New Mirpur, Azad Kashm, Pakistan موسم کا حال

There are no advertisements in the New Mirpur yet
Sunday (14.08)
Humid and Mostly Cloudy
+27
  • °C
  • °F
+32°Feels like
2 mpsWind speed
13%Probability of precipitation
Sunday
77%
2 mps
+26°
+33°
Monday
95%
4 mps
+24°
+29°
Tuesday
43%
2 mps
+24°
+32°
Wednesday
31%
2 mps
+24°
+32°
Thursday
52%
2 mps
+25°
+32°
Friday
70%
2 mps
+24°
+29°
Saturday
96%
2 mps
+23°
+28°
Sunday
91%
2 mps
+22°
+28°
Other News New Mirpur

" خانہ بدوشوں کی طرز زندگی اور مسائل "

از قلم :- شبیر احمد ڈار

آشیانے کا بتائیں کیا پتا خانہ بدوش

چار تنکے رکھ لیے جس شاخ پر گھر ہو گیا (قمر جلالوی )

خانہ بدوش فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد وہ شخص جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہو . انگریزی ادب میں اس کے لیے " vagrant " کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے . خانہ بدوشوں کی طرز زندگی عام افراد سے مختلف ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہوتا . خانہ بدوش پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں .گزشتہ روز ضلع باغ آزادکشمیر کے خطہ منگ بجری میں موجود خانہ بدوشوں سے ان کی طرززندگی اور مسائل کے حوالے سے راقم نے استفسار کیا تو ان کا جواب سن کر دل افسردہ ہوا. ان کے بچوں کی حالت زار نہایت ابتر ہے . پاؤں سلامت ہیں مگر پہننے کو جوتے نہیں .بدن کےنصف حصے پر کپڑے ہیں مگرمیلے کچلےاور سونے کونرم بستر نہیں بل کہ کانٹوں بھری زمین ہے . ان کی طرز زندگی اور مسائل انہی کی زبانی ملاحظہ کریں.


خانہ بدوشوں سے جب ان کا تعلق پوچھا گیا کہاں سے ہیں تو ان کا کہنا تھا " ہم خانہ بدوش دارلحکومت مظفرآباد سے آئے ہیں اور عباسی قوم سے تعلق ہے ." جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر کیا سانحہ ہوا جس کے بعد آپ اس طرح مشکلات بھری زندگی بسر کر رہے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ


" زلزلے کے کچھ عرصے کے بعد سے ہم اسی ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں .کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں اور نہ ہی کسی نے مدد کی جس وجہ سے ایسی زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوئے . ان کے ذریعہ روزگار کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ


ہم غریب خانہ بدوش کچھ کباڑ کا کام کرتے کچھ پھیری والے ہیں اور کچھ ڈرائیوری کر کے زندگی بسر کر رہے .خود کماتے ہیں خود کھاتے ہیں کوئی تعاون کرنے والانہیں کچھ نہ میسر ہوتو آرام کی نیند سو جاتے . "


بدقسمتی سے خانہ بدوشوں کو ہمارے معاشرے میں اس اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جب اس حوالے سے ان سے سوال کیا کہ آپ سفر کرتے ہیں تو لوگوں کا آپ کے بارے میں رویہ کیا ہوتا ہے ؟ اور آپ لوگوں کے بارے میں کیا سوچھتے ہیں ؟ تو ان کا سادہ جواب ملاحظہ کریں کہ " کچھ لوگ ہمیں تنگ کرتے ہیں مگر کچھ اچھے لوگ بھی موجود ہیں . ہمارا رویہ ہر شخص سے اچھا ہوتا ہر شخص کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے کیوں کہ ہم غریب اور بے گھر لوگ کسی سے بحث کریں گے اپنا ہی نقصان ہو گا." ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کےبارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ " بچوں کو کیا تعلیم دیں کچھ رہنے کو جگہ ہو گی کوئی مستقل ٹھکانہ ہو گا تو تعلیم دیں گے . پیٹ بڑی مشکل سے بھرتا ہے تو تعلیم کیسے دیں گے ؟ دن کو جاتے ہیں کام پر اور جو لاتے ہیں اس سے ضروریات زندگی کی اشیاء لاتے ہیں . اور جب کچھ نہ ہو تو یہیں بیاباں علاقے میں پڑےہیں کوئی پرسان حال نہیں. کوئی فریاد سننےوالا نہیں . لوگوں کو پھر بھی 12000 حکومت دےرہی ہمیں اس سے بھی محروم رکھا ہے ." جب ان سے ان کے بچوں کے خیالات کےبارے میں سوال کیاکہ کیا آپ کے بچے نہیں چاہتے ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح زندگی بسر کریں کھیلیں اور تعلیم بھی حاصل کریں تو ان کا درد بھرا جواب تھا کہ" بچے بھی دیکھیں چھوٹے چھوٹے ہیں اسی طرح گھوم رہے ہیں اور ہمیں اکثر کہتے رہتے کہ پاپا! ہمیں اسکول بھیجواور مدرسے بھیجو . ہم بھی آخر مسلمان ہیں نبیﷺ کا کلمہ پڑھنے والے ہیں. کوئی ہندو نہیں اور نہ ہی ہم بھارت سے نہیں آئے ہیں یہیں کہ باشندے ہیں مگر ہمارے پاس وسائل نہیں .تین سو سے چار سو روپے کماتے بڑی مشکل سے زندگی بسر کرتے . "


