے پیش کی ہی نہیں جاسکتی، ورنہ پیش کردیں یا تمام انسانیت کوئی ایسا بندوبست کردے کہ قرآن اپنی حفاظت کے معاملے میں عین اسی جگہ آجائے جہاں دوسری کتب ہیں کہ کسی عالمی آفت کے نتیجے میں قرآن بھی زمین سے ایسے غائب ہو کہ دوبارہ حاصل نہ کیا جاسکتا ہو جیسے دوسری کتب کسی عالمی آفت کے نتیجے میں کھو جائیں اور متن کے اعتبار سے ناقابل حاصل ہوں۔ اس اہتمام کا ذکر سورہ حجر ١۵، آیت ٩ میں ملاحظہ ہو، قرآن کے ساتھ یہ حفاظت کا طریقہ ماضی میں یا آج ختم ہوجائے تو اسکی حقانیت کا دعویٰ سب سے پہلے میں واپس لے لوں گا لیکن نہ ماضی سے ثابت کر سکتے ہیں نہ آپ حال سے۔ ہم مسلمان عمر کے ہر درجہ کے لوگ آپکو اسکی حفاظت پر مامور دِکھا سکتے ہیں، کیا آپ اس جیسی کسی ایک وسیع الفظ کتاب کو اس شاندار انوکھے اہتمام کیساتھ لوگوں میں ایسی بڑی تعداد میں محفوظ دِکھا سکتے ہیں؟ یہ چیلنج ماضی سے لے کر حال اور حال سے مستقبل کے لئے ہے۔ یہ بھی یاد رکھئیے کہ ہم مسلمان اپنے پیدا کیئے گئے علوم کے معاملے میں اس دور سے گزرے ہیں جب ہمارا پیدا کیا گیا علم ہم سے بچھڑ گیا اور ہم اسے دوبارہ حاصل نہ کرسکے، یہ وہ سائنسی علم ہے جسکی شہادت آپکو ہر دیانت دار تاریخ دان دے گا مگر ہم اسے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے، وہ کتب ہم آج آپکو نہیں دکھلا سکتے کیونکہ انکا حال وہی ہوا جو دنیا کی ہر کتاب کے ساتھ ہے کیونکہ انکی حفاظت دنیا کی دوسری کتب کی طرح مادی وسائل کی محتاج تھی لیکن، لیکن جب بات آتی ہے قرآن کی تو منظر بتارہا ہے کہ اسے آسمان سے تائید حاصل ہے، ہمارا سائنسی علم ہم سے بچھڑ گیا مگر اپنی تاریخ کے ایک لمحے کے لئے بھی مسلمان امت قرآن سے محروم نہیں ہوئی؛ اور پھر حفاظت کے معاملے میں ملحدین کی جانب سے قرآن کا موازنہ کسی دوسری کتاب سے کرکے ہم اہلِ قرآن کو دکھا کر آپ حضرات اپنی علمی استعداد ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ قرآن ہمارا فخر ہے، جس کے پیچھے خدائی ہاتھ کام کررہا ہے۔


دوسر نکتہ: ابھی آغازِ نبوت ہوا ہی تھا اور پیغمبر کا ساتھ دینے والے دس افراد بھی نہ تھے، معاشرہ کی مخالفت کے خدشات، اپنے ہی مخالف ہوجانے کے خدشات، دشمنیاں ہوجانے کے خدشات تھے کہ اسی قرآن نے سورہ نصر ١١٠ میں عرب پر فتح کی پیشنگوئی کردی، بظاہر ناممکن دعویٰ تھا جس کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی، سننے والے آپ دوستوں کی طرح تمسخر کرتے تھے مگر تئیس سال کے مختصر عرصے میں ایسا پورا ہوکر رہا کہ ابو سفیان جیسا مخالف سردار کہہ اٹھا کہ محمد کا خدا، خدا ہے، یہ دعویٰ غلط ثابت ہوجاتا تو قرآن کا باب اسی وقت بند ہوجاتا مگر خدا کی مائیت کا ظہور دیکھ لیجیئے، کلام میں فتح آئیگی نہیں فتح آگئی کا صیغہ بتا رہا یے کہ یہ امر خدا کی جانب سے ٹھہر چکا، ہوکر رہے گا اور ہوگیا۔ قرآن تو آپکو ماضی حال مستقبل پر اطلاق کرتی آیات پیش ہی نہیں کررہا پوری کرتا دکھا رہا ہے، اسکے علاوہ بھی نکات ہیں مگر تحریر کی طوالت کے باعث یہ دو نکات کافی سمجھتا ہوں اور ان شاہکاروں کے ساتھ ہر دور کے لوگوں کو قرآن کہتا ہے کہ لائو کوئی ایسی کتاب جو اس قرآن کے مقابل ہو ان کمالات کیساتھ جو کمالات اس کتاب میں ہیں۔ آپ ان دو نکات پر مبنی ہی کوئی کتاب پیش کردیجیئے جسکی پیشنگوئیوں کا اطلاق ماضی حال مستقبل پر کرکے وہ وقت کے تمام ادوار کو نہ صرف انگیج کر رہی ہو بلکہ اثبات بھی کر کے دِکھا رہی ہو اور جسکی حفاظت معجزانہ طور پر قرآن کے جیسی ہورہی ہو۔


