Lahore Cantonment, Punjab, Pakistan موسم کا حال

There are no advertisements in the Lahore Cantonment yet
Thursday (26.05)
  • °C
  • °F
+36°Feels like
2 mpsWind speed
0%Probability of precipitation
Wednesday
0%
2 mps
+22°
+37°
Thursday
0%
2 mps
+27°
+41°
Friday
3%
3 mps
+30°
+44°
Saturday
4%
4 mps
+31°
+44°
Sunday
0%
5 mps
+30°
+44°
Monday
0%
3 mps
+26°
+43°
Tuesday
0%
3 mps
+25°
+43°
Wednesday
0%
3 mps
+26°
+43°
Other News Lahore Cantonment

صبر۔ ایک ایسا لفظ جو ہم اکثر سنتے ہیں۔ غم میں، پریشانی میں، درد میں اور تکلیف میں۔ یہاں تک کہ جب ہماری کوئی دعا پوری نہ ہو رہی ہو تب بھی سب سے پہلے جو لفظ ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ صبر ہوتا ہے۔ لیکن یہ صبر ہوتا کیا ہے؟

صبر عربی زبان کا لفظ ہے جس کا روٹ ورڈ (ص۔ب.ر) ہے ۔ صبر کا مطلب خود کو باندھ لینا ہوتا ہے، باز رکھنا یا خود کو منفی ردعمل سے روکنا ہے۔ صبر آنسو نہ بہانے کا نام نہیں ہے کیونکہ اگر آنسو نہ بہانے ہوتے تو اللہ آنسو بناتے ہی نہیں۔ صبر تو ایک پوزیٹو ردعمل کا نام ہے۔

صبر کا مطلب ہے :

درد اور تکلیف میں یہ یقین رکھ کر پر سکون رہنا کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے۔ اس بات پر یقین رکھنا کہ اگر غم اور پریشانی اللہ نے دی ہے تو اس کا حل بھی وہی نکالے گا۔

یہ یقین رکھنا کہ اگر وہ ہماری دعا ابھی نہیں سن رہا تو کبھی تو سنے گا۔

صبر اس چیز کا نام ہے کہ ہم اپنی اس ایک قبول نہ ہونے والی دعا سے نظریں ہٹا کر دوسری نعمتوں کو دیکھیں۔ اس وقت میں قبول ہونی والی باقی دعاؤں پر نظریں جمائیں اور خود کو مایوسی کے سمندر سے نکال لیں۔

پتا ہے ایک بار میں نے کہیں سنا تھا کہ ہمیں اللہ سے صبر نہیں مانگنا چاہئے کیونکہ اس کے بعد ہم اپنی زندگی کے ایسے فیز میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں آزمائشیں ہوتی ہیں، تکالیف ہوتیں ہیں تاکہ ہم صبر کرنا سیکھ سکیں۔

لیکن صبر کے معنی سمجھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اللہ سے صبر ضرور مانگنا چاہئے۔ صبح شام مانگنا چاہئے بلکہ ہر وقت مانگنا چاہئے کیونکہ جب ہم میں صبر ہو گا تو ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ ڈھلتا سورج دیکھ کر ہمارے اندر تنہائی کا جو غبار اٹھتا ہے وہ نہیں اٹھے گا۔ ہمارے اندر کا سمندر پر سکون ہو جائے گا۔

Positivity is the keyto happiness 🖤🖇️

Show more
0
13

اسلام علیکم

مجھے ڈائری لکھنے کا شوق ہے۔ لیکن اب میں ڈائری لکھ کے بور ہو جاتی ہوں تو میں نے سوچا کیوں نہ میں کچھ ایسا لکھوں جسے باقی لوگ بھی پڑھ سکیں اور اس سے کچھ سیکھ سکیں؟

So I made this account some time ago(April 21, 2022) and I hope we'll learn something from it۔

You guys can call me "dreamer. ''

You can suggest me topics to write about.

Show more
0
6

Title

The black dot

Once there was a girl, who was young, so talented, kind hearted, and all above an inspiration for many people. She left many people behind in search of success. She was so young. She has a good knowledge about chemicals and drugs. She dreamed of becoming an astronaut. Because she always says that she wants a roller coaster who can take her out in space. She wants to swing a sway between moon and the earth. She wants a hammock to lay between Canes Major and Minor. She wants a spring to jump over planets. She wants to drive a car on Saturn’s ring. She wants an amphibious cycle to travel the whole Milky Way. I want to slide to come back on earth after an incredible view of an enrich reality. I want to become an astronaut.

Her name was Francisca , she was hardworking. In her life there came a phase when she took a drug which can help her to get up for up to 48 hours straight. That drug also made her brain work faster. But it is well said that “Any kind of experiment needs to be investigated unless you know that it isn’t dangerous. But that silly girl doesn't know that the drug will harm her. The craziness for success and fame kills people. It is clear that when one gains success and fame they become the enemy of their own or the others, as they can’t see no one above them. So they just do anything that they don’t have to do

Francisca has lost her confidence and was depressed, she doesn't know what to do. In those days, she met a girl named Mary, who advised her to live freely and not to trust anyone, there are always ups and downs in the road of life. She added not to cry over small things and to chin-up and be happy. She told her friend that she was afraid of people’s reaction. Mary advises her not to take care of people but of herself, try to be happy with what you’re.