جب ان کی شادی بیاہ کی رسومات کے حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا "کہ شادی بیاہ ہماری سادگی کے ساتھ ہوتی ہے . ہم غریب لوگ ہیں اپنے ہی قبیلے میں شادی کرتے باہر کسی سے رشتہ داری نہیں . ہمارا جہیز وغیرہ کا کچھ نہیں ہوتا ہم انگوٹھی پہنا دیتے اور نکاح کر لیتے ہیں . " خانہ بدوش ہر جگہ اکھٹے رہتے اسی لیے جب ان سے میں نے سوال کیا کہ آپ خانہ بدوش اتنی بڑی تعداد میں کیسے منظم ہوتے ہیں تو کہتے ہیں " یہ ہمارا قبیلہ ہے ہم اپنے قبیلے میں میں 300 سے 400 گھر رکھتے ہیں کچھ گڑھی دوپٹہ ، کچھ مانسہرہ ، کچھ ایبٹ آباد ، کچھ کوٹلی اور کچھ کہیں پر موجود ہیں . دس سے پندرہ گھر ایک قبیلے میں ہیں یہاں اور سب کا تعلق ایک ہی علاقے سے ہے کوئی باہر سے متاثرین آئیں ہم انہیں بھی خوش آمدید کہتے ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں ہم سے جو ہوتا مدد کرتے" .


خانہ بدوش خواتین کے بارے میں جب میں نے سوال کیا کہ آپ کی خواتین کس پیشہ میں مہارت رکھتی ہیں تو کہتے " ہماری خواتین محنتی ہیں اور گھروں میں کام کاج کرتی ہیں جس سے گھر کا نظام چل رہا ہوتا . "ان کی طرز زندگی اور مسائل کے حوالے سے سوال کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گے اور فورا مجھے اپنی رہائش گاہ میں لے گےاور کہا "ہم غریب خانہ بدوش ہیں ہماری رہائش گاہ دیکھیں ٹینٹ پھٹا ہوا ہے اور یہ برتن دیکھیں کیسے بکھرے پڑے ہیں . یہاں بکریاں نہیں رہتی جہاں ہم انسان زندگی بسر کر رہے .یہاں جانور بھی رہنا پسند نہیں کریں گے جہاں ہم رہتے . سونے کو کوئی خاص بستر وغیرہ بھی نہیں ہے . بارش لگی تو کدھر جائیں گے . لوگوں کی دیواریں ہیں ہماری دیواریں کدھر ہیں . لوگوں کے گھروں میں دروازے ہیں ہمارے دروازے کدھر ہیں . لوگ دستک دےکر آتے لیکن یہاں دستک کی جگہ بھی نہیں ہماری عورتیں ان پھٹے ٹینٹ میں بغیر پردے کے بیٹھی ہوتی تو نامحرم کی نگاہ ان پر پڑ جاتی . پردہ ہے ہی نہیں. یہاں کوئی حملہ کر دے تو ہم کیا کریں گے کیسے اپنا تحفظ کریں گے کوئی جنگلی جانور ہی آ جائے تو کیا کریں گے . بس اللہ کے سوا کوئی ہمارا محافظ نہیں . "


