کی تمام اشاعتیں۔ Mudassir Abbas . پشاور ، Pākistān

Publications
https://avalanches.com/pk/peshawar_1937286_29_04_2022

سیاسی شعور

مدثرعباس


اس وطن عزیز میں جمہوریت کو ایک اعلی مقام حاصل ہیں، جو لوگ اس وطن عزیز کے ہمدرد ہے وہی لوگ اس وطن عزیز میں رہتے ہوئے غریب لوگوں کو انکے حقوق دلانے میں سیاسی طریقہ کار کو اپنا کر ایک حاص فلور پر غریبوں کے حقوق کیلئے لڑتے ہیں، اب یہاں پر دو قسم سیاسی لوگ سیاست کرتے ہیں جو ایک دوسرے میں ضم ہونے جارہی ہیں، ایک اعلی تعلیم یافتہ اور دوسرے اَن پڑھ لوگ، کہنے کا مطلب ہے کہ سیاست میں ایک قسم گروہ ضم ہورہی ہیں، جو کہ نا تو سیاست کا طریقہ کار جانتے ہے اور نا ہی تنظیم سازی، وہی گروہوں میں سیاسی شعور کی عدم موجودگی کے باعث یہ سیاست سے فرقہ واریت کا راستہ اختیار کرلیتی ہیں _ جو کہ اس سے بدامنی کو پورا موقع مل جاتی ہیں اور وہ اس ریاست کی ساکھ کو مٹی میں ملا کر خاک کردیتی ہیں، تو سیاست میں فرقہ واریت سے بچنے کیلئے سیاسی لیڈروں کو سب سے پہلے تعلیم و تربیت پر کام کرنا ہوگا اور اس کے بعد سیاسی شعور کو لوگوں میں ایک مہذب انداز سے پیدا کرنے ہوگا جو کہ لوگوں میں دوسرے سیاسی پارٹیوں اور اُن کے کارکنوں کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہوں، پر اس وطن عزیز میں سیاسی لیڈروں کا منشور، گالی گلوچ، چور ڈاکوں، پٹواری، یوتھیا، اسکے علاوہ سیاسی لیڈروں کو کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نا تو اس ملک عزیز میں بلوچ قوم پر ظلم ہورہاہیں نا تو یہ ملک عزیز ترقی میں کسی کے پیچھے ہیں جو کہ سیاسی لیڈر اس پر کام کریں اور اس ملک عزیز کو دنیا کی نظروں میں اہمیت دیں ..........

یہاں پر ہمارے پاس سیاسی شعور کی کمی کا امدازہ اس لگایا جاسکتا ہیں کہ کوئی جرنلسٹ سوال اٹھائے تو انکو بھی گالیوں کا ہار پہنایا جاتا ہیں اور یہ چیز پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے میں حد درجے مدد دیتا ہیں جو کہ زوال کی نشانیوں میں سے ایک ہیں


Show more
0
4
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934405_28_04_2022


افلاس اور معاشرتی بھوک


مدثر عباس

14

اگست کی رات تھی وطن کی سلامتی کا رہاتھا کہ وطن کے باسیوں نے ایک دوراندیشی جیسی گہری سوچ میں گم کردیا ـ اور یہ سلسلہ معاشرے کے سمندر کی دھاڑے مارتی ہوئی ایک زوردار لہر پر جا کے رکا، جو ہے مسئلہ غربت _ غربت کبھی انسان کو وراثت میں ملتی ہیں اور کبھی وراثت ہی انسان کو افلاس کے چوکھٹ پر لاکے پھینک دیتی ہیں - آج کل انسان اسی بلا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی بھرپور جدوجہد کررہاہے- اور جب وہ کسی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے- تو وہ قدم جو اس نے نہایت تنگدستی اور غربت کی وجہ سے رکھی ہوتی ہیں وہی اسکی عزت اور مال کی اوبال اور زوال کا سبب بن کر ابھرتی ہےـ کیونکہ جہاں پر دوسرے کے حق کو اپنا حق سمجھ کر بیچا جاتا ہے ـ وہاں پر کیونکر ایک خاندان خوشحال رہ سکتا ہیں ـ دوسری طرف جب چار بچوں کو غربت کی ٹھوکری میں لئے ایک بیوہ ان کی مستقبل کی تلاش میں مدد کی رسی کا ایک سرا تھام لیتی ہیں ـ تو وہاں پر جنسی ہوس کے بھوکے درندے رسی کا دوسرا سرا پکڑے نہایت بے پرواہی اور بے دردی سے اسکی مجبوری کو پیروں تلے روند دیتی ہیں ـ اور وہ مجبوری کی حالت میں پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے اپنے نفس کا سودا کرتی ہےـ