Francisca was at the stage where she thinks that she is bad and she can’t be good. Her friend told her that taking drugs doesn't make her a bad one or cruel. She try to attempts suicide but was failed to get rid of all. It is well said that agony will seep into your roots making you weak and lonely, frustration will begin to reek you.


Show more
2
96
Other News Pakistan

شمائلا رند


پنھنجن کانسواء ڀلا ڪھڙيون عيدو۔۔!!

عيد منعي! خوشي،راحت جنھن ڏينھن جي اچڻ سان ھڪ پاسي محبتن جو جنم ٿيندو آھي ته،ساڳئي ويلي غريبن کي غريب ھئڻ جو احساس به وڌي ويندو آھي! ڇاڪاڻ ڪنھن احساس مند شخص چواڻي ته،آئون عيد جھڙا ڀلارا ۽ خوشين جھڙا ڏينھن ناھيان ملھائيندو ڇو جو انھن خوشين وارن ڏينھن جي اچڻ سان غريبن کي پنھنجي غريب ھئڻ جو احساس وڌي ويندو آھي! عيد جو ڏينھن جتي انيڪ خوشيون کڻي کڻي حاضر ٿيندو آھي، اتي ھي ڏينھن انھي لاء ”خزان“ به بڻجي پوندو آھي! ڇاڪاڻ ته پنھنجن کان پري رھڻ ۽ وري خوشي جھڙن ڏھاڙن جي اچڻ سان جتي ڪنھن پل لاءِ خوشي محسوس ٿيندي آھي، اتي پنھنجائپ جو احساس سچ ۾ آڪٽوبر،نومبر ۽ ڊسمبر ئي لڳندو آھي٠٠ مطلب جيڪي پاڻ کي اڪيلو سمجھندا آھن نه چاھيندي به ھھڙن ڏينھن تي پنھنجن کان پري رھن ٿا، سفري يا وري جسماني مطلب نفرتن جي نگري ۾ ڦاٿل ماڻھو ويجھو ھوندي به ڄڻ زميني وڇوٽي تي ھوندا آھن!عيد ھڪ خوشين جو وقت آهي، پر اهو اسان مان انهن ماڻهن لاءِ به بيحد اداسي آهي، جيڪي پنهنجي خاندان جي ميمبرن سان گڏ خوشيون ونڊ نٿا ڪن ٿا يقينن سڀني رشتن سان گڏ ماءُ پيءُ جي غير موجودگي جو به ڪو احساس ٿي نٿو سگھي!جيتوڻيڪ منهنجي ماءُ کي وڇڙيل ڇھ سال ٿي ويا آهن، ۽ منهنجي بابا سائين کي چوڏهن سال ٿيا آهن،، سچ ۾ سوچيندي آھيان ڀلا امڙ ۽ بابي کان سواءِ ڀلا شمائلا جون عيدون به ڪھڙيون بس رسم نڀائڻ عيد ملھائڻ مجبوري آھي باقي اندر جي اڌمن جي ور چڙھيل خاص طور تي پنھنجائپ جو احساس ۽ جذبو رکندڙن لاءِ خوشين جي سڀئي ڏينھن ڄڻ وڌيڪ اذيت ڀريا لڳندا آھن،جڏهن ته دنيا جا ھر ڪم ھميشه رھن ٿا، پر ماءُ پيءُ ھميشه ناهي رھندا، ماءُ پيءُ کي وقت ڏيڻ گهرجي عيدون به انھن ساڻ ھونديون آھن، ۽ جن جا ماءُ پيءُ ھن دنيا ۾ نه آھن، ته انهن کي گھرجي ته قبرستان تي وڃن،