ان سے جب پوچھا آپ ایک جگہ پر کتنا عرصہ قیام کرتے ہیں ؟ تو کہتے ہیں " بیس دن یا ایک ماہ ایک جگہ پر قیام کرتے . پہلے سے کسی جگہ کا انتخاب نہیں کیا ہوتا جہاں سرسبز زمیں خالی ہوتی وہیں پر کچھ عرصہ قیام کرتے . سرد علاقے کو ترجیح دیتے ہیں ." آخری سوال ان سے تھا آپ حکومت سے کیا اپیل کرتے ہیں ؟ تو جواب ملاکہ " اس سے پہلے بھی آواز اٹھائی ہے ہماری کوئی نہیں سنتا . جب الیکشن آتے ہم ووٹ دیتے مگر کچھ نہیں ملتا . ہر سال مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیتے مگر کسی نے اب تک مدد نہ کی . زلزلے کےبعد سے اب تک یوں ہی دربدر ہیں . حکومت سے یہی التجا ہے کہ ہماری مدد کریں خانہ بدوشوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے . انہیں بھی کہیں مخصوص ٹھکانہ دیں . "


یہ تھے کچھ سوالات جو ان سے پوچھے اور جواب بھی آپ نے یقینا ملاحظہ کیے ہیں . آپ سے یہی گزارش ہے ان کی آواز بنیں ان کی آواز احکام بالا تک پہنچائیں اور ان کو ہو سکے تو عید کی خوشیوں میں شامل کریں ان کے بچوں کو کپڑے اور کتابیں دیں . کیوں کہ یہ کسی اور کی نہیں ہماری اپنی ریاست ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ......

Show more
0
55

باغ کا اُبھرتا ستارہ ایک باہمت نوجوان " شبیر احمد ڈار"


از قلم :- مریم جاوید


کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کسی انسان کے ساتھ ہمارا خونی رشتہ نہیں ہوتا مگر احساس ہمدردی عزت و عقیدت احترام کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اور یہی ایک انسانی معاشرے کی خوبصورت روایت ہے۔ آج سے تقریباً چوبیس سال قبل 29 اپریل 1997ء کو آزادکشمیر کے سرسبز خطہ چمیاٹی (ضلع باغ تحصیل دھیرکوٹ) میں ایک کشمیری خاندان میں ایک نڈر بےباک کشمیریت سے لبریز بچے نے جنم لیا جس کا نام ان کے والد محترم نے شبیر احمد رکھا ۔ اِن کے والد محترم محمد رفیق ڈار نے1989ء میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کی اور بیس کیمپ آزادکشمیر میں داخل ہوئے جہاں ان کے ساتھ دیگر ہزاروں کشمیری گھرانوں نے بھی ہجرت کی اور سوائے کلمہ طیبہ کے کسی کے ساتھ کوئی رشتہ نہ تھا ۔ حال میں آپ مِنگ بجری مہاجر کیمپ میں مقیم ہیں۔


آپ کی پیدائش کے بعد ہر والدین کی طرح آپ کے والدین کو بھی آپ سے بہت سی اُمیدیں وابستہ تھیں اور ہونی بھی چاہیے ۔ منگ بجری ریڈفاونڈیشن ہائی اسکول میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی بوائز ہائی اسکول منگ بجری سے آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا پھر گورنمنٹ بوائز ہائی سیکنڈری کالج ہاڑی گہل سے ایف- اے کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج باغ سے بی-اے کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیا اُس کے بعد یونی ورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد میں شُعبہ اُردو میں اپنا تحقیقی و تنقیدی مقالہ بہ عنوان " جموں کشمیر طلوع ادب کی ادبی خدمات " کے دفاع کے بعد ماسٹر کہلائے ۔