سوال 3۔

اگر قرآن واقعی اللہ کا کلام ھے تو وہ صرف عربی میں ھی کیوں ھے؟ باقی دنیا کا کیا قصور ھے؟

جواب: یہ بےانتہا پست سوال ہے، قرآن کے معاملے میں خدا نے وہی طریقہ کار اختیار کیا جو دوسرے علوم میں انسانوں کیساتھ عام ہے۔ عالمی زبان انگریزی بن گئی یے جس نے علوم پر بھی بطور زبان گرفت حاصل کرلی ہے، سائنس کے عالمی مطالعے کے لئے انگریزی نہ بولنے سمجھنے والا بچہ انگریزی سیکھے گا۔ علومِ دینیہ کے لئے بھی اسی طریقے کو اختیار کیا گیا۔ مسئلہ دلچسپی کا ہے ورنہ یہ کوئی ناممکن کام نہیں، ہم بچوں کو شروع سے انگریزی زبان سیکھنے پر لگا دیتے ہیں، لوگ مختلف زبانیں سیکھتے ییں کیونکہ یہ صلاحیت یہ پوٹنشیئل ان میں ان کے خالق نے ودیعت کیا ہے، یہ صلاحیت انسان استعمال کرتے آئے ہیں اور یہ اتنی قوی ہے اس پر شک نہیں کیا جاسکتا اس لئے انسان کی اسی صلاحیت کو دین کے لئے بھی زیرِ استعمال لایا گیا۔ گوگل کے مطابق چھ ہزار سے زائد زبانیں اسوقت دنیا میں بولی جارہی ہیں تو کیا چھ ہزار زبانوں میں قرآن نازل کیا جاتا اور قیامت تک نہ جانے اور کون کون سی کتنی زبانیں آنے والی ہیں تو کیا قرآن قیامت تک زبانوں کی آمد کے ساتھ زیرِ نزول رہتا؟ بیک وقت زبانیں وجود میں آتیں تو بیک وقت جگہ جگہ پیغمبر بھیجے جاتے اور گویا انسان کی صلاحیت پر عدم اعتماد کا کھلا اظہار کیا جاتا۔جبکہ آپ یہ دیکھئیے کہ اگر ہر زبان میں قرآن کے نزول کا طریقہ اختیار کرلیا جاتا تو ہمارے پاس ایک نہیں ایک ہی کلام کی بےشمار زبانوں میں ہوتا اور بے شمار زبانوں کا کلام نزول کے مرحلے میں ہوتا، (آپ ملحد افراد کو یہ اعتراض ہے نا کہ اسکو سمجھنے میں اختلاف ہوتا ہے ہے تو کیوں نہ سب کو اہنی اپنی زبان میں مل جاتا تاکہ سمجھنا آسان ہوتا) ذرا سوچئیے کہ ایک زبان میں اتری کتاب پر اگر اختلاف موجود ہے تو جس جس زبان میں اترتا کیا ان کے مابین اختلاف نہ ہوتا؟ اور مختلف زبانوں کے حاملین کے مابین کیا بین الاقوامی طور پر ایک ہی کتاب پر بےپناہ اختلاف نہ ہوجاتا؟ تو آپکی مجوزہ اسکیم کتنی کھوٹی نکلی؛ اگر یہ طریقہ اختیار کرلیا جاتا تو آج آپ ہی کہہ رہے ہوتے کہ جب انسان مختلف علوم ایک زبان سیکھ کر سمجھ سکتا ہے تو قرآن کے معاملے میں یہ انسانی شعور پر بھروسہ کیوں نہ کیا گیا تاکہ ایک ہی کتاب ہوتی اور لوگ اہنی شعوری استعداد کیمطابق سمجھ لیتے یہ کتابوں کا انبار لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ انسان کا کلام ہوتا تو شاید یہ طریقہ ہو بھی جاتا مگر خدا کا ہے اس لئے نہیں ہوا۔ آپ دیانتداری سے دیکھیں کہ ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو بہترین انداز میں انگریزی زبان فرفر بولتا دیکھتے ہیں، حتیٰ کہ غیر زمادری زبان والا بچہ بھی بہترین انگریزی انگریزوں کیساتھ بول رہا ہوتا ہے جبکہ ابلاغ کے لئے زبان کے اسالیب، گرامر، محاورے وغیرہ محض حافظے میں محفوظ کرلینے سے کہیں زیادہ مشکل ہے، لیکن جب کوئی عامی آپ سے کہے کہ یار اتے سے بچے کو اتنی مشقت میں کیوں ڈالا ہوا ہے کہ غیر زبان سیکھے ابھی تو اسکو اپنی زبان بھی اچھے سے نہیں آتی ہوگی تو آپ کہتے ہیں کہ یہ اسکی صلاحیت اور پوٹنشئیل کا ظہور ہے، یہ سیکھ جائیگا آپ اسے ڈی موٹیویٹ مت کریں لیکن جب ایک مسلم بچہ زبان سیکھنے سے سے کہیں آسان کام محض قرآن حفظ کرلے تو آپ کو وہ ظلم لگتا ہے؛ اور جس سیکھنے کے پوٹنشئیل پر اعتماد کرکے اپنے بچوں کو غیر زبانیں پورے اعتماد کیساتھ سکھاتے ہیں اسی پوٹنشئیل کو خدا نے اختیار کرلیا تو اتنی بےچینی کے کیا معنی؟ یہ سوال دراصل حضرتِ انسان کو اسکے پوٹنشیل سے پست مان کر کیا جاتا ہے کہ ہم اس قابل نہیں، حالانکہ بنانے والے نے آپ میں یہ صلاحیت ڈالی اور اس پر بھروسہ کیا اور اسکا مشاہدہ اپنی ذات میں، سماج میں الغرض دنیا میں دیکھ لیں مگر سب چیزوں کا مشاہدہ کرکے بھی یہ سوال کرنے والے علوم مختلف زبانوں میں سیکھتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں ایسے سوال کرتے ہیں جیسے مطاقاً صلاحیتوں سے محروم ہوں۔ ایسے افراد اگر حضرتِ انسان سے ناآشنہ ہیں تو یہ سوال نہیں بنتا اور اگر آشنا ہیں تو ہھر تو بالکل بھی نہیں بنتا ماسوائے اگر جان بوجھ کر الجھانے کی کوشش ہو تو بہت افسوس ناک بددیانتی ہے۔