یہ حوس کے بھوکے اور نفس کے غلام درندے اس معاشرے کیلئے ناسور بنتی جارہی ہیں ـ جس کی بیخ کنی جتنا جلد ممکن ہوں ـ کیا جانا چاہئے - مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارا وطن جو ایک اسلامی ریاست کے ماخوذ ہے ـ

جو لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے نام پر بنا ہےـ

جو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہےـ

جس میں رہ کر ایک انسان اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہیں

آج اسکا قانون اندھا ہوچکا ہے ـ اجک اسلامی ریاست کے ہوتے ہوئے ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عزت چادر اور چاردیواری تک محفوظ نہیں ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے پھررہے ہیں ـ انتہائی افسوس کا مقام ہےـ ہمیں اپنی گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ ایک اسلامی مملکت کے ہوتے ہوئے ہم عزتوں کو محفوظ نہیں کرسکتے ـ آئیں عزم کریں! ہمیں خود اٹھنا ہوگا اور ہوس کے ان پجاریوں کا سر کچلنا ہوگا ورنہ مستقبل میں یہ ہماری نسلوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے جسکے ہم خود زمہ دار ہونگے -


Show more
0
2
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934401_28_04_2022

اہلیت بدعنوانی کو شکست دیتی ہے


  • مدثرعباس

رشوت یا بدعنوانی سے مراد ناجائز زرائع آمدنی حاصل کرنا ہےـ جو کسی فرد سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو نقصان پہنچنے کا سبب ہوـ

رشوت یا بدعنوانی جو اس وقت ایک لاعلاج مرض کی طرح ہو- اور دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں ـ جس کا فوری طور پر کوئی حل بھی ممکن نظر نہیں آرہا اس وجہ سے معاشرے تباہی کی لپیٹ میں ہےـ ایک عام آدمی سے لے کر بڑے آدمی تک لوگوں کی اکثریت اس برائی میں مبتلا ہیں ـ افسوس ناک پہلوں یہ ہے کہ حکومتوں کے اعلٰی عہدیدار سیاستدان سب کے سب اس بہتی کنگا میں ہاتھ دھوں رہے ہیں ـ یہ جمہورت اور انسانی حقوق کو کمزور کرتی ہیں سرکاری ونجی وسائل کو بہالے جاتی ہےـ لوگوں میں جب تعلیم ہوگی تو ان شعور ہوگی تو ان کا شعور بیدار ہوگا ـ جو وہ اپنے اور سہولتوں کے حصول کیلئے کوشش کرسکتے ہےـ لیکن تعلیم کی کمی بھی بدعنوانی کو فروغ دیتی ہےـ جو وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے طریقے سے اگاہ نہیں کرتے اور تعلیم کے فقدان کی وجہ سے بدعنوانی لوگ ایسے افراد کا استحصال کرتے ہے جو اپنے حقوق سے اگاہ نہیں ہوتےـ بدعنوانی کو شکست دینے کیلئے ہر انسان کی بہترین تربیت ہونی چاہئے ـ اچھی اور بہترین تربیت سب سے پہلے ماں کی گود سے ملتی ہیں، جب ماں باپ اپنے بچوں کو جس طرح تربیت دیتے ہیں تو وہ وہی راستہ اختیار کرلیتے ہیں قابلیت اور اعلٰی تعلیم اہلیت بدعنوانی کا بہترین انتقام ہےـ یہ انتقام جاری ہے اور جاری رہے گا ـ جس علاقے میں بہترین تربیت اعلٰی تعلیم قابلیت و اہلیت اور ایمانداری ہو تو وہاں بدعنوانی کا نام ونشان ہی نہیں رہتا ـ جہاں اہلیت و ایمانداری ہو تو وہاں بدعنوانی کو لازمی طور پر شکست ہوگی ـ ورنہ یہ ایسی بیماری ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہر ادارے میں یہ بیماری موجود ہےـ جب ادارے خراب ہوں تو پورا ملک زوال زوال پذیر ہوتا ہےـ بدعنوانی یا کرپشن کو ختم کرنے میں والدین اور ساتذہ کا کردار بہت اہم ہےـ اس لئے نئی نسل کو بہترین تربیت اور اخلاقیات فراہم کرے ـ تا کہ وہ غلط کام نہ کرے انصاف اور حقوق العباد کا استعمال کریں پھر سارا نظام میرٹ پر کام کریں گا جہاں میرٹ ہوگا وہی ترقی ہوگی ـ اہلیت و قابلیت کے ساتھ ساتھ بہترین کردار ہونا بھی لازمی ہے ـ جب اہلیت موجود نہ ہوں تو یہ بیماری اور بڑھتی جارہی ہےـ درجہ بندی فہرست میں پاکستان بھارت سمیت جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک شامل ہیں ـ اب بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں ـ لیکن بہت کم ہے جو بدعنوانی کو شکست دے سکتے ہیں ـ

Show more
0
2
Show more