جناب شبیر احمد ڈار باغ کا ایک چمکتا ستارہ ہیں سادہ دلی، نیک اسلوبی، اعلیٰ ظرفی، سادہ مزاجی سے اِن کے استائذہ کرام تو متاثر تھے ہی کہ اُن کے عزیز و اقارب دوستوں کی لمبی فہرست میں بھی اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ محترم نے کالم نگاری کی دُنیا میں قدم جلد ہی جِما لیے بڑی داد بھی وصول کی آپ کے استاد محترم ڈاکٹر میر یوسف میر لیکچرار شعبہ اردو جامعہ کشمیر مظفرآباد نے آپ کی قابلیت اور صلاحیت کو پرکھتے ہوئے اور اچھے استاد کی حیثیت سے قلم کو ہتھیار بنانے کا مشورہ دیا جو کہ یہ مشورہ آپ کے لیے مفیدتر ثابت ہُوا أپ نے بے شمار کالم لکھے کشمیر کی ثقافت، مہاجرین جموں کشمیر 1990ء کی ہجرت کے مناظر، مہاجرینِ کشمیر 1990ء کے مسائل، کشمیری زبان، خواجہ سرا اور ہمارا روایہ، ہکلاہٹ، ہمارے بنیادی مسائل، کورونا وائرس ، منشیات سے پاک کشمیر ، نئ نسل کی تباہی میں منشیات کا کردار ، فرہاد احمد فگار تعارفی مطالعہ ، استاد محترم میر یوسف میر ،خطہ کشمیر کا نام ور شاعر سید شہباز گردیزی اردو گنتی، ایسے اور بھی بہت سے کالم جو محترم شبیر احمد ڈار صاحب نے لکھے اور آپ ایک عمدہ قسم کے لکھاری ہیں۔ چوٹی کے لکھنے والوں میں آپ کا شمار ہوتا جا رہا ہے۔ جناب شبیر احمد ڈار روزنامہ قومی سفیر کے ساتھ بہ حیثیت رپورٹر بھی فرائض سر انجام دیتے رہے اور روزنامہ صاف صاف ، روز نامہ شاداب اور دیگر اخبارات میں بہ حیثیت نامہ نگار اپنے فرائض سر انجام دے رہے ۔


آپ کے بارے میں چند ماہ قبل کچھ نہیں جانتی تھی لیکن جب میری نظر ان کے کالموں پر پڑی تو بہت اچھے لگے اُس کے بعد جب بھی اِن کا کالم آتا میں شوق سے پڑھتی اب بھی ایسا ہی سلسلہ چل رہا ہے جس حد تک مجھے لکھنے کا شوق تھا مجھے امید نہیں تھی کہ میرے کالم لوگ پڑھیں گے اُنہیں پسند کرنا تو دُور کی بات تھی۔۔۔۔۔ مگر جناب شبیر احمد ڈار صاحب نے سوشل میڈیا پر میرے کالم کو پڑھا اور پھر مجھے ایک استاد کی طرح راہنمائی کی کیا کہ ایسا لکھیں ایسے موضوعات کا انتحاب کریں یہاں یہ نہیں یہ الفاظ زیادہ بہتر رہے گا پھر مجھے لگا کہ کیوں نہ محترم پر اپنے ٹوٹے پھوٹے کچھ الفاظ لکھے جائیں۔آپ کے کالم روزنامہ شاداب، روزنامہ صاف صاف ، روز نامہ بھاشا نیوز ، روز نامہ باغ ٹائمز ، روز نامہ تلافی ، روز نامہ آوازہ ، روز نامہ قومی سفیر اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں کچھ کالم بین الاقوامی اخبار اور جرائد بھی بھی شائع ہوئے ۔ نیز آپ مختلف ویب چینلز کے ساتھ اس کے علاوہ باغ کا ایک بڑا نام (کے ڈی آئی) نیوز نیٹ ورک کے ساتھ بھی بہ حیثیت کالم نگار منسلک ہیں۔آپ کی شخصیت اور کالم نگاری پر تین کالم بھی لکھے جا چکے ہیں .