سوال 4۔

آج کے انسانوں کو جب کہ کتابوں کو محفوظ رکھنا بہت آسان ھے ان کو خدا ایک بار قرآن کو صحیح طرح لکھ کے کیوں نہیں دے دیتا؟

جواب: قرآن کو صحیح کرکے نازل کرنے کی نوبت تو اس وقت آئے جب قرآن میں خرابی ثابت ہوجائے، امت کا اجماع، علم، روایت، استدالال سب موجود ہے، معجزانی حفاظتی طریقہ آج بھی مشاہدے میں ہے تو خرابی کو پہلے استدلال سے آپ ثابت تو کیجیئے جو دوبارہ نزول کی نوبت آئے، ٹامکٹوئیوں سے کام نہیں چلے گا۔


سوال 5۔

عرب کے سات قبیلوں کے لیے سات حروف (pronunciations) میں قرآن دیا گیا۔ اس وقت پوری دنیا کی آبادی صرف 208 ملین تھی جبکہ آج کے سات ارب انسانوں کا کیا قصور ھے؟

جواب: یہ اعتراض بھی بالکل غلط ہے، قرآن ایک ڈائلیکٹ میں ہی نازل ہوا، یہ اعتراض اخبارِ آحاد یعنی احادیث سے لیا گیا ہے اور اس پر تحقیق کے بغیر اسلام اور قرآن پر تنقید لکھ دی گئی کیونکہ زمانہ رسالت میں عرب کے تئیس قبائل تھے جبکہ عربی بولنے والے یہود کے بارہ قبائل جنہوں نے پیغمبر کے ساتھ معاملات کیئے، کل ملا کر ہینتیس قبائل ہوئے؛ اگر فقط عرب کو مخصوص کردیں تو تئیس قبائل، اگر قرآن قبائل کی مناسبت سے احروف میں نازل ہوا تو تئیس احروف یا قرائت ہوتیں سات نہیں، ورنہ جو نکتہ یہاں اٹھایا گیا ہے قبائلی حمیت و عصبیت سے متاثر افراد اسی وقت اس بیش قیمتی نقطے کو اٹھا کر شور شرابہ کر دیتے، انہوں نے شور شرابہ اس لئے نہیں کیا تھا کیونکہ انہیں پتہ تھا ایسا کچھ ہوا نہیں مرشد اویس اقبال صاحب نے اس لئے کیا کیونکہ ۔۔۔۔۔! اور مزید حیرت کی بات یہ کہ اگر یہ سات حروف والی بات درست ہوتی تو کہیں اور نہیں تو عرب میں تو آج بھی دِکھتا، شدید ترین مذہبی حساسیت کے حامل قبائلی امت کو چھ قرآنی قرات سے رات و رات محروم کردیا اور کسی نے چوں بھی نہیں کیا؟ یہ امت دین کے نام پر کیا کر گزرنے کو تیار رہتی ہے کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں اور سات میں سے چھ قبائل کی قرات یا احروف کا ٹریڈیشن ہی ختم ہوگیا اور ان قبائل نے اپنی اپنی نزولی قرات کی منسوخی کو رتی برابر بھی اہمیت نہ دی اور توجہ کا مرکز بنایا تو اسے کہ تمہارا کلمے کا تلفظ درست نہیں، انکی شلوار نیچی اور آپکی ڈاڑھی چھوٹی ہے۔ کچھ تو تحقیق بھی ہونی چاہئیے تنقید کے گولے داغنے سے پہلے! ایسی تنقیدات حاملِ تنقید کی علم کے ساتھ سنجیدگی پر سوال اٹھا دیتی ہیں اور سطحی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں! اسی طرح احادیث سے ایک اور اعتراض آیا کہ قرآن کا کچھ حصہ بکری کھا گئی اس لئے وہ حصہ کھو گیا؛ جناب اعلی، زمین پر قرآن کا مصدر پیغمبر، جس سے سینہ با سینہ قرآن اصحاب و عوام کو منتقل ہوا، تو بکری درمیان میں آ ہی کہاں سے گئی؟ یہ آپ بتائیے کیونکہ قرآن کی ٹرانسمیشن کے لئے قولی تواتر کا بہترین طریقہ اپنایا گیا جو آج بھی مشاہدے کے لئے موجود ہے، لکھ کر یا نسخوں کی صورت میں قرآن کی منتقلی بنیادی طور پر کی ہی نہیں گئی۔ جس پر نازل ہوا وہ موجود، جن کے لئے نازل ہوا وہ پیغمبر کے ساتھ موجود، نزول سے منتقلی براہ راست اور پھر نسلوں کو منتقلی ہورہی ہے تو اب آپ پورا کا پورا قرآن بکری کو کِھلا دیں فرق کیا پڑتا ہے؟ لیکن اس گتھی کو سلجھائیے جو آپکا بنیادی اعتراض ہے کہ جب لکھت میں یا کتابی صورت میں قرآن منتقل ہی نہیں ہوا تو بکری کی داستان سرائی آخر ہے کیا؟ جواب آپکو اس لئے دینا ہوگا کیونکہ یہ آپکی اینٹی قرآن دلیل ہے جسے آپ نے ہیش کیا ہے اور لوگ آپکو اہلِ دانش سمجھتے ہیں، ہمارا ایسا بودہ استدلال نہیں ہوتا۔ سب سے مزے کی بات کہ یہ احادیث جو صدیوں برس بعد سامنے آئیں تب مسلمین کو سات احروف اور بکری پتہ چلی، اس سے پہلے بکری اور سات حروف عرب کے لئے وجود ہی نہیں رکھتے تھے؛ اس لئے حدیث دین کا ماخذ نہیں، شاید آپ مانتے ہیں اس لئے پریشان ہوگئے۔ دوبارہ گزارش کرونگا کہ ڈاکٹر شہزاد سلیم کی کتاب پڑھیں آپکا قرآن کی تاریخ کے حوالے سے اس قسم کے اشکالات کا طالبعلمانہ باب بند ہوجائیگا تاہم اڑ جانے کا علاج نہیں۔


سوال 6۔

کہا گیا کہ "آج کے انسانوں کو جب کہ کتابوں کو محفوظ رکھنا بہت آسان ھے ان کو خدا ایک بار قرآن کو صحیح طرح لکھ کے کیوں نہیں دے دیتا؟"۔

جواب: اس غلط فہمی کو درست کرلیں کہ آج کتب کو محفوظ رکھنا بہت آسان ہے، حفاظت کا مقصد آسانی سے پورا نہیں ہوتا؛ آج کے مادی زرائع جن پر آپ حضرات نازاں ہیں پیچھے ان کی کمزوری واضح کرچکا ہوں، ڈیٹا کے ساتھ میڈلنگ کتنی آسان ہے کون نہیں جانتا، دنیا کو انٹرنیٹ سے محروم کرنا ورلڈ انٹرنیٹ ڈیٹا بیس سنبھالنے والے کتنی آرام سے کرسکتے ہیں یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں، ہم مسلمانوں کا سائنسی علوم کا کتابی زخیرہ آپکے سامنے تاریخ میں موجود ہے جو جنگوں اور آتش کی نذر ہوکر نابود ہوگیا اور ہم مسلمان اس سے محروم ہوگئے اور تاحال محروم ہیں تو آپ کیا چاہتے ہیں ایسے مادی وسائل سے قرآن کی حفاظت کی جاتی؟ قرآن کی حفاظت اپنے آپ ایک معجزہ یے جو تمام مادی زرائع سے بالاتر اسوقت تک محفوظ ہے جب تک اس دنیا میں مسلمان ہیں۔ آپکو قرآن مٹانے کے لئے نہ کوئی سائٹ ہیک کرنی یے، نہ وائرس بنانا ہے نہ ہمیں اینٹی وائرس اور اینٹی ہیکنگ سیکھنی ہے نہ آپکو چھاپہ خانوں میں آگ لگانی ہے نہ ہمیں فائر ایکسٹنگیوشر کی فکر کرنی ہے، نہ آپکو جنگ کرکے ہماری لائبریریوں پر بمب برسانے ہیں قرآن ختم کرنے کے لئے نہ ہمیں ان لائبریروں کی حفاظت کے لئے فوج بنانی ہے؛ ہمارا طریقہ انتہائی سادہ اور اتنا قوی ہے کہ آپکے لئے ناممکن ہے کہ آپ قرآن کو بدل ہی دیں ختم کرنے کا تو خواب بھی نہیں آنا آپکو۔ اور یہی وجہ ہے کہ لکھت کی صورت میں قرآن کی حفاظت نہیں کی گئی، اگر ایسا کیا جاتا تو وہ نسخہ مادی مشکلات کی وجہ سے غیر محفوظ ہوجاتا، کسی جنگ میں وہ نسخہ جل جاتا یا مخالفین کے لاتھ لگ جاتا، کوئی چور چوری کر لے جاتا، یا بکری والی کہانی ہی سچ ہوجاتی تو اسکی حفاظت ممکن نہ رہتی، آپ کہتے ہیں آج، تو آج کیا جنگیں نہیں ہوتی، چوری کا جرم ختم ہوگیا کیا دنیا سے یا آج بکریاں ناپید ہوگئی ہیں یا انٹرنیٹ میڈلنگ روکنے کی حتمی منزل کا اعلان ہوگیا ہے؟ اس کے مقابلے قرآن کیسے محفوظ ہے وہ معجزہ ہے اور جسے آپ حفاظت کا بہتر طریقہ مانتے ہیں وہ کتنا بودہ ہے اسی پر دیانتدارانہ رائے قائم کریں۔