Show more
0
8
https://avalanches.com/pk/peshawar_1937286_29_04_2022

سیاسی شعور

مدثرعباس


اس وطن عزیز میں جمہوریت کو ایک اعلی مقام حاصل ہیں، جو لوگ اس وطن عزیز کے ہمدرد ہے وہی لوگ اس وطن عزیز میں رہتے ہوئے غریب لوگوں کو انکے حقوق دلانے میں سیاسی طریقہ کار کو اپنا کر ایک حاص فلور پر غریبوں کے حقوق کیلئے لڑتے ہیں، اب یہاں پر دو قسم سیاسی لوگ سیاست کرتے ہیں جو ایک دوسرے میں ضم ہونے جارہی ہیں، ایک اعلی تعلیم یافتہ اور دوسرے اَن پڑھ لوگ، کہنے کا مطلب ہے کہ سیاست میں ایک قسم گروہ ضم ہورہی ہیں، جو کہ نا تو سیاست کا طریقہ کار جانتے ہے اور نا ہی تنظیم سازی، وہی گروہوں میں سیاسی شعور کی عدم موجودگی کے باعث یہ سیاست سے فرقہ واریت کا راستہ اختیار کرلیتی ہیں _ جو کہ اس سے بدامنی کو پورا موقع مل جاتی ہیں اور وہ اس ریاست کی ساکھ کو مٹی میں ملا کر خاک کردیتی ہیں، تو سیاست میں فرقہ واریت سے بچنے کیلئے سیاسی لیڈروں کو سب سے پہلے تعلیم و تربیت پر کام کرنا ہوگا اور اس کے بعد سیاسی شعور کو لوگوں میں ایک مہذب انداز سے پیدا کرنے ہوگا جو کہ لوگوں میں دوسرے سیاسی پارٹیوں اور اُن کے کارکنوں کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہوں، پر اس وطن عزیز میں سیاسی لیڈروں کا منشور، گالی گلوچ، چور ڈاکوں، پٹواری، یوتھیا، اسکے علاوہ سیاسی لیڈروں کو کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نا تو اس ملک عزیز میں بلوچ قوم پر ظلم ہورہاہیں نا تو یہ ملک عزیز ترقی میں کسی کے پیچھے ہیں جو کہ سیاسی لیڈر اس پر کام کریں اور اس ملک عزیز کو دنیا کی نظروں میں اہمیت دیں ..........

یہاں پر ہمارے پاس سیاسی شعور کی کمی کا امدازہ اس لگایا جاسکتا ہیں کہ کوئی جرنلسٹ سوال اٹھائے تو انکو بھی گالیوں کا ہار پہنایا جاتا ہیں اور یہ چیز پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے میں حد درجے مدد دیتا ہیں جو کہ زوال کی نشانیوں میں سے ایک ہیں


Show more
0
4
https://avalanches.com/pk/peshawar_1934405_28_04_2022


افلاس اور معاشرتی بھوک


مدثر عباس

14

اگست کی رات تھی وطن کی سلامتی کا رہاتھا کہ وطن کے باسیوں نے ایک دوراندیشی جیسی گہری سوچ میں گم کردیا ـ اور یہ سلسلہ معاشرے کے سمندر کی دھاڑے مارتی ہوئی ایک زوردار لہر پر جا کے رکا، جو ہے مسئلہ غربت _ غربت کبھی انسان کو وراثت میں ملتی ہیں اور کبھی وراثت ہی انسان کو افلاس کے چوکھٹ پر لاکے پھینک دیتی ہیں - آج کل انسان اسی بلا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی بھرپور جدوجہد کررہاہے- اور جب وہ کسی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے- تو وہ قدم جو اس نے نہایت تنگدستی اور غربت کی وجہ سے رکھی ہوتی ہیں وہی اسکی عزت اور مال کی اوبال اور زوال کا سبب بن کر ابھرتی ہےـ کیونکہ جہاں پر دوسرے کے حق کو اپنا حق سمجھ کر بیچا جاتا ہے ـ وہاں پر کیونکر ایک خاندان خوشحال رہ سکتا ہیں ـ دوسری طرف جب چار بچوں کو غربت کی ٹھوکری میں لئے ایک بیوہ ان کی مستقبل کی تلاش میں مدد کی رسی کا ایک سرا تھام لیتی ہیں ـ تو وہاں پر جنسی ہوس کے بھوکے درندے رسی کا دوسرا سرا پکڑے نہایت بے پرواہی اور بے دردی سے اسکی مجبوری کو پیروں تلے روند دیتی ہیں ـ اور وہ مجبوری کی حالت میں پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے اپنے نفس کا سودا کرتی ہےـ

یہ حوس کے بھوکے اور نفس کے غلام درندے اس معاشرے کیلئے ناسور بنتی جارہی ہیں ـ جس کی بیخ کنی جتنا جلد ممکن ہوں ـ کیا جانا چاہئے - مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارا وطن جو ایک اسلامی ریاست کے ماخوذ ہے ـ

جو لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے نام پر بنا ہےـ

جو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہےـ

جس میں رہ کر ایک انسان اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہیں

آج اسکا قانون اندھا ہوچکا ہے ـ اجک اسلامی ریاست کے ہوتے ہوئے ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عزت چادر اور چاردیواری تک محفوظ نہیں ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے پھررہے ہیں ـ انتہائی افسوس کا مقام ہےـ ہمیں اپنی گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ ایک اسلامی مملکت کے ہوتے ہوئے ہم عزتوں کو محفوظ نہیں کرسکتے ـ آئیں عزم کریں! ہمیں خود اٹھنا ہوگا اور ہوس کے ان پجاریوں کا سر کچلنا ہوگا ورنہ مستقبل میں یہ ہماری نسلوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے جسکے ہم خود زمہ دار ہونگے -


Show more
0
2