بہ طور صحافی ہمیشہ سچ بولنے نڈر پن سے ہر بات کو سچائی سے پیش کرنے میں اور لوگوں کے سامنے لانے میں کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا بہت سارے لوگوں کی باتیں بھی سُننی پِڑی مگر محترم نے ہر مشکل کا مقابلہ کیا کئ بار آپ کا حوصلہ پست کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال ہوئے لیکن جناب شبیر احمد کے آگے تمام تر مشکلات وہ تمام تر ہتھکنڈے بے کار ثابت ہوئے اُنہیں مُنہ کی کھانی پڑئی۔ جتنا میں محترم کے بارے میں پڑھ سکی جان سکی اُتنا کہوں گی کہ جناب کبھی بھی اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھ سکتے کہ جب تک وہ قلم کا استعمال نہ کر لیں اپنے دل سے اُن باتوں کو قلم کے ذریعے بیان نہ کر لیں جو کہ کچھ کشمیریوں کی سسکیوں کچھ غربت سے تنگ آئے غریبوں کی سسکیوں کی أواز کے طور پر آپ کو اندر ہی اندر تنگ کر رہی ہوتی جب آپ قلم سے اُن آوازوں کو انصاف دلانے کے لیے الفاظ چُنتے ہیں تو پھر جا کر أپ مطمئن ہوتے ہیں اور اصل میں ایک لکھاری کی پہچان ہی یہی ہے کہ جب تک وہ اپنے دل سے دوسروں کا درد محسوس نہیں کرئے گا وہ اچھا لکھاری بھلا کیسے کہلائے گا۔۔۔۔


آپ کے سب کالم ہی عمدہ قسم کے ہیں مگر اِن کے کالم خواجہ سرا اور ہمارا رویہ،ہکلاہٹ اور منشیات کے حوالے سے مجھے بے حد پسند آئے نوجوانوں کو ایک غلط راہ منشیات پہ چلنے سے روکنے کے لئے ایک قلمی مہم بھی چلائی جو کہ بہت اچھی ثابت ہوئی آج کل کے نوجوانوں میں مثبت تبدیلی کا جذبہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ نہایت بہادر محبِ وطن کشمیری ہیں۔


شبیر احمد ڈار صاحب کی شخصیت ایسی ہے کہ لکھنے بیٹھ جاؤں تو پہلی بات کہ میرے پاس الفاظ ہی کم پڑھ جائیں گے اور دوسرا الفاظ کی کمی پوری ہو بھی جائے تو اوراق کم پڑھ جائیں گے اس کم عمری میں کامیابیوں سے ہم کنار ہونے والا ایسا نوجوان ستارہ اگر چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے نکلیں تو ملنا بہت مشکل ہے۔باغ کا یہ اُبھرتا ستارہ جو علم کی روشنی اپنے قلم سے پھیلانے میں مشغول ہےآپ سے ملاقات ایک دلی خواہش ہے آپ کے کالم پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی عالم کی وہ باتیں جو آپ کو بلندیوں پر لے جائے۔۔۔۔ کہاں آپ اتنے بڑے لکھاری اور کہاں میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ،،،،،،،، میں نے تو اپنا پہلا کالم ۸ مارچ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لکھا تھا اور اب تک کوئی ۵ سے ۷ کالم میں نے لکھے ہوں گے جو کہ (کے ڈی أئی) نیٹ ورک کے تعاون سے اُن کو پذیرائی ملی۔ میں یہ نہیں جانتی کہ میں نے کیا صحیح لکھا کیا غلط مگر جو محترم کے بارے میں پڑھا جو معلومات ملی وہ کچھ کچھ بیان کر سکی ہوں اتنا کہوں گی کہ آج سے کچھ سال گزرنے کے بعد جب آپ پر میں یا کوئی اور کالم لکھے گا تو تب تک آپ مزید کامیابیوں سے ہم کنار ہوچکے ہوں گے کیوں کہ آپ میں جو لگن جو جذبہ ہے میں نے کبھی کسی نوجوان میں نہیں دیکھا اور کامیابی آپ کے قدم کیوں نہ چومے آپ کے ساتھ اِن کشمیریوں کی دُعائیں جن کے لئے آپ نے آواز بلند کی اور اُن استائذہ کرام کی دُعائیں اور والدین کی دُعائیں ہیں کہ جن کا نام أپ نے اتنا روشن کیا اللہ پاک آپ کو آسمان کی بلندیوں تک لے جائے ہمیشہ کامیاب رہیں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آپ کی دُعائیں کی طالب مریم جاوید)

Show more
0
41
https://avalanches.com/pk/new_mrpur__1585597_01_05_2021

" اردو گنتی "