سوال 7۔

قرآن اگر مشعل راہ ھے تو اس کو علماء اور تفسیروں کی کیا ضرورت تھی؟

جواب: قرآن نے کب کہا کہ مجھے تفاسیر کی ضرورت ہے؟ ایک بھی تفسیر نہ لکھی جائے تو قرآن کے مشعلِ راہ ہونے پر سوال اٹھائیے۔ اسی لئے مسلمانوں کی علمی روایت میں کسی ایک تفسیر کو بھی قرآن کا درجہ نہیں دیا گیا۔ تفسیر ضروری ہوتی تو تفسیرِ محمد ہوتی، وہ تو ہے ہی نہیں اور تفسیر کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آپ قرآن کو پڑھ جائیں عقائد، ایمانیات، احکام، حرمت، حلت بڑے واضح اور صاف الفاظ میں موجود ہیں، محض ترجمہ بھی ہڑھ لیں تو قرآن کو انسان سے کیا مطلوب ہے سادہ الفاظ میں متن سمجھا دے گا۔ تفسیر تو صاحبِ تفسیر کا بیان یے کہ اس نے کیا سمجھا، جو اس نے سمجھا بیان کردیا، آپ ہڑھ لیں دلائل سے بات واضح ہوتو اتفاق کرلیں ورنہ اختلاف کرلیں؛ یہ اختلاف اسکی تفہیم سے ہوگا کیونکہ غور و غوث کرنے والے آپ بھی ہوسکتے ہیں، نہیں پڑھنا چاہیں تو مطلقاً ایک بھی تفسیر نہ پڑھیں۔ قرآن خود پڑھیں۔ سوال ہو کہ پھر تفسیر کیا ہونی چاہئیے، جی بالکل۔ کیوں؟ کیونکہ قرآن زبان میں نازل ہوا ہے، زبان نطق ہے منطق نہیں ہے؛ اس میں اسالیب ہیں، محاورے ییں، ادب ہے، زبان کا اپنا نثر اور گرامر ہے، طنز و مزاح وغیرہ ہے (اردو ہماری زبان ہے مگر اسکے بہت سے پہلوئوں سے میں اور آپ مادری زبان ہونے کے باوجوہ بھی ناآشنا ہونگے جن کے لئے ہم اردو سیکھتے بھی ہیں) تو قرآن میں کونسی آیت کس اسلوب میں کس شان میں ہے یہ آپکو کون بتائیگا؟ سیکھنے سے آئیگی نا، تو یہ تفاسیر وہی کام کررہی ہیں جو بچوں کو اسکول میں اردو سکھا کر ہم، آپ اور اساتذہ کررہے ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا سوال سے زیادہ مشکل سوال یہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کو انسان کے فہم پر چھوڑا ہی کیوں گیا؟ کیونکہ انسان کو محض عمل کے نہیں علم کے امتحان میں بھی ڈالا گیا ہے تاکہ انسان پر واضح ہو جائے کہ کون اپنے علم کو پاکیزہ رکھنے میں حمیت، عصبیت، محبت اور تنفر کے جذبے سے بالاتر ہوکر استدلال کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کرگیا اور کس نے تفاوت میں آکر اپنی ذات کو علم کا منبہ سمجھا اور حقائق واضح ہونے کے بعد بھی غلط بات پر اڑ گیا؟ جب علم کے امتحان میں ڈالنا ہے تو فہم و فکر کو آزاد چھوڑنا ہوگا، اس لئے چھوڑ دیا۔ اگر علم کا امتحان نہ ہوتا تو یہ تفاہیم و تفاسیر کا اختلاف بھی آپ نہ دیکھتے۔ جہاں آزمائش تھی وہاں آزادی دے دی گئی، قرآن کے متن کی حفاظت کی آزمائش رکھی ہی نہیں گئی اس لئے یہاں انسانی عمل و فہم کے دخل کا امکان تک باقی نہ رکھا گیا۔ دین کے معاملے میں آکر اپنی عام زندگی و حالات سے آپکی ریل گاڑی نہ جانے کیوں اترجاتی ہے، یا تو معلومات ہی سطحی ہے یا پھر علمی بددیانتی، اسکا فیصلہ اپنے بارے میں آپ خود کیجیئے۔