از قلم :- شبیر احمد ڈار


اردو زبان کو ہماری قومی زبان کا درجہ حاصل ہے مگر عہد حاضر میں اس کے ساتھ سوتیلا سلوک برتا جا رہا جس وجہ سے اس کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں .اگر عہد حاضر میں اردو کا کوئی مقام ہے تو وہ کلاسیکی شعرا و ادبا کی وجہ سے ہے . آج طلبہ سے اگر حروف تہجی لکھنے یا پڑھنے کا کہا جائے تو اس میں بھی لڑکھڑا جاتے ہیں . انگریزی میڈیم ہو یا اردو میڈیم ،نجی تعلیمی ادارے ہوں یا سرکاری تعلیمی ادارے طلبہ کو اردو گنتی لکھنے اور بولنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں . جب ان کے سامنے اکتیس ، انہتر ، اناسی ، نواسی ، چوالیس وغیرہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے چہرے کے آثار ایسے بدل جاتے جیسے جنات کے نام لے لیے ہوں .


اردو گنتی لکھتے وقت بھی ہم سے بہت سی املائی غلطیاں سرزرد ہوتی ہیں .جیسے اکیاون کو اکاون ، اکیانوے کو اکانوے ، نواسی کو انانوے وغیرہ .اور پڑھنے میں بھی تلفظ کی غلطی سرزرد ہوتی ہے . طلبہ کے ساتھ اساتذہ کو بھی اردو گنتی میں مشکلات کا سامنا ہے یہ سب اس لیے کیوں کہ ہم جدید دور میں مغربی طرز زبان ، طرز معاشرت کو اپنانا چاہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہم اپنی قومی زبان بھی اچھے سے نہ بول پاتے ہیں اورنہ ہی لکھ سکتے ہیں . امتحانات میں طلبہ کو جب اردو گنتی میں رول نمبر لکھنے کا کہا جائے تو سب لڑکھڑا جاتے .آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے ؟


کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت کو ترقی نہ دے . ہم بچوں کو ابتدا ہی سے انگریزی علوم کی جانب دھکیل رہے ان کو اردو کی بنیادی چیزیں بھی اچھے سے تیار نہیں . بچے اردو لکھنے ، بولنے اور پڑھنے میں غلطی کر رہے اور اردو زبان کی اہمیت و افادیت سے دور ہیں . اردو گنتی سیکھنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے آئیں مل کر فروغ اردو کے لیے کام کریں اور بچوں کو بھی اردو کی بنیادی چیزیں سیکھائیں اور خود بھی سیکھیں . اردو کی ایک سے سو تک گنتی ابھی تیار کریں اور بچوں کو بھی تیار کروائیں اور پھر کبھی اردو گنتی لکھتے وقت ہمیں مشکلات پیش نہ آئیں .


ایک ، دو ، تین ، چار ، پانچ ، چھ ، سات ،آٹھ ، نو ، دس، گیارہ ، بارہ ، تیرہ ، چودہ ، پندرہ ، سولہ ، سترہ ، اٹھارہ ، انیس ، بیس ، اکیس، بائیس ، تیئس ، چوبیس ، پچیس، چھبیس ، ستائیس ، اٹھائیس ، انتیس ، تیس ، اکتیس ، بتیس ، تینتیس ، چونتیس ، پینتیس، چھتیس ، سینتیس ، اڑتیس ، انتالیس ، چالیس ، اکتالیس ، بیالیس ، تینتالیس ، چوالیس ، پینتالیس ، چھیالیس ، سینتالیس ، اڑتالیس ، انچاس ، پچاس .


اکیاون ، باون ، تریپن ، چون ، پچپن ، چھپن ، ستاون ، اٹھاون ، انسٹھ ، ساٹھ ، اکسٹھ ، باسٹھ ، تریسٹھ ، چونسٹھ، پینسٹھ ، چھیاسٹھ ، سڑسٹھ، اڑسٹھ ، انہتر ، ستر ، اکھتر ، بہتر ، تہتر ، چوہتر ، پچھتر ، چھتر ، ستتر ، اٹھتر ، اناسی ، اسی ، اکیاسی ، بیاسی ، تراسی ، چوراسی ، پچاسی ، چھیاسی ، ستاسی ، اٹھاسی ، نواسی ، نوے ، اکیانوے ، بانوے ، ترانوے ، چورانوے ، پچانوے ، چھیانوے ، ستانوے ، اٹھانوے ، ننانوے ، سو .

Show more
0
32
Other News Pakistan