اختتامیہ

اس تمام تر تفصیل و جواب کا مقصد آپکو اسلام پر لانا نہیں، آپ آئیں نہ آئیں ہمارے مطابق آپکو جواب دینا ہے، جب وہ موقع آئیگا تو دے دیجیئے گا۔ اس تحریر کا مقصد یہ بتانا تھا کہ میں اور مسلمان کیوں قرآن کو انوکھا کلام سمجھ کر وہ عزت دیتے ہیں جس پر میرے بھائی، استاد و مرشد اویس اقبال نے تنقید کی، اعتراضات اٹھائے اور سوال پیش کئیے۔ آپ لوگ فلسفہ الحاد پر ایمان رکھنا چاہیں تو شوق سے رکھیں۔ آپ حضرات عقل فہم کی بات کرتے ہیں لیکن ایک واضح نقطہ نظر رکھنے کے باوجود الحاد پر بات نہیں کرسکتے، جب آپکو الحاد پر گفتگو کے لئے بلایا جائے تو فوراً ایک ایگناسٹک کی سطح پر پلٹ دعوے سے بری ہوکر ہاتھ کھڑے کردیتے اور بارِ ثبوت کی بحث میں الجھ جاتے ہیں؛ پھر بھی خدا کے انکار کی کوئی تو قابلِ فہم اچھی مثبت وجہ ہوگی آپکے پاس جو آپ ہمیں تو نہیں دے سکتے مگر جب جوابدہی کا وہ دن آئیگا تو اس دن اپنی وجوہات آپ بیان کر دیجیئے گا؛ معاملہ ختم۔ اس سے آگے آپ اور ہم انسان، دوست، یار، بھائی ہیں، میری بہت خواہش ہے کہ میرے شہر کراچی میں آپکی فکر سے تعلق رکھنے والے میرے دوست میرے ساتھ چل آئوٹ کریں، ہوٹل پر بیٹھ کر چائے کے دور لگائیں، بائک پر ساتھ بیٹھ کر تفریح کریں اور شدت پسندوں کو پیغام دیں کہ اختلافات کے باوجود بھی انسانی سطح پر رہا اور دوست کی طرح خوش رہا جاسکتا ہے، اچھا سوشل سبسٹینس بنایا جاسکتا ہے اور مزے کی بات کہ میرا دین مجھے اس سے روکتا بھی نہیں۔ میری سب کے لئے سلامتی کی خواہشات ہیں، اگر کراچی میں رہنے والا کوئی ملحد دوست میرا دوست بننا چاہے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔ میرے بارے میں میرے بھائی، استاد و مرشد اویس اقبال صاحب سے پوچھ لیجیئے کہ کیا کبھی انکو مجھ میں شدت پسندی محسوس ہوئی ہو تو۔ علمی اختلاف میں ان سے شائستگی کے ساتھ مگر پوری قوت سے کرتا ہوں جسکا اظہار اس تحریر میں ہے لیکن میں یہ برملا کہتا ہوں کہ اسلام کا منفی استدلال اویس اقبال صاحب نے مجھے سِکھایا ہے؛ یہ میری فیسبک کی متاع ہیں اور میں ان سے محبت کرتا اور انکی تکریم اپنے لئے لازم سمجھتا ہوں جسکے تحت انکی بہت سی پوسٹس پر ان ہی کے تمسخرانہ اسٹائل میں ردِ عمل نہیں دیتا کیونکہ انہیں برا محسوس ہوسکتا ہے۔ اور کیونکہ ہمارا دین ہمیں یی نہیں سکھاتا تاکہ ہم اور آپ میں علمی و اخلاقی فرق قائم رہے۔


آخری بات: کیا آپ نے کبھی اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ انسان کے شعور کی قوت اس میں جاننے کی ایک لامتناہی جستجو اس حد تک پیدا کرچکی ہے کہ انسان نے اس کائنات کو اپنا غیر اعلانی ٹارگٹ بنا لیا ہے اور تسخیر کا عمل شروع بھی کرچکا اور آگے بھی بڑھ رہا ہے، اسی شعور کی کرامات ہی ہیں نا کہ سو سال ہہلے جو کائنات علم میں نہیں تھی وہ مشاہدے کی دسترس میں آگئی، وہاں کیا ہورہا ہے، کیا قوانین کام کر رہے ہیں ہم آج نہیں جانتے لیکن شعور کی صلاحیت اتنی قوی ہے کے اس پر بھروسہ کرکے ہم پورے اعتماد سے کہتے ہیں کہ آنے والے کل میں انسان وہاں بھی پہنچ جائیگا۔ لیکن ایک مشکل ہے جو حل نہیں ہورہی: تجسس سے بھرے ازہان بےپناہ علمی خزانے ہمیں مہیا کرکے چلے گئے لیکن اپنے پیچھے ایک لامتناہی قابلِ تسخیر کائنات چھوڑ گئے، اجتماعی حیثیت میں دیکھیں تو سب کا سب انسان کا اثاثہ ہے مگر بحیثیت فرد میری جاننے کی خواہش کم ہی نہیں ہوتی، میں جتنا جاننے لگتا ہوں اتنا ہی یہ عمل مجھے شدت کیساتھ احساس دلاتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔ موت کی حقیقت ہر متجسس، مفکر، فلسفی کے لئے بےثباتی کی ایسی اک آہ بن کر رہ جاتی ہے جس کے آگے وہ کلیتاً بےبس ہے کیونکہ اس کے تجسس کا یہ سفر اچانک ختم ہوجائیگا جبکہ اسکی جاننے کی پیاس اپنے سامنے کائنات کا ایک ایسا سمندر دیکھتی ہے جو بڑھتا ہی چلا جارہا ہے تھم ہی نہیں رہا۔ [یہ اپنی جگہ ایک متجسس سوال ہے کہ مادہ اس قابل نہیں کے خود کو کسی صورت میں ازخود ڈھال لے (شعور کا کریگر ہی ہے جو مدادے کو مسخر کرکے اسے جس طرح چاہ رہا ہے ڈھال رہا ہے) یا مادہ اپنے اندر ازخود شعور پیدا کرلے ورنہ تجربے اور مشاہدے میں آچکا ہوتا، جتنا تجربہ و مشاہدہ ہی یہی گواہی دے رہا ہے کہ مادہ تسخیر ہوتا ہے مسخر نہیں کرتا تو مادے میں زندگی کی نمو ہھر اس زندگی میں شعور اور بےشعوری کی تقسیم کس نے کردی؟ ایک جواب بہت سادہ مگر مضحکہ خیر جو وابستگانِ الحاد بشمول گرامی اویس اقبال صاحب اکثر ہیان کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ اتفاق ہے مگر حیرت کی بات کہ الحایوں کا نازاں علم سائنس اتفاق کو اتفاق سے بھی نہیں مانتا بلکہ امور کے پیچھے پڑکر اسکی وضاحت و تفصیل میں ہر پتھر الٹا دیتا ہے۔ کیوں نہ پھر آپ حضرات کی طرح ہر تجسس پر اور سب سے پہلے سائنس پر اتفاق کا لیبل لگائیں اور گھر بیٹھ جائیں؟ لیکن آپ یہ کرنے کو تیار نہیں لیکن جب پوچھا جائے کہ زندگی کیوں ہے، مادے میں شعور کیوں ہے تو آپکی ہر وضاحت کی آخری منزل اتفاق ہوتا ہے اور یہاں آپکا متجسس جاسوس ہر شے بشمول زندگی کی مادی وضاحت کرکے پر کیف نیند میں سویا ہوتا ہے جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شعور مادہ نہیں، اور کیونکہ انسان شعوری وجود بھی ہے اس لئے محض مادی وجود نہیں تو انسان کی مادی تفصیل اسکی مکمل تفصیل بھی نہیں ہے حالانکہ ملحدین انسان کی مادی توضیاحت کے لئے اسی شعور کا استعمال کرتے ہیں، اور پھر انسان کی مادی وضاحت پر مطمئن ہوجاتے ہیں جبکہ انسان کے معاملات میں شعور کے عمل دخل سے زندگی کو خالی بھی نہیں مانتے۔ ابھی شعور کی توجیح نہیں ہوئی کہ صحیح/غلط، اچھائی/برائی کی بحث سر اٹھا دیتی ہے؛ آپ کے مطابق انسان نے وقت کے ساتھ سیکھا کے میرے فلاں عمل سے اسکو تکلیف ہوئی، وہی عمل یہ بھی کریگا تو مجھے بھی تکلیف ہوگی تو دونوں نے طے کرلیا کہ دونوں وہ عمل نہ کریں مگر تکلیف کا تعلق مادے سے ہے تو یہ تو محض مادی توجیح ہوئی، اگر تکلیف کا عنصر ختم کرکے آپکو زندگی سے جدا کردیا جائے تو؟ تو آپ کہیں گے کہ میری جان میری مرضی کے بغیر کوئی کیسے لے سکتا ہے؟ اس سوال سے آپ مانتے ہیں کہ آپ کی جان کو تعظیم حاصل ہے اور آپ اپنے ارادے کے شعوری استعمال کا اختیار بھی چاہتے ہیں یہ تو مادی توجیح نہیں ہوئی، مادی توجیح تو سروائیول آف دا فٹسیٹ ہے جس کے مطابق تکلیف دینے کی اجازت بھی ہونی چاہئیے تاکہ جو فٹ ہوں وہ بچ جائیں اور ان فٹ سروائیول کے ارتقائی عمل سے گزر کر ختم ہوجائیں، اس طرح بہتر معاشرہ، فٹ لوگ، وسائل کے مطابق متناسب آبادی اور عالمی خوشحالی حاصل ہوجائیگی، یہی سروائیوال آف دا فٹسٹ آپ نظرئیہ ارتقاء میں پڑھتے ہیں نا جس کے آپ داعی ہیں، ہوموسیکثوئلٹی کی دلیل آپ نظریہ ارتقاء سے لے کر اسکا اطلاق چاہتے ہیں، مگر نظریہ ارتقاء کے اسی اہم فِنامینا سروائیوال آف دی فٹسٹ کے من و عن اطلاق سے جسکے اچھے اور فٹ نتائج سے بھی آپکو آگاہ کیا جائے تو آپکے ضمیر کی شعوری آواز مزاحمت میں چیخ اٹھیگی، پھر بھی آپ زندگی کی مادی وضاحت پر مطمئن ہیں اور صحیح/غلط، اچھائی/برائی کی مادی وضاحت دیتے ہیں]۔ بہرحال لامتناہی کائنات کو مسخر کرنے کی انسان کے اندر انفرادی حیثیت میں جستجو بھی اور صلاحیت بھی مگر وقت نہیں، تو فرد کی حیثیت میں مجھے ایک لامتناہی وقت و زندگی بشمول وسائل بغیر کسی اندیشے اور ہچھتاوے کے درکار ہین جس کے تحت میں اپنی شعوری پیاس کے تعاقب میں آگے بڑھتا چلا جائوں، یہ لامتناہی وقت، یہ غلطیوں کے ہچھتاوں سے بلند موقع، یہ اٙن گِنٙت زرائع، بغیر میرے مادی وجود کو کسی قسم کی کوئی ضرب اور میری توانائی میں کمی کے اندیشے کے مجھے جنت کی صورت میں کوئی دے رہا ہے جس سے میرے تجسس اور تسخر کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں، میں علم کے سفر میں اور جاننے کی تسکین کا ہمیشگی میں احساس کرسکتا ہوں، جو ذات میرے شعوری وجود کی توضیح اور توجیح اس دنیا میں بھی کررہی ہے، آپ حضرات اس کا بےدلیل، بےشعورا انکار کرچکے ہیں اور اب آپکے سامنے محض مادہ ہے اور سوالات کی ایک دنیا ہے جس میں اتفاق جیسی بودی وضاحتوں سے آپ خود کو مطمئن کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر کر نہیں پاتے؛ اب آپکے پاس جو کچھ ہے محض خواہش کی پیروی ہے، جو دینی پیراڈائم تو چھوڑ دیں (وہ آپکو برا لگتا ہے) لیکن فلسفیانہ پیراڈائم میں بھی قابلِ مذمت ہے۔ استاد اویس اقبال نے سوچنے کی گزارش کی تھی، ان کے شاگرد کی بھی بس وہی گزارش ہے آپ دوستوں سے۔


ایک اعتراف۔

میری دِنوں کی محنت پر، اتنی لمبی تحریر پر مرشد اویس اقبال صاحب نے اس وقت پانی پھیر کر سب کچھ زیرو سے ملٹیپلائی کردیا جب حال ہی میں انہوں نے اپنی وال پر مندرجہ ذیل اسٹیٹس لگایا کہ؛

_______________________________________

مذہب کا سرسری مطالعہ کافی ہے۔ فلسفہ اور منطق آپ کے اندر وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ آپ کسی بھی مذہبی دعوے کی تنقیدی پڑتال کر سکیں۔

_______________________________________


کیونکہ ہم علم کے جس منہج کے قائل ہیں وہاں اختلافی بیانئیے کو پہلے اسطرح سمجھنا لازم ہے جیسے بیان کرنے والا بیان کررہا ہے تاکہ ٹھیک اسکے حقیقی فہم پر تنقید ہو، جبکہ حضورِ والا جس بات کی تعلیم دے رہے ہیں اس کو ایک متعصب زہن ہی اختیار کر کے مطلب کی بات اپنے طریق پر سمجھ کر اٹھائے گا اور بمباری شروع کردیگا۔ اسطرح معلومات کو اکٹھا کی جاسکتی ہے مگر علم چھو کر بھی نہیں گزرنا۔ جب یہ طریقہ کار ہوگا سورہ مسد پیش کرکے خدا کو ابو لھب کے ہاتھ توڑنے سے قاصر، بکری قرآن کھا گئی جیسے اعتراضات ہی ہونگے۔ اس طریقے میں کوئی بھی شخص اسلام پر نہیں؛ اسلام کو اس نے کیسے سمجھا اس پر تنقید کررہا ہوتا ہے، گویا اپنی سمجھ کی پستی پر تنقید کررہا ہے صبح و شام کرے؛ خوش رہے۔


والسلام۔

Show more
0
43
Show more